پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے وزیراعظم کی جانب سے قائم کمیٹی جمعے تک اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے کر وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
کمیٹی کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں کہا گیا تھا کہ ملک میں تیل کی دستیابی سے متعلق فوری طور پر کوئی تشویش نہیں ہے، البتہ ایندھن کی بچت سے متعلق اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر پاکستان میں تیل کی دستیابی سے متعلق صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی۔
وفاقی وزیر برائے خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت جمعرات کو فنانس ڈویژن میں منعقدہ کمیٹی اجلاس میں توانائی کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت اور قومی سطح پر تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ ارکان کو بریفنگ دی گئی کہ ’قومی ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود ہیں اور اہم مصنوعات کے لیے کافی مقدار میں ذخیرہ دستیاب ہے، لہٰذا اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کے حوالے سے فوری تشویش کی کوئی بات نہیں۔‘
Cabinet Committee Aligns Provinces on Energy Supply Position, Enforcement and Comprehensive Implementation Plan
— Ministry of Finance, Government of Pakistan (@Financegovpk) March 5, 2026
A meeting of the Committee to Monitor Petrol Prices in the Wake of the Emerging Situation in the Region, constituted by the Prime Minister, was held today under the… pic.twitter.com/c71qx4ffn8
موجودہ حالات میں وسیع تر تیاریوں کے تحت کمیٹی نے ایندھن کی بچت کے مرحلہ وار اقدامات پر بھی غور کیا، جو ماضی میں قومی ہنگامی حالات کے دوران اختیار کیے گئے ادارہ جاتی طریقہ کار سے اخذ کیے گئے ہیں۔
’ان اقدامات کا مقصد ضرورت پڑنے پر طلب کو منظم کرنا ہے، تاہم عوامی پیغام رسانی کو اس انداز میں ترتیب دینے پر زور دیا گیا کہ غیر ضروری خوف یا تشویش پیدا نہ ہو۔‘
کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ کمیٹی جمعے تک اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے کر وزیراعظم کو پیش کرے گی، ’جس کے ساتھ ایک جامع عملدرآمدی منصوبہ بھی شامل ہوگا جس میں سپلائی کی یقین دہانی، نفاذی اقدامات، قیمتوں اور حکمرانی کے طریقہ کار اور ضرورت پڑنے پر ایندھن کی بچت کے اقدامات شامل ہوں گے۔‘
کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر اجلاس منعقد کرتی رہے گی تاکہ صورت حال کی نگرانی، ذخائر اور سپلائی چین کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا جا سکے اور تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کمیٹی نے علاقائی اور عالمی توانائی کی بدلتی ہوئی صورت حال پر اپنی مشاورت جاری رکھی اور ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا۔
تاہم کمیٹی نے نشاندہی کی کہ صورت حال اب بھی ’غیر یقینی اور تیزی سے بدل رہی ہے‘ جس کے باعث مسلسل نگرانی اور محتاط منصوبہ بندی ضروری ہے کیونکہ عالمی سپلائی چینز اور بحری راستوں کو بڑھتے ہوئے خطرات اور اخراجات کا سامنا ہے۔
اجلاس میں بین الاقوامی تیل کی منڈی کی صورت حال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں عالمی معیار کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ، فریٹ اور انشورنس کے اخراجات، بحری راستوں کی تبدیلی اور اہم سمندری گزرگاہوں پر ممکنہ رکاوٹوں کے خطرات شامل تھے۔
کمیٹی نے مختلف ممکنہ حالات کے مطابق فراہمی اور قیمتوں کے متعدد منظرناموں کا جائزہ لیا تاکہ ملکی توانائی کی فراہمی میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
اس تناظر میں کمیٹی نے نوٹ کیا کہ ’وار پریمیم‘ جیسے عوامل اور بالخصوص ایشیائی منڈیوں میں توانائی کے کارگو کے لیے بڑھتا ہوا مقابلہ اگر برقرار رہا تو بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
کمیٹی نے سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے متنوع ذرائع اور لاجسٹکس کے انتظامات کو مضبوط بنانے کی جاری کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔ دوست ممالک اور سپلائر پارٹنرز کے ساتھ سفارتی اور تجارتی روابط کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا تاکہ خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی اضافی مقدار متبادل راستوں اور بندرگاہوں کے ذریعے حاصل کی جا سکے، خصوصاً ان راستوں سے ہٹ کر جو زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔
اجلاس میں شپنگ اور آپریشنل اقدامات پر بھی غور کیا گیا تاکہ وقت کے ضیاع کو کم کیا جا سکے، جس میں بروقت جہازوں کی برتھنگ کی سہولت اور جہاں ممکن ہو قومی شپنگ صلاحیت کے استعمال کو شامل کیا گیا۔
مارکیٹ میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے کمیٹی نے ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی ذخیرہ اور مصنوعات کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں صوبائی انتظامیہ کی جانب سے اوگرا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مربوط کارروائیوں پر زور دیا گیا۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ’بیرونِ ملک سمگلنگ کی روک تھام اور ملک کے اندر بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہے گی، جبکہ فیلڈ انٹیلی جنس اور خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔‘
اجلاس سے خطاب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کا سب سے بڑا مقصد ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانا ہے اور یہی تمام پالیسی اور آپریشنل فیصلوں کی بنیاد ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ’حکومت ایک منظم حکمرانی کے نظام کے تحت صورت حال کو ذمہ داری سے سنبھال رہی ہے، جس میں روزانہ کی بنیاد پر نگرانی، مختلف منظرناموں کی منصوبہ بندی اور مربوط فیصلے شامل ہیں۔‘
وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر بین الاقوامی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث ناگزیر دباؤ پیدا ہوتا ہے تو حکومت طے شدہ اور شفاف طریقہ کار کے تحت ردعمل دے گی تاکہ مارکیٹ میں بگاڑ پیدا نہ ہو اور استحکام برقرار رہے۔
کمیٹی نے ایل این جی اور ایل پی جی کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا، جس میں سپلائی چین کے خطرات، کارگو کی آمد کے شیڈول اور ٹرمینل آپریشنز شامل تھے۔
ارکان نے اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر رکاوٹیں برقرار رہیں تو طلب کو مؤثر انداز میں کیسے منظم کیا جائے تاکہ ترجیحی شعبوں کا تحفظ کیا جا سکے اور مجموعی نظام میں استحکام برقرار رہے۔