پاکستان اور کینیڈا روابط تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے پر متفق: اسحٰق ڈار

کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند کے ساتھ پریس کانفرنس میں اسحٰق ڈار نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

20 جولائی، 2026 کو اسلام آباد میں وزیر خارجہ اسحٰق ڈار اور کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کی ملاقات (دفتر خارجہ پاکستان)

نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور کینیڈا نے اعلیٰ سطح کے روابط کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے، ادارہ جاتی تعاون کو مزید مستحکم بنانے، باقاعدہ دوطرفہ مشاورت کو فروغ دینے اور متعلقہ وزارتوں و اداروں کے درمیان روابط کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند کے ساتھ پریس کانفرنس میں اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے مابین دیرینہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت کی علامت اور دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے  مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔

اسحٰق ڈار نے کہا: ’پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات تاریخی روابط، عوامی سطح پر مضبوط روابط اور کینیڈا میں آباد متحرک پاکستانی برادری کی بنیاد پر استوار ہیں۔

’آج کی ملاقات میں ہم نے دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و بین الاقوامی امور پر مفصل تبادلہ خیال کیا۔‘

اسحٰق ڈار نے مزید کہا کہ ’اقتصادی تعاون ہمارے دوطرفہ تعلقات کا ایک بنیادی ستون ہے۔ اس تناظر میں ہم نے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری برادریوں کے مابین روابط کو آسان بنانے اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔‘

پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان تعلیم، توانائی، کان کنی و اہم معدنیات، زراعت، بنیادی ڈھانچے اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی سمیت ترجیحی شعبوں میں کینیڈا کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور کینیڈا زرعی تعاون کے لیے آج  ایک نئے ضابطہ کار پر دستخط کریں گے، جس کے ذریعے کینیڈا سے کینولا کی درآمد کے لیے نباتاتی حفظانِ صحت سے متعلق واضح شرائط وضع کی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے متعلقہ ادارے زرعی شعبے میں فنی تعاون اور استعدادِ کار میں اضافے کے امکانات کا بھی مشترکہ جائزہ لیں گے۔

اسحٰق ڈار کے مطابق: ’ہم نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور تحفظ سے متعلق معاہدے پر جاری پیش رفت کا جائزہ لیا اور اس امر پر اتفاق کیا کہ اسے باہمی مفاد کے مطابق جلد از جلد حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات اور رابطے جاری رکھے جائیں گے۔‘

 انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈین وزیر خارجہ کے ساتھ گفتگو میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے کردار پر بھی تبادلۂ خیال ہوا، جو سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری کا ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ کینیڈا کی کمپنیوں کو پاکستان میں دستیاب سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے کی دعوت دی ہے۔

’ہماری گفتگو میں تعلیم، افرادی قوت کی نقل و حرکت، قونصلر تعاون، سائنس و ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی روابط کے فروغ سمیت متعدد شعبے شامل تھے۔ دونوں ممالک نے ان شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسحٰق ڈار نے مزید کہا کہ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت، بشمول افغانستان کی صورت حال اور انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون، پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

 انہوں نے کہا کہ ’میں نے جموں و کشمیر کے تنازع کا معاملہ بھی اٹھایا، جو دنیا کے دیرینہ حل طلب بین الاقوامی تنازعات میں سے ایک ہے اور 1948 سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ ُ

انہوں نے کہا کہ انڈیا نے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے اعلان کے ذریعے پہلے ہی سے کشیدہ سلامتی کی صور تحال میں ایک نئی اور تشویش ناک جہت کا اضافہ کیا ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ کا کہن تھا کہ ’ہم اپنے دوست ممالک سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی فوری بحالی، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خاتمے، اور بین الاقوامی قانون و معاہداتی ذمہ داریوں کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے حمایت کریں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان