خطے میں دیرپا استحکام صرف سفارت کاری سے ممکن، فوجی طاقت سے نہیں: سعودی عرب

سعودی وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ کشیدگی کے اثرات عالمی سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور اقتصادی ترقی تک پھیل سکتے ہیں۔

6 مارچ 2025: سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان مکہ مکرمہ میں مصر کے ساتھ منعقدہ خلیج تعاون کونسل (GCC) کے 163ویں وزارتی کونسل اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ (تصویر: عامر ہلابی / اے ایف پی)

سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بدھ کو کہا ہے کہ خطے میں دیرپا استحکام صرف سفارت کاری اور پائیدار سیاسی حل کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے، فوجی طاقت کے ذریعے نہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق برطانیہ کے شہر کیمبرج میں منعقدہ 16ویں گلف ریسرچ فورم سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ فیصل نے کہا کہ خطہ ایک ’اہم اور فیصلہ کن مرحلے‘ سے گزر رہا ہے، جس میں جاری بحرانوں سے نمٹنے اور ایک زیادہ مستحکم مستقبل کی تعمیر کے لیے مزید تعاون کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’دیرپا استحکام کا حصول فوجی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ ایسے پائیدار سفارتی حل کے ذریعے ممکن ہے جو بحرانوں کی بنیادی وجوہات کا ازالہ کریں۔‘

سعودی وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ کشیدگی کے اثرات عالمی سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور اقتصادی ترقی تک پھیل سکتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی نظام کے تحفظ اور ایسے سیاسی حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششیں کی جانی چاہئیں جو دیرپا امن اور سلامتی کو یقینی بنائیں، بجائے اس کے کہ صرف عارضی کشیدگی کو قابو میں رکھنے پر توجہ دی جائے۔

شہزادہ فیصل نے کہا کہ ایک زیادہ مستحکم علاقائی نظام اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں پر قائم ہونا چاہیے، جن میں ریاستوں کی خودمختاری کا احترام، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، حسنِ ہمسائیگی، سمندری راستوں کی آزادی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ اصول کسی بھی مستحکم علاقائی نظام کی بنیاد ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خطے میں ترقی اور خوشحالی کی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’سعودی عرب موجودہ چیلنجز پر قابو پانے کے حوالے سے پُرامید ہے۔‘

 انہوں نے وژن 2030 کے ترقی، جدت اور مواقع کے فروغ پر مبنی اہداف کو استحکام کے اہم محرکات قرار دیا۔

شہزادہ فیصل نے کہا کہ ’اس مرحلے میں سرمایہ کاری کے لیے ضروری ہے کہ واضح اصولوں، باہمی احترام اور پائیدار معاہدوں پر مبنی ایک زیادہ تعاون پر مبنی اور مستحکم علاقائی نظام قائم کیا جائے جو سب کے لیے امن، سلامتی اور خوشحالی کو یقینی بنائے۔‘

انہوں نے گلف ریسرچ فورم جیسے علمی پلیٹ فارمز کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ ایسے فورمز مکالمے کے فروغ، باہمی فہم میں اضافے اور پالیسی سازوں کے لیے ایسے خیالات پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں جو ایک زیادہ مستحکم اور پائیدار مستقبل کی تعمیر میں معاون ثابت ہوں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا