وزیر اعلی پنجاب کے لیے خصوصی طیارے کی خریداری پر پنجاب حکومت تنقید کی زد میں ہے۔ تاہم پنجاب حکومت کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ یہ طیارہ پنجاب حکومت کی اسی سال شروع ہونے والی ایئر لائن ’ایئرپنجاب‘ کے لیے خریدا گیا ہے ابھی مزید بھی خریدے اور لیز پر لیے جائیں گے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کے بعد کیا پنجاب حکومت سرکاری طور پر ایئر لائن چلانے میں کامیاب ہو گی؟
پاکستان میں اب تک فعال نجی شعبے کے تحت شیڈولڈ پروازیں چلانے والی چار ایئر لائنز کام کر رہی ہیں۔ رواں سال رجسٹرڈ ہونے والی ایئر کراچی نے ابھی آپریشن شروع نہیں کیا۔ اسی طرح پی آئی اے کی بھی نجکاری ہو چکی ہے۔ ایسے میں وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے بھی ’ایئرپنجاب‘ کے نام سے ایئر لائن کا اعلان کر رکھا ہے۔
جب پنجاب حکومت کی جانب سے وی آئی پیز موومنٹ کے لیے دس ارب مالیت کے طیارے کی خریداری اور ایئر پنجاب چلانے سے متعلق وزیر اطلاعات پنجاب حکومت عظمیٰ بخاری سے پوچھا گیا تو انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ورکنگ جاری ہے۔
گذشتہ شام بدھ کو پریس کانفرنس کے دوران عظمیٰ بخاری نے وضاحت دی تھی کہ ’ائیر پنجاب کے لیے ایک فلیٹ بنانا ہے جس میں ہرطرح کے جہاز ہوں گے، مختلف جہاز خریدے جارہے ہیں کچھ لیز پر لیں گے یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ جیسے ہی معاملات حتمی شکل اختیار کریں گے آپ کو بتا دیں گے۔‘
سابق ڈائریکٹر جنرل ذکاوت الحسن نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پنجاب حکومت نے اعلان ضرور کیا ہے لیکن میرا نہیں خیال کہ پنجاب حکومت ایئر لائن چلا سکے گی۔ وفاقی حکومت اگر پی آئی اے نہیں چلا سکی تو صوبائی حکومت کیسے کامیاب ہوسکتی ہے۔ جو پنجاب حکومت نے دس ارب کا جہاز خریدا ہے وہ تو 19 سیٹوں والا خصوصی طیارہ ہے جو ایئر لائن کے لیے استعمال ہو ہی نہیں سکتا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وی آئی پیز کے لیے نیا طیارہ خریدنے کی منظوری
انڈپینڈنٹ اردو کو دستیاب دستاویزات کے مطابق کچھ عرصہ پہلے پنجاب کابینہ نے وزیر اعلی، گورنر اور دیگر اعلیٰ شخصیات کے لیے وی آئی پی فلائٹ کے آپریشنل اخراجات پورے کرنے کی مد میں موجودہ مالی سال 2025-26 میں سپلیمنٹری گرانٹ کی باقاعدہ منظوری دی۔ جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت Gulfstream G500 نامی الٹرا لانگ رینج VIP طیارہ خرید رہی ہے۔ جو پرانے ہاکر طیارے سے بہت بڑا، جدید ایویونکس والا اور زیادہ تیز رفتار ہے۔ اس کے لیے کابینہ نے ابتدائی طور پر 86 کروڑ 15 لاکھ سے زائد کی منظوری دی تھی۔ اس میں بتایا گیا کہ پرانے جہاز کی 11سو لیٹر فی گھنٹہ کی نسبت پیٹرول استعمال کرنے کی صلاحیت 21 سو لیٹر فی گھنٹہ ہو گی۔ جس سے آپریشنل اخراجات میں بھی اضافہ ہو گا۔ اس سمری میں طیارے کے کمرشل استعمال یا ایئر پنجاب کے لیے استعمال ہونے کا تذکرہ شامل نہیں ہے۔
ذکاوت الحسن کے بقول، ’میں امریکہ میں موجود ہوں میری رہائش گاہ کے قریب امریکی جہاز کھڑے ہیں ان میں ایسے درجنوں جہاز موجود ہین۔ طیارہ تو یہ بہت جدید ہے۔ لیکن ہمارا ملک قرضوں میں ڈوبا ہے اس طرح کی فضول خرچیاں کرنے کی بجائے حکومت موجودہ نظام کو بہتر کرے تو آمدن میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے اور ہوائی سفر کی سہولیات بھی بہتر ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ پہلے ہی اس طرح کا فالکن نامی جدید طیارہ ہمارے ملک کے صدر اور وزیر اعظم کے استعمال میں ہے۔ پنجاب میں بھی گونر فلیٹ کے نام سے تین خصوصی طیاروں کا فلیٹ لاہور ایئرپورٹ پر موجود ہوتا ہے۔ نئے خصوصی طیارے کی خریداری سمجھ سے باہر ہے۔‘
ایئر پنجاب منصوبہ کیا ہے؟
حکومت پنجاب کی جانب سے تیار کردہ ایئر پنجاب منصوبے کی دستاویزات کے مطابق صوبے کی علاقائی اور بین الاقوامی رابطوں کو بڑھانے اور ہوابازی کے شعبے کو فروغ دینے کے مقصد سے ایئر لائن بنائی جا رہی ہے۔ یہ ایئر لائن ایک جدید، مسافر محور کمپنی ہوگی جو چار بنیادی ستونوں پر قائم ہو گی کوالٹی، کنوینئینس، ریلائبلٹی اور کاسٹ۔ اس کا نعرہ ’ریلکس ابوو دی ریسٹ‘ رکھا گیا ہے۔ جو مسافروں کو اعلیٰ معیار کی سروس فراہم کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ یہ ایئر لائن پاکستان کی اندرونی اور بیرونی مارکیٹوں کو جوڑنے، سیاحت کو فروغ دینے اور تجارت کو بڑھانے کے لیے استعمال ہوگی۔ جس میں “نو فری لنچ” کا اصول بھی درج ہے۔ ابتدائی طور پر پانچ ایئر بس A320 طیارے استعمال کیے جائیں گے، جن کی مسافر گنجائش 164 ہے۔ ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل دونوں روٹس پر 80فیصد تک متوقع سفری ریٹ مقرر کیا گیا ہے۔ ڈومیسٹک مسافروں کے لیے فی کس کرایہ 15ہزار روپے جبکہ انٹرنیشنل روٹس جیسے کراچی سے دبئی کا کرایہ 40ہزار روپے اسی طرح کراچی سے جدہ سعودی عرب کا کرایہ 50ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبے سے پہلے سال آمدن کا اندازہ 10ارب روپے جبکہ آٹھ سالوں میں یہ آمدن 55ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔
دستاویز میں پاکستان کی ایئر ٹرانسپورٹ لینڈ سکیپ کا موازنہ انڈیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے کیا گیا ہے۔ پاکستان میں 61 طیارے، پانچ ایئر لائنز اور 46,000 انٹرنیشنل ڈیپارچرز ہیں جو علاقائی طور پر کم ہیں۔ مقامی ایئر لائنز جیسے پی آئی اے (حکومتی 32 طیارے)، ایئر سیال کے پانچ طیارے، سیرین ایئر کے سات، جناح فلائی ایئر لائن کے پانچ ایئر بلیو کے 12طیارے چل رہے ہیں۔
ماہر سول ایوی ایشن ذکاوت کے بقول، ’اگر سرکاری سطح پر ایئر لائن چلانے کی صلاحیت ہوتی تو پی آئی اے جیسی ایئرلائن خسارے میں نہ جاتی۔ ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور سفارشی کلچر ہے جو حکومتی نظام میں تبدیلیوں کے بغیر ختم نہیں ہوسکتا۔‘