امریکہ سے معاہدہ اسرائیل کے لبنان سے انخلا سے مشروط: ایران

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ معاہدے میں اسرائیلی انخلا کی کوئی شرط شامل نہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے 16 جون 2026 کو جاری کی گئی اس تصویری دستاویز میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے اور خطے کی صورت حال پر تہران میں غیر ملکی ممالک کے سفیروں اور سفارتی نمائندوں کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)

ایران کے ایک اعلیٰ سفارت کار نے منگل کو کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے تحت اسرائیل کو لبنان سے انخلا کرنا ہوگا۔ یہ ایسی شرط ہے جسے اسرائیل پہلے ہی مسترد کر چکا ہے اور یہ معاہدہ ناکام ہونے کا سبب بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مکمل جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں اور حکام بعض اوقات اس کے مندرجات کے بارے میں متضاد تشریحات پیش کرتے رہے ہیں۔

اگرچہ اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں، لیکن 28 فروری کو ایران پر امریکی حملوں میں شامل ہونے کے بعد وہ جنگ کا حصہ بن گیا تھا۔ اسرائیل نے لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہ حزب اللہ کے خلاف بھی جنگ لڑی ہے اور لبنان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جنوبی لبنان پر اسرائیل کا مسلسل قبضہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگا۔

انہوں نے کہا: ’جب تک اسرائیلی افواج ان علاقوں سے واپس نہیں جاتیں جن پر انہوں نے اس جنگ کے دوران قبضہ کیا، جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔‘

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ معاہدے میں اسرائیلی انخلا کی کوئی شرط شامل نہیں جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے پیر کو کہا تھا کہ اسرائیل لبنان میں ’جتنی دیر ضروری ہوا‘ موجود رہے گا۔

جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات اس قسم کے اختلافات سے پہلے بھی متاثر ہوتے رہے ہیں، جس کے باعث ایک طویل مگر غیر مستحکم جنگ بندی تو قائم رہی، تاہم وہ مستقل امن میں تبدیل نہ ہو سکی۔ اس صورت حال نے آبنائے ہرمز، جو دنیا کی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم آبی گزرگاہ ہے، کو عملاً بند کر رکھا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ معاہدے پر دستخط کی تقریب جمعے کو شہر لوسرن کے قریب برگن اشٹاک ریزورٹ میں منعقد ہوگی۔

لبنان سے اسرائیلی انخلا کا ایرانی مطالبہ معاہدے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے

پاکستان کا کہنا ہے کہ معاہدے میں ایران کے دیرینہ مؤقف کے مطابق لبنان سمیت فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی شق شامل ہے، تاہم وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اسرائیلی انخلا کا مطالبہ ایک نئی پیچیدگی پیدا کر رہا ہے۔

اس سے اسرائیل ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے، کیونکہ وہ حزب اللہ کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا چاہتا ہے، مگر ساتھ ہی اپنے اہم ترین اتحادی امریکہ کی حمایت یافتہ مفاہمت کو نقصان بھی نہیں پہنچانا چاہتا۔

جنگ کے پہلے ہفتے میں حزب اللہ کی جانب سے سرحد پار میزائل حملوں کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے اس نے لبنان میں اپنی فوجی موجودگی کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح تک بڑھا دی ہے اور بیروت کے اندر گہرائی تک اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اگرچہ حزب اللہ کمزور ہوئی ہے، لیکن اس کے پاس اب بھی اسرائیل پر حملہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جس سے اسرائیلی مہم کے موثر ہونے کے بارے میں سوالات برقرار ہیں۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

منگل کی شام تک نیتن یاہو نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت نہیں دیکھی تھی۔ صورت حال سے واقف ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ ایک اور ذریعے کے مطابق بھی اسرائیلی حکام نے امریکی مذاکرات کاروں سے اس یادداشت کی درخواست نہیں کی۔

نیتن یاہو کے دفتر نے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا، جبکہ وائٹ ہاؤس نے اس سوال پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ آیا نیتن یاہو یا دیگر اسرائیلی حکام نے معاہدے کا جائزہ لیا ہے یا نہیں۔

امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یخیئیل لیٹر نے این پی آر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اسرائیل معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ نہیں، لیکن لبنان کا اس میں شامل ہونا ’غیر ضروری اور غیر مددگار‘ معلوم ہوتا ہے۔

اسرائیلی حملوں کی شدت نے بعض اوقات اس کی قیادت کے درمیان اختلافات کو بھی نمایاں کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے کہا کہ وہ ’لبنان اور حزب اللہ کے معاملے میں اسرائیل کے طرز عمل سے خوش نہیں ہیں۔‘

انہوں نے اسرائیلی حکمت عملی کے بارے میں کہا: ’یہ سلسلہ کبھی ختم ہی نہیں ہوتا۔‘

لبنان میں اسرائیلی حملوں میں تقریباً 4 ہزار اموات ہو چکی ہیں، جن میں سینکڑوں شہری شامل ہیں، جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا: ’اسرائیل بہت طویل عرصے سے حزب اللہ کے خلاف لڑ رہا ہے اور بہت زیادہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔‘

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

لبنانی حکومت کا جنگ بندی کے امکانات کا خیرمقدم

اسرائیل اور لبنانی حکومت نے امریکہ کی ثالثی میں اپنے الگ براہِ راست مذاکرات بھی کیے، جن میں حزب اللہ شامل نہیں تھی۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں کئی جنگ بندیوں کا اعلان کیا گیا، تاہم ان پر عملی طور پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

لبنانی حکام ابتدا میں لبنان کو امریکہ۔ایران مذاکرات سے الگ رکھنا چاہتے تھے تاکہ انہیں ایران کا تابع نہ سمجھا جائے، لیکن بعد ازاں انہوں نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے معاہدے میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہوگی۔

عباس عراقچی کے حالیہ بیانات دو علاقائی عہدیداروں کی سمجھ بوجھ سے مطابقت رکھتے ہیں، جنہیں عبوری معاہدے کی براہِ راست معلومات ہیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرنے والے ان عہدیداروں کے مطابق معاہدے کے تحت اسرائیل کو لبنان میں اپنے زیرِ قبضہ تقریباً تمام علاقوں سے نکلنا ہوگا، سوائے سرحد کے قریب چند پہاڑی چوکیوں کے جن پر پہلے قبضہ کیا گیا تھا۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے آخری دنوں میں ایران نے اصرار کیا کہ لبنان کو بھی معاہدے میں شامل کیا جائے۔

لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج یونیفل (UNIFIL) نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ اب بھی جاری ہے، تاہم اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک کے مطابق اس کی شدت ’نمایاں طور پر کم‘ ہو چکی ہے۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

رسمی دستخط سے قبل کئی سوالات برقرار

امریکہ اور ایران کے درمیان منصوبہ بند دستخطی تقریب سے قبل کئی اہم سوالات اب بھی موجود ہیں۔

اس معاہدے کا مقصد کئی ماہ سے جاری جنگ میں بامعنی جنگ بندی فراہم کرنا ہے، جس نے مشرق وسطیٰ میں ہزاروں جانیں لے لیں اور ایندھن، خوراک اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں خطے سے باہر بھی نمایاں اضافہ کر دیا۔

ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو ’فوری طور پر‘ کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا انتظام کیا جائے گا۔

جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس کے مطابق منگل کو کم از کم دو آئل ٹینکر ایران سے روانہ ہوئے اور امریکی فوجی ناکہ بندی عبور کر گئے، جبکہ انہیں روکا نہیں گیا۔ یہ دو ماہ میں ایران کی خام تیل کی پہلی برآمدات تھیں۔

مرچنٹ شپنگ ٹریکنگ ویب سائٹ ٹینکر ٹریکرز ڈاٹ کام کے مطابق ایرانی پرچم بردار ٹینکرز ’ڈیونا‘ اور ’ہیرو 2‘ مجموعی طور پر 38 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل لے جا رہے تھے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

پاکستانی حکام، جنہوں نے عبوری معاہدے کی ثالثی میں مدد دی، نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب امریکہ اور ایران، تہران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں کے ممکنہ خاتمے پر 60 روزہ مذاکرات شروع کریں گے۔

سینیئر امریکی حکام کے مطابق معاہدے میں ایران کے منجمد فنڈز جاری کرنے اور مخصوص شرائط پوری ہونے کی صورت میں ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا امکان بھی شامل ہے۔ تاہم بعد میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران میں کوئی رقم ’سرمایہ کاری‘ کے طور پر نہیں لگائے گا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

امریکی حکام نے ابھی تک واضح نہیں کیا کہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام سے کیسے نمٹے گا، بشمول اس کے کہ ایران کی تعمیل کی نگرانی کون کرے گا اور گذشتہ موسمِ گرما میں امریکی حملوں سے شدید متاثر ہونے والے جوہری مراکز کے نیچے موجود انتہائی افزودہ یورینیم کو کون تباہ یا منتقل کرے گا۔

علاقائی حکام کے مطابق ایران نے یورینیم کو ممکنہ طور پر ’کم افزودہ کرنے یا ہٹانے‘ کے طریقوں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ تہران اس پر حتمی طور پر رضامند ہوگا یا نہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب سخت گیر حلقے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس ابھرتے ہوئے معاہدے کو جائزے کے لیے امریکی کانگریس میں بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔ کانگریس میں رپبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کے بارے میں مزید معلومات چاہتے ہیں، جبکہ بعض نے اس بارے میں شکوک کا اظہار کیا ہے کہ آیا یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک سکے گا یا نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا