ٹرمپ کی ایران کی نئی تجویز پر سکیورٹی ٹیم سے مشاورت: وائٹ ہاؤس

بریفنگ کے دوران سوالات کے جواب دیتے ہوئے لیویٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کے حوالے سے تجویز کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے سے متعلق پیش کی گئی نئی تجویز پر اپنی اعلیٰ قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔

بریفنگ کے دوران سوالات کے جواب دیتے ہوئے لیویٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کے حوالے سے تجویز کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

روئٹرز کے مطابق اس تجویز میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی بات شامل ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ ٹرمپ کے بنیادی مطالبات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز، جو تیل کی ترسیل کا ایک اہم بحری راستہ ہے، کھلا رہے اور ایران اپنا افزودہ یورینیم حوالے کرے۔

لیویٹ نے مزید کہا: ’میں یہ نہیں کہوں گی کہ وہ اس تجویز پر غور کر رہے ہیں، صرف اتنا کہہ سکتی ہوں کہ آج صبح اس پر بات چیت ہوئی ہے، جس پر میں ابھی پیشگی کچھ نہیں کہنا چاہتی۔ اس معاملے پر آپ خود صدر سے ہی سنیں گے۔‘

 

اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ کی یہ اہم ملاقات ایسے وقت ہوئی جب پاکستانی ثالثی میں فریقین کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو رواں ماہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرایا۔ یہ مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والی پہلی اور واحد کوشش تھے، جس نے عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اے بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق تہران کی جانب سے پیش کردہ نیا معاہدہ واشنگٹن کی بنیادی شرائط پر پورا نہیں اترتا۔

جب کہ ایکسیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے اس مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اس اہم بحری گزرگاہ پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی تجویز شامل تھی جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی بات کی گئی تھی۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اسلام آباد کا حالیہ دورہ اس امید کو تقویت دے رہا تھا کہ ہفتے کے اختتام پر واشنگٹن کے ساتھ نئے مذاکرات ہو سکتے ہیں تاہم ٹرمپ نے اپنے نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا تھا۔

ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران مذاکرات چاہتا ہے تو ’وہ ہمارے پاس آ سکتے ہیں یا ہمیں کال کر سکتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا