امریکہ میں حالیہ جاری ہونے والی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق ای میلز اور دستاویزات میں ایک غیر متوقع حوالہ اس وقت سامنے آیا جب ایک پیغام میں انہوں نے پاکستانی شلوار قمیص خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
انڈپینڈنٹ اردو نے امریکہ محکمہ انصاف کی ویب سائٹ پر جاری دستاویزات میں پاکستان کے نام سے تلاش کرنے پر 864 فائلز سامنے آئیں جن میں پاکستان کا کسی نہ کسی حوالے سے ذکر ہے۔ تاہم پاکستان میں مقبول شلوار قمیض کے موضوع پر بھی زبیر خان نامی کسی شخص کے ساتھ ای میلز کا تبادلہ ہے۔
یہ زبیر خان کون ہے واضح نہیں۔ یہ بھی نہیں واضح کہ آیا وہ پاکستانی ہیں یا نہیں۔
ان نئی جاری ہونے والی دستاویزات میں، جو کہ کل 30 لاکھ صفحات پر مشتمل ہیں، ہزاروں تصاویر اور ویڈیوز، ای میلز، ٹیکسٹ میسجز، ممالک کی صورت حال سے متعلق خبریں، اندرونی تحقیقاتی رپورٹس اور دیگر معلومات شامل ہیں۔
زبیر خان تین جنوری 2017 کو بظاہر ایپسٹین کے ای میل کے جواب میں لکھتے ہیں کہ انہیں خوشی ہے کہ لباس اسے پسند آیا۔ ایپسٹین پھر لکھتے ہیں کہ ’آئی لوڈ دا آؤٹ فٹ (مجھے لباس بہت پسند آیا)۔‘
ایپسٹین کی شلوار قمیض میں دلچسپی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اگلے دن ای میل کے چین میں زبیر سے پوچھتے ہیں کہ اس لباس کا نام کیا ہے۔ زبیر وضاحت کرتے ہیں کہ پینٹ کو شلوار اور شرٹ کو قمیض کہتے ہیں اور یہ انڈیا میں بھی پارٹیوں میں پہنا جاتا ہے۔ اس سے شک ہوتا ہے کہ زبیر شاید پاکستانی ہو سکتے ہیں جو انڈیا میں اس کی مقبولیت بھی واضح کر رہے ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
اگلے روز زبیر کی جانب سے 20 جنوری 2017 کو ایپسٹین کو ای میل میں سالگرہ کی مبارک باد کے بعد ان سے کسی لباس کے فٹ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ جواب میں ایپسٹین انہیں اس قسم کے پانچ مزید لیکن سائز میں بڑے لباس خریدنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔
امریکی حکام نے زبیر کی اس گفتگو کی ای میل ایڈریس چھپا دیا ہے جس کی وجہ سے ان سے رابطہ ممکن نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ثقافتی حوالہ جات دستاویزات میں بکھرے ہوئے ہیں اور ان سے قانونی یا مجرمانہ پہلو سامنے نہیں آتا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس دلچسپ گفتگو کے علاوہ پاکستان کا ذکر مختلف عالمی موضوعات کے تناظر میں سامنے آتا ہے۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق ان حوالہ جات کا ایپسٹین کے مجرمانہ نیٹ ورک سے کوئی براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
دستاویزات کا زیادہ سنجیدہ حصہ عالمی صحت اور فلاحی سرگرمیوں سے متعلق گفتگو پر مشتمل ہے، جہاں پاکستان کا ذکر پولیو کے خلاف عالمی مہم کے تناظر میں ہوا۔ بعض ای میلز میں پاکستان میں ویکسین ٹیموں کو درپیش سکیورٹی خدشات، فیلڈ چیلنجز اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مبصرین کے مطابق یہ گفتگو عمومی عالمی پالیسی اور ترقیاتی مسائل تک محدود تھی اور اس میں کسی غیر قانونی سرگرمی کا ثبوت موجود نہیں۔
اسی طرح کچھ ای میلز میں پاکستانی سیاسی شخصیات کے نام بھی سامنے آئے، جن میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کے سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی شامل ہیں۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق یہ حوالہ جات زیادہ تر عالمی سیاسی گفتگو یا ممکنہ سفارتی رابطوں کی عمومی فہرستوں تک محدود تھے۔ کسی ملاقات، ذاتی تعلق یا مجرمانہ کردار کی تصدیق نہیں کی گئی۔
چند رپورٹس میں پاکستان سے متعلق جغرافیائی سیاست اور سکیورٹی موضوعات پر بھی بات چیت کا ذکر ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گفتگو بین الاقوامی حالات کے عمومی تجزیے کا حصہ تھی، نہ کہ کسی خفیہ یا غیر قانونی سرگرمی کی نشاندہی۔ ایپسٹین کو اکثر عالمی مسائل پر ای میلز موصول ہوتی تھیں جن میں پاکستان کا بھی ذکر ہوتا تھا۔ وہ انہیں پڑھتے تھے یا نہیں واضح نہیں۔
قانونی تجزیہ کاروں اور بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایپسٹین اب تک کی دستاویزات میں پاکستان کا مجموعی ذکر محدود، ضمنی اور سیاق و سباق کے لحاظ سے غیر مجرمانہ نوعیت کا ہے۔ دستیاب شواہد اس بات کی تائید نہیں کرتے کہ کسی پاکستانی شخصیت یا ادارے کا ایپسٹین کے جرائم میں براہِ راست کردار تھا۔