’دوسروں کو نصیحت‘: لوگوں کو سوشل میڈیا سے روکنے والے خود بھی وہیں سرگرم

اینٹی ڈوم سکرولنگ کری ایٹرز خود سوشل میڈیا پر آکر صارفین کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ بے مقصد ویڈیوز میں وقت ضائع کر رہے ہیں اور ان کی خواہش یہ ہے کہ وہ سکرولنگ کا ٹائم ان کی ویڈیوز دیکھنے میں گزاریں۔

9 اپریل 2021 کو لی گئی اس تصویر میں بیجنگ میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ’کوائشو‘ پر اپنے چینل کو سکرول کر رہی ہیں (گریگ بیکر / اے ایف پی)

دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے بے تحاشہ استعمال نے ایک نئے رجحان کو جنم دیا ہے جہاں صارفین کو مسلسل منفی خبریں اور پریشان کن پوسٹیں دیکھنے اور مسلسل سکرولنگ سے روکنے کی کوشش کرنے والے افراد خود بھی سوشل میڈیا ہی پر سرگرم ہیں۔

انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر چلنے والی ویڈیوز کے نہ ختم ہونے والے سلسلے میں اکثر صارفین وقت کا اندازہ کھو بیٹھتے ہیں لیکن اسی دوران بعض اوقات ایسے کونٹینٹ کری ایٹرز نمودار ہو جاتے ہیں جو ہمیں یہ یاد دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ نے بس 10 منٹ کے لیے فون اٹھایا تھا لیکن حقیقت میں آپ 30 منٹ سے سکرولنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہی انفلوئنسرز میں امریکی کری ایٹر اولیویا یوکیبونس بھی شامل ہیں جو سوشل میڈیا کے بے ہنگم استعمال کے خلاف ویڈیوز بناتی ہیں اور صارفین کو متنبہ کرتی ہیں کہ وہ چند لمحے پہلے کیا دیکھ چکے تھے، شاید یاد بھی نہ ہو۔

یوکیبونس کا کہنا ہے کہ ’لوگ طنز کرتے ہیں کہ آپ خود بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہی ہیں، تو میں کہتی ہوں اور آپ یہیں فون پر بیٹھے ہیں، اسی لیے تو میں یہاں آکر آپ کو روک رہی ہوں۔‘

ان کی ویڈیوز صارفین کو احساس دلاتی ہیں کہ وہ اصل میں کتنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف میلبرن کے پروفیسر اوفر تورل کے مطابق زیادہ تر لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ روزانہ وہ کتنے گھنٹے فون استعمال کرتے ہیں اور جب انہیں سکرین ٹائم دکھایا جاتا ہے تو انہیں ’حیرت کا جھٹکا‘ لگتا ہے۔

اولیویا ان کری ایٹرز کے بڑھتے ہوئے گروپ کا حصہ ہیں جو صارفین کو ایپس بند کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ کچھ سخت لہجے میں اور کچھ نرم لہجے میں۔ وہ سکرین کنٹرول ایپ ’اوپل‘ (Opal) کے لیے کام کرتی ہیں، لیکن ان کی ویڈیوز میں براہ راست برانڈ کا ذکر کم ہوتا ہے تاکہ پیغام مؤثر رہے۔

کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محقق ایان اینڈرسن کے مطابق یہ مداخلت دلچسپ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی عادت بدلنے کے لیے کافی ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ شدید سکرولنگ کرنے والے شاید توجہ ہی نہ دے رہے ہوں، اس لیے اثر کم ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ دنیا بھر میں اربوں صارفین سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں لیکن اس بات پر اتفاق نہیں کہ اسے ’نشہ‘ یا ’لت‘ کہنا درست ہے یا نہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ لوگ اکثر خود کو زیادہ ’’ایڈکٹڈ‘‘ سمجھ لیتے ہیں، جبکہ علامات اس کا ثبوت نہیں دیتیں۔

اینڈرسن کے مطابق خود کو لت کا شکار سمجھنا بھی منفی اثرات ڈال سکتا ہے کیونکہ اس سے انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اس کے استعمال پر قابو نہیں پا سکتا۔

سوشل میڈیا استعمال کم کرنے کے لیے وہ چھوٹی تبدیلیوں کا مشورہ دیتے ہیں جیسے سوشل میڈیا کی ایپس کو ہوم سکرین سے ہٹا دینا، نوٹیفکیشن بند کرنا یا خواب گاہ میں فون نہ رکھنا۔

دوسری جانب کیٹ جی پی ٹی (CatGPT) جیسے کری ایٹرز الگ انداز میں ویڈیوز بنا کر لوگوں کو سوشل میڈیا کے ’نفسیاتی جال‘ سے آگاہ کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں لوگوں کے آن لائن وقت بڑھانے کے لیے وسیع حکمت عملی رکھتی ہیں، اس لیے صارف کا قصور کم ہے۔

کیٹ نے’فزیکل فونز‘  نامی کاروبار بھی قائم کیا ہے جو بلوٹوتھ لینڈ لائن فون تیار کرتا ہے تاکہ لوگ سمارٹ فون کم استعمال کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’آف لائن رہنا اب ایک نئی آسائش بن چکا ہے۔‘

ماہرین کے مطابق اگر سوشل میڈیا کے استعمال میں معمولی کمی بھی آ جائے مثلاً 10 گھنٹے سے ایک گھنٹہ یا تین گھنٹے سے 30 منٹ، تو یہ فرد اور معاشرے دونوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

تاہم، انفلوئنسرز کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہی 30 منٹ لوگ ان کی ویڈیوز دیکھنے میں گزاریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل