برطانوی پولیس نے جمعرات کو اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو سرکاری عہدے میں بدعنوانی کے شبے میں گرفتار کر لیا ہے۔
دی انڈپینڈنٹ کے مطابق ٹیمز ویلی پولیس نے بتایا ہے کہ آج ہی 66 برس کے ہونے والے مسٹر ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو جمعرات کو نورفوک میں سینڈرنگھم اسٹیٹ پر حراست میں لیا گیا۔
برطانوی پولیس نے سابق شہزادے کے جیفری ایپسٹین کے ساتھ معاملات کے بارے میں تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے برطانیہ کے تجارتی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے بدنام مالیاتی شخصیت کے ساتھ حساس معلومات شیئر کیں۔
یہ اس وقت سامنے آیا جب نام نہاد ’ایپسٹین فائلز‘ کے حصے کے طور پر نئی ای میلز امریکی محکمہ انصاف کی طرف سے جاری کی گئیں۔
بیان میں پولیس فورس کا کہنا ہے کہ افسران نے برک شائر اور نورفولک میں چھاپے مارے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ گرفتار کیا گیا فرد پولیس کی حراست میں ہے۔
برطانیہ کے سابق شہزادے اینڈریو کو جمعرات کو بطور تجارتی ایلچی اپنے دور میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا، کیونکہ جیفری ایپسٹین کی فائلوں سے سامنے آنے والے الزامات پر برطانوی پولیس کی تحقیقات میں تیزی آ گئی ہے۔
اینڈریو کو ان کی 66ویں سالگرہ کے دن گرفتار کیا گیا۔ ان کی گرفتاری اپنی نوعیت کی پہلی گرفتاری ہے جس سے شاہی خاندان کے لیے دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اینڈریو کو گذشتہ سال ان کے تمام خطابات سے محروم کر دیا گیا تھا، جب ان کے بھائی شاہ چارلس سوم نے انہیں ان کے سابقہ گھر سے نکلنے پر مجبور کیا تھا۔
اینڈریو کے خلاف تحقیقات کے حصے کے طور پر، ٹیمز ویلی پولیس نے ایک سٹیٹمنٹ میں کہا، ’ہم نے آج (19/2) نارفوک سے 60 کی دہائی کے ایک شخص کو عوامی عہدے پر اختیارات کے ناجائز استعمال کے شبے میں گرفتار کیا ہے۔‘
برطانیہ میں عام رواج کے مطابق مشتبہ شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
برطانیہ کے متعدد میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا کہ جمعرات کی صبح مشرقی انگلینڈ میں سینڈرنگھم سٹیٹ پر بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کا ایک قافلہ پہنچتا دیکھا گیا، جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ پولیس کی گاڑیاں تھیں، جہاں اینڈریو اب رہائش پذیر ہیں۔
گذشتہ ہفتے ہونے والے نئے انکشافات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اینڈریو نے برطانیہ کے تجارتی ایلچی کے طور پر اپنے دور میں سزا یافتہ امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کو ممکنہ طور پر خفیہ دستاویزات بھیجی تھیں۔
اے ایف پی کی جانب سے دیکھی گئی نومبر 2010 کی ایک ای میل میں، اینڈریو بظاہر ایشیا کے ایک سرکاری دورے کے بعد ایپسٹین کے ساتھ ویت نام، ہانگ کانگ، شینزین اور سنگاپور پر رپورٹس شیئر کرتے دکھائی دیے۔
اینڈریو، جنہیں اب اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونزر کے نام سے جانا جاتا ہے، نے مبینہ طور پر اس دورے کی تفصیلات، جس میں ایپسٹین کے کاروباری ساتھی ان کے ہمراہ تھے، اور اس کے کئی مہینے بعد سرمایہ کاری کے مواقع بھی امریکی فنانسر کو بھیجے۔
ایپسٹین کا شکار ہونے والی ایک کم عمر خاتون کی جانب سے یہ الزام عائد کیے جانے کے بعد کہ انہیں ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے سمگل کیا گیا تھا، بالآخر سابق شہزادے کو ان کے خطابات سے محروم کر دیا گیا۔
انہوں نے اس سے قبل ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلقات میں کسی بھی قسم کے غلط کام کی تردید کی ہے۔
چارلس نے اپنے بھائی کے اقدامات پر ’تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے گذشتہ ہفتے بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ بکنگھم پیلس پولیس کی انکوائریوں میں ’تعاون کے لیے تیار‘ ہے۔
بی بی سی نے کہا ہے کہ سرکاری رہنمائی میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ تجارتی ایلچی اپنے سرکاری دوروں سے متعلق حساس، تجارتی یا سیاسی معلومات کو خفیہ رکھنے کے پابند ہیں۔
اینڈریو، جن کے ایپسٹین کے ساتھ تعلقات ان کی ساکھ میں برسوں طویل اور تیزی سے گراوٹ کا سبب بنے ہیں، نے 2001 سے ایک دہائی تک برطانوی تجارتی ایلچی کے طور پر خدمات انجام دیں۔
برطانیہ کی کم از کم نو الگ الگ پولیس فورسز نے تصدیق کی ہے کہ وہ ان رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہیں جو بظاہر سابق شہزادے کو ایپسٹین سے جوڑتی ہیں۔
جنوب مشرقی انگلینڈ میں سرے کی پولیس نے بدھ کو کہا کہ وہ ایک ترمیم شدہ رپورٹ سے ’آگاہ‘ ہو گئی ہے جس میں 1994 اور 1996 کے درمیان ورجینیا واٹر نامی گاؤں میں ’انسانی سمگلنگ اور ایک نابالغ پر جنسی حملوں‘ کا الزام لگایا گیا ہے۔
یہ رپورٹ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ایپسٹین، جو 2019 میں جیل میں مر گئے تھے، کی تحقیقات سے جاری کی گئی لاکھوں فائلوں کی تازہ ترین قسط میں سامنے آئی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے بیان میں کہا گیا، ’دستیاب محدود معلومات کا استعمال کرتے ہوئے اپنے سسٹمز کا جائزہ لینے کے بعد، ہمیں سرے پولیس کو ان الزامات کی رپورٹ کیے جانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔‘
’اس لیے ہم ان الزامات کے حوالے سے معلومات رکھنے والے کسی بھی شخص کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس کی اطلاع دے۔‘
اس بیان میں ملوث کسی فرد کا نام نہیں لیا گیا۔
لیکن یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ کے سابق وزیر اعظم گورڈن براؤن سمیت اہم شخصیات نے پولیس پر زور دیا ہے کہ وہ دہائیوں پرانی درجنوں پروازوں کی تحقیقات کرے جو برطانیہ کے ہوائی اڈوں پر پہنچیں اور جن کا تعلق ایپسٹین سے تھا۔
گذشتہ ہفتے نیو سٹیٹسمین میگزین میں لکھتے ہوئے براؤن نے کہا کہ انہیں ’نجی طور پر بتایا گیا ہے کہ سابق شہزادہ اینڈریو سے متعلق تحقیقات میں پروازوں کے اہم ثبوتوں کی مناسب جانچ نہیں کی گئی‘۔
انہوں نے کہا، ’میں نے پولیس سے کہا ہے کہ وہ نئی انکوائری کے حصے کے طور پر اس کا جائزہ لے،‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ’حکام کو کبھی معلوم ہی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے‘۔
لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے واشنگٹن میں برطانیہ کے سابق سفیر پیٹر مینڈیلسن اور رسوا ہونے والے فنانسر کے درمیان تعلقات کی بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔