بنگلہ دیش میں جمعرات کو اہم قومی انتخابات میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) آگے نظر آ رہی ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمٰن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت صرف برائے نام مخالفت کی سیاست نہیں کرے گی۔ ’ہم مثبت سیاست کریں گے۔‘
اس بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ قومی انتخاب میں اپنی شکست تسلیم کر رہے ہیں۔
ابتدائی گنتی کے مطابق بی این پی 131 نشستوں پر آگے اور 300 رکنی ایوان میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے درکار 151 کے ہندسے کے قریب ہے۔
ابتدائی نتائج رات گئے جبکہ مکمل نتائج جمعے کی صبح تک واضح ہونے کی امید ہے۔
یہ انتخابات 2024 میں طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے والی شیخ حسینہ کی جین زی کی قیادت میں ہونے والی بڑے پیمانے کی بغاوت کے نتیجے میں برطرفی کے بعد ہو رہے ہیں۔
اگرچہ حتمی اعداد و شمار فوری طور پر دستیاب نہیں لیکن الیکشن کمیشن کے سینیئر سیکریٹری اختر احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ دوپہر دو بجے (مقامی وقت) تک 42,651 میں سے 36,031 پولنگ سٹیشنوں میں تقریباً نصف ووٹرز نے ووٹ ڈالے تھے، جب کہ پولنگ کے اختتام میں ابھی ڈھائی گھنٹے باقی تھے۔
یہ شرح 2024 کے گذشتہ انتخابات کے 42 فیصد ٹرن آؤٹ سے زیادہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ساڑھے 17 کروڑ کی آبادی والے ملک میں واضح انتخابی نتیجہ استحکام کے لیے ضروری ہے کیونکہ حسینہ مخالف خونی احتجاج نے کئی ماہ تک بدامنی پیدا کی اور ملک کی اہم صنعتوں، خاص طور پر دنیا کی دوسری بڑی ملبوسات کی برآمدی صنعت، کو متاثر کیا۔
یہ دنیا کا پہلا انتخاب ہے جو نوجوان نسل جین زی کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے بعد منعقد ہو رہا ہے جبکہ اگلے ماہ نیپال میں بھی اسی نوعیت کے انتخابات ہوں گے۔
الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق زیادہ تر پولنگ سٹیشنوں پر گنتی 4:30 شام (مقامی وقت) پر پولنگ ختم ہونے کے فوراً بعد شروع ہو گئی اور ابتدائی نتائج رات 12 بجے کے قریب متوقع ہیں جبکہ مکمل نتائج جمعے کی صبح تک واضح ہونے کی امید ہے۔
اس مقابلے میں دو اتحاد آمنے سامنے ہیں، جن کی قیادت سابق اتحادی کر رہے ہیں، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی۔ رائے عامہ کے سروے بی این پی کو معمولی برتری دکھا رہے تھے۔
بی این پی کے طارق رحمٰن نے اس سے قبل صحافیوں سے کہا تھا ’مجھے اپنی جیت پر پورا یقین ہے۔ عوام میں ووٹ کے حوالے سے جوش و خروش ہے۔‘
جماعت کے شفیق الرحمٰن نے انتخابات کو ’بنگلہ دیش کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی ہے اور وہ خود اپنے دیرینہ اتحادی انڈیا میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں، جس سے چین کو بنگلہ دیش میں اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع مل رہا ہے کیونکہ ڈھاکہ اور نئی دہلی کے تعلقات کشیدہ ہیں۔
حسینہ واجد کے دور اقتدار میں انتخابات تو ہوتے رہے لیکن ناقدین کے مطابق وہ اپوزیشن کے بائیکاٹ اور دھمکیوں کے باعث شفاف نہیں تھے۔
انتخابات کے ساتھ ساتھ ایک ریفرنڈم بھی ہوا، جس میں آئینی اصلاحات پر ووٹ ڈالا گیا، جن میں انتخابی عمل کے لیے غیر جانبدار عبوری حکومت کا قیام، پارلیمان کو دو ایوانوں میں تقسیم کرنا، خواتین کی نمائندگی بڑھانا، عدلیہ کو مزید خودمختار بنانا، اور وزیراعظم کے لیے دو بارہ تک کی حد شامل ہے۔
300 نشستوں پر مشتمل قومی پارلیمان، جاتیا سنگساد، کے لیے 2,000 سے زائد امیدوار میدان میں ہیں، جن میں کئی آزاد امیدوار بھی شامل ہیں۔
ایک حلقے میں ایک امیدوار کے انتقال کے باعث انتخابات مؤخر کر دیے گئے۔ مجموعی طور پر 50 سے زائد جماعتیں حصہ لے رہی ہیں، جو ملک کا نیا ریکارڈ ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حسینہ واجد کے مضبوط گڑھ گاپال گنج میں ایک پولنگ سٹیشن کے باہر دیسی ساختی بم کے دھماکے میں دو نیم فوجی اہلکار اور ایک 13 سالہ لڑکی زخمی ہوگئے۔
لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے اتنے پُرجوش ہیں، یہ تقریباً عید جیسا لگ رہا ہے۔‘
ڈھاکہ میں ووٹ ڈالنے کے بعد عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے کہا ’آج سے ہمیں نیا بنگلہ دیش بنانے کا موقع ملا ہے۔ یہ ایک تہوار ہے، خوشی کا دن ہے، آزادی کا دن ہے۔ ہمارا ڈراؤنا خواب ختم ہوا۔ میں آپ سب کو مبارکباد دیتا ہوں۔‘
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے سینیئر کنسلٹنٹ تھامس کین نے کہا ’اب بنگلہ دیش کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہو گا کہ انتخابات شفاف طریقے سے ہوں اور تمام جماعتیں نتائج کو قبول کریں۔
’اگر ایسا ہوا تو یہ اس بات کا مضبوط ثبوت ہوگا کہ ملک واقعی جمہوری بحالی کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔‘