انڈیا سمٹ: مقامی کمپنی کا بغیر انٹرنیٹ فون پر چلنے والا اے آئی ماڈل متعارف

سروم اے آئی کا متعارف کیا گیا یہ ماڈل دنیا میں دور دراز علاقوں میں مصنوعی ذہانت تک رسائی کو ممکن بنائے گا۔

17 فروری 2026 کو دہلی میں اے آئی امپیکٹ سمٹ میں دکھائے گئے ورچوئل رئیلٹی ہیڈسیٹ کے ہورڈنگ کے پاس سے گزرتے ہوئے لوگ موبائل فون استعمال کر رہے ہیں (ارون سنکر / اے ایف پی)

ایک انڈین کمپنی نے مصنوعی ذہانت کا ایک نیا ماڈل متعارف کرایا ہے جو بنیادی موبائل فونز پر اور انٹرنیٹ کنکشن کے بغیر کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت دنیا کے دور دراز علاقوں میں اے آئی تک رسائی کو وسعت دے سکتی ہے۔

بنگلور میں قائم کمپنی سروم اے آئی نے دہلی میں ہونے والے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران اپنے نئے ماڈلز کی مکمل سیریز کا اعلان کیا۔

ہفتے کو ختم ہونے والے سمٹ میں ٹیکنالوجی کی دنیا کی کئی بڑی شخصیات نے بطور کلیدی مقرر شرکت کی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ عالمی سطح کے اس فلیگ شپ اے آئی سمٹ کی میزبانی گلوبل ساؤتھ میں کی گئی ہے۔ انڈیا نے اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے خود کو اس شعبے میں ایک مضبوط امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے جو اس وقت امریکہ اور چین کے غلبے میں ہے۔ سمٹ کے دوران تعلیم، وائس ٹیکنالوجی، صحت اور گورننس سمیت مختلف شعبوں میں مقامی طور پر تربیت یافتہ اے آئی سسٹمز پیش کیے گئے۔

تاہم سب سے زیادہ توجہ سروم کی جانب سے دو نئے بڑے لینگویج اے آئی ماڈلز، اپ ڈیٹ شدہ سپیچ اور وژن سسٹمز اور ایک ایسے اے آئی اسسٹنٹ پر رہی جو نوکیا طرز کے سادہ بٹن والے فون پر براہ راست اور انٹرنیٹ کے بغیر چلتا ہوا دکھایا گیا۔

یہ نظام کمپنی کے مطابق سروم ایج کا حصہ ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو ریموٹ ڈیٹا سینٹرز پر انحصار کے بجائے سمارٹ فونز اور لیپ ٹاپس پر براہ راست کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے کمزور یا بالکل نہ ہونے والی کنیکٹیوٹی والے علاقوں میں بھی سپیچ ریکگنیشن، ترجمہ اور ٹیکسٹ ٹو سپیچ جیسی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ یہ پہلو انڈیا اور دیگر ترقی پذیر خطوں میں خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں موبائل انٹرنیٹ اب بھی غیر مستحکم ہے۔

عالمی بینک کے 2024 تک کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی صرف تقریباً 71 فیصد آبادی انٹرنیٹ سے منسلک ہے جبکہ وہ علاقے بھی جہاں کنیکٹیوٹی موجود سمجھی جاتی ہے وہاں اکثر نیٹ ورک کے مسائل پیش آتے ہیں۔

بدھ کے روز لانچ ایونٹ کے دوران سروم کے پروڈکٹ مینیجر آدتیہ دھاولا نے کہا ’ہم ایک ارب انڈینز کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے چھوٹے اور مؤثر ماڈلز انتہائی اہم ہیں۔‘

سمٹ میں سروم نے اپنے اسسٹنٹ کو ایک سادہ یا ’فیچر فون‘ پر فون کال کے ذریعے چلا کر دکھایا۔ اس کے ذریعے صارفین بغیر فعال انٹرنیٹ کنکشن کے انڈین زبانوں میں بات چیت کر سکتے ہیں۔ کمپنی نے بتایا کہ وہ نوکیا برانڈ کی لائسنس ہولڈر کمپنی ایچ ایم ڈی اور چپ ساز ادارے Qualcomm کے ساتھ مل کر موجودہ موبائل پروسیسرز پر کارکردگی بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔

کمپنی کے ایک بلاگ میں فیچر فونز پر توجہ کو اس بات پر نظرثانی قرار دیا گیا کہ اے آئی کو کیسے فراہم اور اس کی قیمت کیسے وصول کی جاتی ہے۔ بلاگ میں لکھا گیا ’ذہانت ہر جگہ کام کرنی چاہیے۔ دور دراز سرورز سے طلب کی جانے والی نہیں، کنیکٹیوٹی کی شرط کے پیچھے قید نہیں اور ہر سوال کے حساب سے ناپی جانے والی نہیں۔ بلکہ فوری اور مقامی ہے۔‘

کمپنی کے مطابق اے آئی کو مقامی طور پر چلانے سے بار بار آنے والے کلاؤڈ اخراجات ختم ہو جاتے ہیں اور پرائیویسی بہتر ہوتی ہے۔

بلاگ میں کہا گیا ’نہ فی سوال کوئی لاگت، نہ استعمال پر مبنی قیمتیں، نہ صارفین بڑھنے پر سکیلنگ کا مسئلہ۔ انفیرینس کی لاگت پہلے ہی ادا ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ ڈیوائس میں شامل ہوتی ہے۔

’آپ کا ڈیٹا کبھی آپ کی ڈیوائس سے باہر نہیں جاتا۔ کوئی سرور آپ کے سوالات لاگ نہیں کرتا، کوئی ڈیٹابیس آپ کی گفتگو محفوظ نہیں کرتی۔‘

آزاد ماہرین کے مطابق اس خیال کا ایک پہلو نیا نہیں ہے۔ بڑی ٹیک کمپنیاں طویل عرصے سے اپنے بڑے ماڈلز کے چھوٹے اور تیز ورژن پیش کرتی آ رہی ہیں اور ایپل نے بھی پرائیویسی کی بنیاد پر آن ڈیوائس اے آئی کو فروغ دیا ہے۔ تاہم اصل چیلنج یہ رہا ہے کہ ایسے سسٹمز کو کم طاقتور، سستے آلات اور غیر مستحکم کنیکٹیوٹی والے ماحول میں مؤثر بنایا جائے۔

کارنیل ٹیک میں آپریشنز، ٹیکنالوجی اور انوویشن کے پروفیسر کرن گیروترا نے کہا ’ایک بات یہ ہے کہ کوئی ایج ماڈل جدید آئی فون پر چل جائے اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ کم طاقتور فون پر بھی کام کرے۔‘

اگر کمپنی کنٹرولڈ ڈیمو سے آگے بڑھ کر کم لاگت ڈیوائسز پر مسلسل یہ صلاحیت فراہم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو گیروترا کے مطابق اس کی کشش انڈیا کی کنیکٹیوٹی کے مسائل سے کہیں آگے جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا ’اس بات کا امکان ہے کہ یہ منفرد پوزیشننگ انڈیا سے باہر بھی ایک بڑی مارکیٹ تلاش کر لے۔‘

آن ڈیوائس اسسٹنٹ کے پیچھے ماڈلز کی ایک وسیع بنیاد موجود ہے جو سمٹ میں پیش کی گئی۔ ان میں 30 ارب پیرامیٹرز پر مشتمل ایک لینگویج ماڈل اور 105 ارب پیرامیٹرز پر مشتمل ایک بڑا نظام شامل ہے۔ پیرامیٹرز وہ اندرونی اقدار ہوتی ہیں جو ماڈل تربیت کے دوران سیکھتا ہے۔ زیادہ پیرامیٹرز عموماً زیادہ پیچیدہ کاموں کی صلاحیت دیتے ہیں لیکن اس کے لیے زیادہ کمپیوٹنگ پاور درکار ہوتی ہے۔

موازنہ کیا جائے تو جدید ترین نظام جیسے اوپن اے آئی کا جی پی ٹی فور اندازوں کے مطابق سیکڑوں ارب بلکہ ممکنہ طور پر کھربوں پیرامیٹرز پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے سروم کے ماڈلز دنیا کے سب سے بڑے نظاموں سے چھوٹے ہیں۔

دونوں ماڈلز میں mixture-of-experts آرکیٹیکچر استعمال کیا گیا ہے جس میں ایک وقت میں کل پیرامیٹرز کا صرف ایک حصہ فعال ہوتا ہے جس سے کمپیوٹنگ لاگت کم ہو جاتی ہے۔ 30 ارب پیرامیٹرز والا ماڈل گفتگو کے لیے 32 ہزار ٹوکنز کا کانٹیکسٹ ونڈو فراہم کرتا ہے جبکہ 105 ارب پیرامیٹرز والا ماڈل زیادہ پیچیدہ استدلال کے لیے 128 ہزار ٹوکنز کا ونڈو رکھتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ سروم سلیکون ویلی یا بیجنگ سے ماڈل کے حجم میں مقابلہ کر سکتا ہے یا نہیں بلکہ یہ کہ آیا اسے ایسا کرنے کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔

گیروترا نے کہا ’یہ ایسا نہیں کہ آپ براہ راست سب سے ذہین ماڈل کے لیے مقابلہ کریں۔ دانشمندانہ حکمت عملی یہ ہو گی کہ اپنی طاقتوں پر مقابلہ کیا جائے جیسا کہ ہر ملک میں ہوتا ہے۔‘

ان کے مطابق کمپنی نے ’چند ایسے پہلو منتخب کیے ہیں جہاں اسے اسٹریٹیجک برتری حاصل ہو سکتی ہے اور وہ اسی پر توجہ دے رہی ہے جو درست حکمت عملی ہے۔‘

یہ سب سروم کو اے آئی مارکیٹ کے ایک مختلف حصے میں لے آتا ہے۔

انہوں نے کہا ’کیا یہ چیٹ جی پی ٹی سے مقابلہ کر رہے ہیں؟ ہر چیٹ جی پی ٹی صارف کے لیے نہیں۔ اعلیٰ درجے کے انٹرپرائز صارف کے لیے شاید نہیں۔ لیکن وہ صارف جو وسائل کی کمی کا شکار ہو اور مقامی زبانوں کی ضرورت رکھتا ہو، اس کے لیے یقیناً۔‘

انڈیا کے اے آئی سمٹ میں بنیادی توجہ ’خودمختاری‘ کے مسئلے پر رہی ہے یعنی یہ کہ انڈیا اور دیگر ترقی پذیر ممالک عالمی سطح پر اے آئی کی ترقی میں اپنا کردار کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں۔

اگرچہ کچھ ناپسندیدہ عوامل بھی سامنے آئے جن میں ایک انڈین یونیورسٹی کی جانب سے چینی روبوٹ ڈاگ کی تیاری کا دعویٰ اور وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی کے دوران سمٹ مقام کی کئی گھنٹوں پر محیط خالی کرانے کی کارروائیاں شامل تھیں تاہم اس کے باوجود متعدد اعلانات ایسے تھے جو اے آئی کی دوڑ میں انڈیا کے بڑے کھلاڑی بننے کے عزم کی نشاندہی کرتے ہیں۔

سروم اے آئی کے علاوہ اس ہفتے کئی نئے ماڈلز بھی متعارف کرائے گئے۔ انڈیا کی بڑی آئی ٹی کمپنی Tech Mahindra نے تعلیم اور شہری خدمات کے لیے ایک ہندی فرسٹ لینگویج ماڈل پیش کیا۔ اسی طرح http://Gnani.ai جیسے سٹارٹ اپس نے کثیر لسانی وائس اے آئی سسٹم متعارف کرایا جبکہ BharatGen اور Fractal Analytics نے مخصوص شعبوں کے لیے تیار کردہ ماڈلز پیش کیے۔

سروم کا کہنا ہے کہ اس کے نئے ماڈلز کو غیر ملکی ملکیتی نظاموں کو بہتر بنانے کے بجائے حکومتی تعاون سے فراہم کردہ کمپیوٹنگ وسائل کے ذریعے مقامی طور پر تربیت دی گئی ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی