کاروباری پابندیاں دوبارہ لگائیں تو ملک گیر احتجاج ہو گا: پاکستانی تاجر

مرکزی انجمن تاجران نے حکومت سے توانائی کی بچت کے لیے لگائی گئی کاروباری پابندیوں کو مستقل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

19 اپریل، 2021 کو اسلام آباد میں ہڑتال کے دوران ایک دکان دار اپنی دکان پر تالا لگا رہا ہے (اے ایف پی)

پاکستان کی ایک نمایاں تاجر تنظیم نے اتوار کو حکومت کو خبردار کیا کہ اگر بازاروں کو جلد بند کرنے کا فیصلہ دوبارہ نافذ کیا گیا تو ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔

تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ توانائی کی بچت کے لیے لگائی گئی کاروباری پابندیوں کو مستقل طور پر ختم کیا جائے۔

اپریل کے اوائل میں پاکستانی حکومت نے مہنگے درآمدی ایندھن کی بچت کے لیے کفایت شعاری منصوبے کے تحت دکانوں، بازاروں اور شاپنگ مالز کو رات آٹھ بجے تک بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم ریستورانوں، بیکریوں، کریانہ سٹورز اور شادی ہالز کو رات 10 بجے تک استثنیٰ حاصل تھا۔ حکومت نے اس ماہ کے آغاز میں عیدالاضحیٰ کے پیش نظر ان پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے 31 مئی تک کاروباری اوقات میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔

یہ کفایت شعاری اقدامات امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ کے بعد نافذ کیے گئے تھے۔ اس جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور پاکستان بھی اس سے براہ راست متاثر رہا۔

پاکستان میں مرکزی انجمن تاجران کے صدر کاشف چوہدری نے آج ایک بیان میں کہا ’ایران اور امریکہ کی جنگ کے خاتمے کے بعد لاک ڈاؤن جیسی پابندیوں کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہا۔‘

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یکم جون کے بعد دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تو ہم ملک گیر احتجاجی تحریک دوبارہ شروع کریں گے۔

تاجروں نے بازاروں کو جلد بند کرنے کی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے شکایت کی کہ ان اقدامات سے ان کی آمدنی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

کاشف چوہدری نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم یکم جون سے ان پابندیوں کے مستقل خاتمے کا نوٹیفکیشن جاری کریں۔ انہوں نے ملک بھر کے تاجروں پر زور دیا کہ وہ یکم جون کے بعد اپنی دکانیں معمول کے اوقات تک کھلی رکھنے کی تیاری کریں۔

انہوں نے کہا ’شدید گرمی کے موسم میں کاروباری سرگرمیاں شام سات بجے کے بعد شروع ہوتی ہیں، دکانوں کو رات آٹھ بجے بند کرنے پر مجبور کرنا کاروبار کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے صارفین کی قوتِ خرید کو متاثر کیا ہے جبکہ تاجر اور عام شہری پہلے ہی بجلی کے بھاری بل ادا کر رہے ہیں۔

کاشف چوہدری نے کہا ’ایندھن اور بجلی کی بلند قیمتوں کے ساتھ ساتھ مہنگائی نے 12 کروڑ افراد کی قوتِ خرید کو ختم کر کے رکھ دیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’کاروبار کھلے ہونے کے باوجود عوام کے پاس خریداری کی استطاعت نہیں رہی۔‘

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ پابندیاں توانائی کے استعمال میں کمی، بجلی کی پیداوار کی لاگت کو قابو میں رکھنے اور کم آمدنی والے طبقات کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے لگائی گئی تھیں کیونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے۔

’کرکٹ میچز کے نام کاروبار کی تباہی قبول نہیں‘

کاشف چوہدری نے کرکٹ میچز کے نام پر راستوں کی بلاجواز بندش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد انتظامیہ، پولیس اور موٹر وے پولیس نے گذشتہ روز سے کھانے پینے کی اشیا لے جانے والے ٹرک روک رکھے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اشیائے خوردونوش سے لدے ٹرکوں کو فوری طور پر اسلام آباد میں داخلے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کھانے پینے کے سامان کے ٹرک روکنے سے جڑواں شہروں میں غذائی قلت کے خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرکوں کی بندش کے باعث پھل اور سبزیاں خراب ہو رہی ہیں جبکہ تاجروں کو کروڑوں روپے کے نقصانات کا سامنا ہے۔ ’اگر اشیائے خوردونوش کے ٹرکوں کو فوری داخلے کی اجازت نہ دی گئی تو تاجر خود سامان لانے پر مجبور ہوں گے۔‘

کاشف چوہدری نے کہا کہ سیرینا ہوٹل اور کرکٹ سٹیڈیم کے علاوہ دیگر راستوں کی بلاجواز بندش نے شہریوں کو ذہنی کوفت میں مبتلا کر رکھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرکٹ میچز کے نام پر کاروباروں کی تباہی اور شہریوں کی تذلیل مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت