امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ کے معاملے پر پیر کو اپنی اعلیٰ سکیورٹی اور خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ اہم مشاورت کریں گے۔
صدر ٹرمپ کی یہ اہم ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب پاکستانی ثالثی میں فریقین کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو رواں ماہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرایا۔ یہ مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والی پہلی اور واحد کوشش تھے، جس نے عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔
ایکسیوز کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ پیر کو اپنی قومی سکیورٹی اور خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ اس معاملے پر آئندہ لائحہ عمل پر بات کریں گے۔
اے بی سی نیوز نے بھی امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ ایران سے متعلق اپنے اہم سکیورٹی مشیروں سے ملاقات کریں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اے بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق تہران کی جانب سے پیش کردہ نیا معاہدہ واشنگٹن کی بنیادی شرائط پر پورا نہیں اترتا۔
جب کہ ایکسیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے اس مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اس اہم بحری گزرگاہ پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی تجویز شامل تھی جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی بات کی گئی تھی۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اسلام آباد کا حالیہ دورہ اس امید کو تقویت دے رہا تھا کہ ہفتے کے اختتام پر واشنگٹن کے ساتھ نئے مذاکرات ہو سکتے ہیں تاہم ٹرمپ نے اپنے نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا تھا۔
ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران مذاکرات چاہتا ہے تو ’وہ ہمارے پاس آ سکتے ہیں یا ہمیں کال کر سکتے ہیں۔‘