آسٹریلیا بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی پر نظر ثانی کرے: میٹا

میٹا کا کہنا ہے کہ اس نے نئے آسٹریلوی قانون کے تحت پانچ لاکھ 44 ہزار سے زائد اکاؤنٹس بلاک کر دیے ہیں۔

دو نومبر 2021 کو بنائی گئی اس تصویر میں میٹا پلیٹ فارمز کے لوگو کی تھری ڈی پرنٹ شدہ شکل گوگل کے لوگو کے سامنے دکھائی دے رہی ہے (روئٹرز)

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے پیر کو آسٹریلیا پر زور دیا ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر لگائی گئی دنیا کی پہلی پابندی پر نظر ثانی کرے۔ 

میٹا کے مطابق اس نے نئے آسٹریلوی قانون کے تحت پانچ لاکھ 44 ہزار سے زائد اکاؤنٹس بلاک کر دیے ہیں۔

آسٹریلیا نے گذشتہ سال 10 دسمبر کو قانون نافذ ہونے کے بعد سے میٹا، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پابند کیا تھا کہ وہ کم عمر صارفین کو اکاؤنٹس رکھنے سے روکیں۔

نئے قانون کے تحت اگر کمپنیاں حکم تعمیل کے لیے ’معقول اقدامات‘ کرنے میں ناکام رہیں تو انہیں چار کروڑ 95 لاکھ آسٹریلوی ڈالر (تین کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر) جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ارب پتی مارک زکربرگ کی ملکیت میٹا نے کہا کہ اس نے 11 دسمبر تک ایک ہفتے میں کم عمر صارفین کے انسٹاگرام سے تین لاکھ 31 ہزار، فیس بک سے ایک لاکھ 73 ہزار اور تھریڈز سے 40 ہزار اکاؤنٹس ہٹا دیے۔

کمپنی نے کہا کہ وہ قانون پر عمل کرنے کی پابند ہے۔

لیکن ساتھ ہی اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ آسٹریلوی حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ وہ صنعت (ٹیک کمپنیوں) کے ساتھ مثبت اور تعمیری انداز میں بات چیت کرے تاکہ مسئلے کا کوئی بہتر حل نکالا جا سکے۔

’کبھی نہ ختم ہونے والی دوڑ‘

میٹا نے اپنے اس سابقہ مطالبے کو دہرایا کہ ایپ سٹورز کو لوگوں کی عمر کی تصدیق کرنے اور والدین کی اجازت لینے کا پابند بنایا جائے اس سے پہلے کہ 16 سال سے کم عمر افراد کوئی ایپ ڈاؤن لوڈ کر سکیں۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ یہی واحد طریقہ ہے جس سے اس نہ ختم ہونے والی دوڑ سے بچا جا سکتا ہے جس میں ایک ایپ پر پابندی لگتے ہی نوجوان اس سے بچنے کے لیے فوراً کسی نئی ایپ پر منتقل ہو جاتے ہیں۔ ایک مسئلہ حل کریں تو وہ کسی اور شکل میں دوبارہ سامنے آ جاتا ہے۔

حکومت نے کہا کہ وہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو نوجوان آسٹریلوی شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔

ایک حکومتی ترجمان نے کہا کہ ’میٹا جیسے پلیٹ فارمز تجارتی مقاصد کے لیے اپنے صارفین کا ڈیٹا بڑی مقدار میں اکٹھا کرتے ہیں۔ وہ اس معلومات کو آسٹریلوی قانون کی پاسداری کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں اور انہیں کرنا چاہیے کہ 16 سال سے کم عمر افراد ان کے پلیٹ فارمز پر نہ ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میٹا نے کہا کہ والدین اور ماہرین اس بات پر پریشان ہیں کہ یہ پابندی نوجوانوں کو آن لائن کمیونٹیز سے الگ کر دے گی، اور کچھ کو کم ریگولیٹڈ ایپس اور انٹرنیٹ کے تاریک گوشوں کی طرف دھکیل دے گی۔

اس نے کہا کہ قانون سازی کے ابتدائی اثرات ’ظاہر کرتے ہیں کہ یہ نوجوان آسٹریلویوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود میں اضافے کے اپنے مقاصد کو پورا نہیں کر رہی ہے۔‘

آن لائن عمر کے تعین کے لیے کسی انڈسٹری سٹینڈرڈ کے فقدان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، میٹا نے کہا کہ آسٹریلوی قانون کی تعمیل ایک ’کثیر سطحی عمل‘ ہو گا۔

پابندی کے بعد سے کیلیفورنیا میں قائم فرم نے کہا کہ اس نے اوپن ایج انیشی ایٹو کی بنیاد رکھنے میں مدد کی ہے، جو ایک غیر منافع بخش گروپ ہے جس نے ’ایج کیز‘ نامی عمر کی تصدیق کے ٹولز لانچ کیے ہیں جو شریک پلیٹ فارمز کے ساتھ استعمال کیے جائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی