’کوئی بھی حکومت بلدیاتی انتخابات بروقت کروانا نہیں چاہتی‘: الیکشن کمیشن کی قانون سازی کی سفارش

الیکشن کمیشن کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ لوکل گورنمنٹس ملکی جمہوری اداروں کا اہم ستون ہیں۔

ایک سکیورٹی اہلکار 21 ستمبر 2023 کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ہیڈ کوارٹر کے باہر پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی)

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد کے لیے قانون سازی کرے۔

ترجمان کمیشن نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ کوئی بھی حکومت بلدیاتی انتخابات بروقت نہیں کروانا چاہتی۔

پاکستان میں صوبائی اسمبلیاں، قومی اسمبلی اور سینیٹ تو فعال ہے لیکن بلدیاتی نظام غیر فعال ہے۔ اگرچہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان تو کرتی آئی ہیں لیکن مقامی حکومت کو با اختیار نہیں بناتیں۔

حتٰی کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے ہیں۔ رواں ماہ پاکستان کی وفاقی کابینہ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات دوبارہ ملتوی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ابتدائی طور پر 15 فروری کی تاریخ مقرر کی تھی، جن کے نتائج 16 سے 19 فروری کے درمیان مرتب کیے جانا تھے۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’لوکل گورنمنٹس ملکی جمہوری اداروں کا اہم ستون ہیں ۔ جو مقامی سطح پر لوگوں کو سہولیات اور ان کے مسائل حل کرتی ہیں، الیکشن کمیشن نے اسے قومی مسئلہ سمجھتے ہوئے الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 219 میں ترمیم کے لیے گورنمنٹ کو سفارشات بجھوائی ہیں۔‘

کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ ان سفارشات میں حکومت سے کہا گیا کہ ’مقامی حکومتوں کی میعاد کے اختتام یا تحلیل کے وقت جو لوکل گورنمنٹ قوانین ہوں اس کے تحت الیکشن ہو۔

’ یہ سفارشات اس لیے بھیجی گئی ہیں کہ کوئی بھی حکومت بلدیاتی انتخابات بروقت کروانا نہیں چاہتی۔ جبکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقادوفاقی، صوبائی حکومتوں اور الیکشن کمیشن کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔‘

الیکشن کمیشن آف پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخاب 2022 کے قانون کے تحت کرانے کا حکم دیا  تھا تو پنجاب حکومت نے اس کے جواب میں صوبائی اسمبلی سے بلدیاتی ایکٹ 2025 منظور کروا لیا تھا۔

پنجاب میں عرصہ دراز سے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہ ہونے سے مقامی حکومتیں غیر فعال ہیں۔ ہر ضلع میں انتظامی ڈھانچے کے ذریعے وزیر اعلی اور وزرا نظام کو چلا رہے ہیں۔ لہذا گلی محلوں کے مسائل حل کرنے کے لیے بھی شہریوں کو اراکین اسمبلی یا محکموں کے افسران کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ مقامی نمائندوں کی غیر موجودگی کے باعث انہیں مسائل حل کرانے میں دشواری کا سامنا ہے۔

پاکستان میں 2002 کے علاوہ کبھی مقامی سطح پر بااختیار بلدیاتی حکومتیں تشکیل نہیں دی جا سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست