نئے صوبے: قابل عمل تجویز یا مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش؟

انتظامی اور لسانی بنیادوں پر نئے صوبوں کا مطالبہ 1950 کی دہائی میں سامنے آیا۔ بہاول پور، سرائیکی اور صوبہ ہزارہ کی تحریکیں چلیں

ملتان میں جنوبی پنجاب سیکرٹیریٹ کے دفتر کے باہر لگی ایک تختی (تصویر بشکریہ: محمد نوید)

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر بات کی جس کے بعد نئے انتظامی یونٹس پر کئی دہائیوں سے جاری بحث کو تقویت ملی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام اور ان سے مسائل کے حل کا تجربہ کتنا کامیاب ہوسکتا ہے؟ کیوں کہ پنجاب میں تو ابھی تک بلدیاتی انتخابات نہیں ہوسکے اور جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ بھی غیر فعال ہے تو نئے یونٹ کیسے کارگر ہوسکیں گے۔

تجزیہ کاروں نے محسن نقوی کے بیان کو مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش اور اس فارمولے کو ناقابل عمل قرار دیا ہے۔ دونوں حکمران سیاسی جماعتیں بھی عملی طور پر اس بارے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتیں۔

پاکستان میں انتظامی اور لسانی بنیادوں پر نئے یا الگ صوبوں کا مطالبہ باقاعدہ طور پر 1950 کی دہائی میں شروع ہوا تھا۔ جس کی بنیادی وجہ ون یونٹ کا نفاذ تھا۔

اس ضمن میں بہاول پور، سرائیکی خطہ اور ہزارہ کے لیے نمایاں تحریکیں چلیں۔  1955میں ون یونٹ کے نفاذ اور پھر 1970 میں ون یونٹ کی تحلیل کے بعد ریاست بہاول پور کو پنجاب کا انتظامی حصہ بنا دیا گیا جس کے ردعمل کے طور پر صوبہ بہاول پور بحالی تحریک کا آغاز ہوا  اور آج تک جاری ہے۔

سابقہ ریاست بہاول پور جو 1951-52 میں باقاعدہ صوبائی حیثیت رکھتی تھی، اسے 1955 میں ون یونٹ میں ضم کیا گیا۔ بعد ازاں اس کی بحالی اور خطے میں پسماندگی کے خلاف سرائیکی اور بہاول پور صوبے کے مطالبات نے زور پکڑا۔

ہزارہ صوبہ تحریک کی ابتدا 1957 میں وکیل مفتی ادریس کے ذریعے ہوئی، تاہم اس وقت یہ تحریک فوری کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ 1990 کی دہائی میں ہزارہ قومی محاذ کے پلیٹ فارم سے اس مطالبے کو منظم کیا گیا 2010 میں صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخوا رکھے جانے کے بعد ہزارہ ڈویژن میں الگ صوبے کے لیے بھرپور احتجاجی تحریک چلی۔

لیکن ان میں سے ابھی تک کوئی تحریک کامیاب نہ ہوسکی البتہ تحریک انصاف نے 2018 کے عام انتخابات میں جنوبی پنجاب اتحاد کے ساتھ انتخابی شراکت کی شرط 2020 میں پوری کرنے کے لیے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ قائم کیا۔ لیکن ایک سال بعد ہی سات سیکرٹری واپس بلا لیے اور اب چند دن پہلے موجودہ پنجاب حکومت نے نو ڈپٹی سیکرٹری کے عہدے ختم کر دیے۔

نئے صوبوں کی حالیہ بحث کتنی موثر؟

رہنما پیپلز پارٹی چوہدری منظور نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پاکستان میں نئے انتظامی یونٹ یا نئے صوبوں کا قیام مسائل کا حل نہیں بلکہ اخراجات بڑھ جائیں گے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ’نظام بہتر کرنے کے لیے مضبوط اور موثر بلدیاتی نظام کی تشکیل ضروری ہے۔ فل الحال نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت کا بیان مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش لگتی ہے۔ کیوں کہ مسائل تو  پوری دنیا میں مقامی حکومتوں کے قیام سے ہی بہتری لائی گئی ہے۔ اگر نئے صوبوں کا تجربہ بھی  ناکام ہوگیا پھر کیا کریں گے؟‘

وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق نئے صو بوں پر سب مان جائیں گے اور ہائبرڈ سسٹم کی کامیابی یہی ہوگی کہ ملک میں مضبوط بلدیاتی نظام اور نئے صوبے ہوں۔ اگر چار سے پانچ ماہ میں یہ چیزیں ہو جائیں تو نیا نظام آ سکتا ہے۔ ہائبرڈ سسٹم کی کامیابی سے ملک میں سیاسی استحکام بھی آئے گا۔ 

جمعرات کی رات ایک بیان میں انہوں نے کہا ملک کا کوئی بھی صوبہ صوبائیت کے نام پر نہیں ہونا چاہیے۔ صوبوں میں اتنظامی یونٹس ہونے چاہییں جیسے کہ ڈی جی خان کو کسی اور شہر کے ساتھ ملا سکتے ہیں۔

جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار رضی الدین رضی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’سرائیکی وسیب، بہاول پور اور ہزارہ صوبے کے لوگ عرصہ دراز سے الگ صوبوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 

’لیکن ان کی تحریکوں کے باوجود کوئی نیا صوبہ قائم نہیں ہوسکا۔ کیوں کہ موجودہ آئین اور نظام کے تحت نئے صوبوں کا قیام نہ ممکن ہے اور نہ ہی اس کی فی الحال کوئی گنجائش ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’کیوں کہ مطالبات کرنے والوں کے ساتھ جغرافیائی تقسیم بھی ایک چیلنج ہے۔ لہٰذا اس موقع پر جب موجود ہائی برڈ نظام کارکردگی نہیں دکھا سکا مسائل کم ہونے کی بجائے اضافہ ہوا۔

’محسن نقوی نے نئے صوبوں کی ضرورت کا بیان دے کر صرف مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ سب کو معلوم ہے ان کے اس بیان پر عمل ہونا ناممکن ہے۔‘

نئے صوبوں سے نظام بہترہو سکتا ہے؟

اینکر پرسن ثمینہ پاشا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے تو نئے صوبوں کا قیام تو لازمی ہے۔ لیکن اس کے لیے ایک غیر متنازع اسمبلی ہو جو اس حوالےسے بحث ومباحثے اور مشاورت سے صوبے قائم کر سکے۔

لیکن اس میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ صوبوں کی تشکیل کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا۔ اس کے علاوہ پہلے انتظامی اخراجات میں واضح کمی کی جائے اور نئے یونٹس میں اضافی اخرجات کے ضیا کو روکنے کا اصول اپنایا جائے۔ لہٰذا سننے میں تو اچھا لگتا ہے کہ نئے صوبے بننے سے لوگوں کے مسائل حل ہوں گے۔ ان کی محرومیاں دور ہوسکتی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے۔ لیکن مسائل حل کے لیے گورننس بہتر ہونا ضروری ہے۔ اچھی حکمرانی کے بغیر لوگوں کو ان کا حق نہیں مل سکتا۔ جس طرح آبادی میں اضافہ ہوا ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے نئے یونٹس کا قیام ضروری ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان