پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے خاتمے اور دو طرفہ تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے دونوں ممالک کے تاجر قائدین کا ایک مشترکہ اجلاس ویڈیو کانفرنس (زوم) کے ذریعے منگل کو منعقد ہوا۔
خیبر چیمبر آف کامرس کے پلیٹ فارم سے جاری بیان کے مطابق اس امر کو خوش آئند قرار دیا گیا کہ دونوں ممالک کے حکام کی جانب سے تاجر برادری کو باضابطہ مذاکرات کی اجازت دی گئی، جو خطے میں استحکام اور تجارتی بہتری کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، دونوں ممالک کے مطالبات اور تحفظات متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور تجارتی گزرگاہوں کی بحالی و تسلسل کے لیے ایک مشترکہ (جوائنٹ) کمیٹی قائم کی جائے گی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کی گذشتہ اکتوبر سے مکمل بندش کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوئی لیکن اس مرتبہ سنگین اختلاف کی وجہ سے اس کی نوعیت زیادہ شدید دکھائی دیتی ہے۔
دونوں حکومتوں کے موقف میں اب تک کوئی لچک نہیں دیکھی گئی ہے۔ اس تناظر میں دونوں ممالک کے تاجر پریشان ہیں۔
پاکستان کی جانب سے اجلاس کی صدارت فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے سرپرستِ اعلیٰ ایس ایم تنویر نے کی جبکہ افغانستان کی جانب سے افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ (ACCI) کے چیئرمین سید کریم ہاشمی نے اجلاس کی قیادت کی۔
اجلاس کے اختتام پر یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ چند روز میں باہمی مشاورت سے دوبارہ زوم اجلاس منعقد کر کے پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق یہ اجلاس پاک افغان سرحدی صورت حال اور تجارتی و بارڈر معاملات کے تناظر میں خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کی خصوصی کاوشوں سے منعقد ہوا، جس میں ون پوائنٹ ایجنڈے کے تحت تفصیلی، سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات کیے گئے۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سرحدی بندشوں اور تجارتی راستوں کی معطلی سے نہ صرف دونوں ممالک کی تاجر برادری بلکہ عام عوام بھی شدید متاثر ہو رہی ہے، لہٰذا تجارت کو سیاست سے الگ رکھنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت پر قابو پائے اور وہاں موجود ان عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔ جواب میں افغانستان کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں تحریک طالبان پاکستان موجود نہیں اور نہ وہ یہاں سے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ وہ اب مطالبہ کرتی ہے کہ مستقبل میں سرحد بند نہ کرنے کی اسلام آباد تحریری یقین دھانی کرائے۔
سرحد کی بندش کلکی وجہ سے افغان کاشت کاروں کو فروٹ کے لیے اب نئی منڈیاں تلاش کرنے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ قندھار کے انار اب پہلی بار قطر کو برآمد کیے جا رہے ہیں۔ بیس ٹن تازہ انار برآمد کیے گئے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اجلاس میں پاکستان کی جانب سے واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کیا گیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی قابلِ قبول ہے۔ پاکستانی تاجر قیادت نے یقین دہانی کرائی کہ اس مؤقف کو مؤثر انداز میں متعلقہ ملکی حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
دوسری جانب افغان تاجر برادری کے قائدین نے اس بات پر زور دیا کہ افغان حکام کا ون پوائنٹ ایجنڈا یہ ہے کہ پاک افغان تجارت کو مکمل طور پر سیاست سے الگ رکھا جائے اور تجارتی گزرگاہیں آئندہ کسی بھی صورت بند نہ کی جائیں، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا تسلسل برقرار رہے اور خطے میں معاشی استحکام کو فروغ ملے۔
پاکستان کی جانب سے اجلاس میں ایس۔ ایم۔ تنویر (سرپرستِ اعلیٰ ایف پی سی سی آئی اور یونائیٹڈ بزنس گروپ پاکستان)، سید جواد حسین کاظمی (مشیر ایف پی سی سی آئی، گروپ لیڈر خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور چیئرمین پاکستان بارڈرز ٹریڈ کونسل)، محمد یوسف آفریدی (صدر خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری – طورخم بارڈر)، حاجی قدیر اللہ وزیر (صدر وزیرستان چیمبر آف کامرس – غلام خان بارڈر)، حاجی ایوب مریانی (صدر کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری)، دارو خان اچکزئی (سابق صدر ایف پی سی سی آئی اور چمن چیمبر آف کامرس، حاجی سبحان اللہ (سابق صدر کرم چیمبر آف کامرس)، علی حماد (گروپ لیڈر کرم چیمبر)، محمد ہارون صابر (ٹوبیکو گروورز ایسوسی ایشن آف پاکستان) شیرین خان آفریدی معروف صنعتکار ممبر خیبر چیمبر اور عادل محمود نے شرکت کی۔
میڈیا کی نمائندگی سینیئر صحافی قاضی فضل اللہ (جیو نیوز) اور ابوزر آفریدی (ایکسپریس نیوز) نے کی۔
افغانستان کی جانب سے افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ (اے سی سی آئی) کے پلیٹ فارم سے شرکت کی گئی، جس کی قیادت سید کریم ہاشمی (چیئرمین اے سی سی آئی، کابل) نے کی۔ دیگر افغان شرکاء میں عنایت اللہ صدیق زئی (نائب چیئرمین اے سی سی آئی)، حبیب اللہ عمر، عبد النافع (نائب چیئرمین اے سی سی آئی)، محمد ولی امینی (سی ای او اے سی سی آئی)، عتیق اللہ مومن زادہ (بورڈ ممبر اے سی سی آئی و صدر ننگرہار چیمبر)، عبدالاحد صدیقی (صدر قندھار چیمبر)، مسعود راحت (نائب صدر قندھار چیمبر)، یوسف یوسفی، ہیواد باز، میرویس کتاوازی، نور احمد خان (بورڈ ممبران اے سی سی آئی)، ہمایوں خوجہ زادہ (نائب چیئرمین کابل چیمبر) اور عبدالمتین غالب (ڈائریکٹر انٹرنیشنل ریلیشنز اے سی سی آئی) شامل تھے۔
اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے تاجر رہنماؤں نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائدانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم نے پاک افغان تاجر برادری کے مابین بامقصد مذاکرات کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ طے شدہ نکات اپنے اپنے حکام کے سامنے رکھے جائیں گے اور آئندہ زوم اجلاس میں عملی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
