چین کی ایک عدالت نے ایک ٹیک کمپنی کو کہا ہے کہ وہ اپنے سابق ملازم کو 28 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ رقم دے۔ اس ملازم کو اس وقت نوکری سے نکال دیا گیا تھا جب کمپنی نے اس کی جگہ اے آئی (مصنوعی ذہانت) نظام لگا دیا تھا اور عدالت نے اس برطرفی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
کوالٹی اشورنس کے ماہر، جنہیں صرف ژو کے نام سے شناخت کیا گیا، کو مشرقی شہر ہانگژو میں کمپنی میں ان کے کام کو اے آئی سے بدلنے کے بعد تنزلی کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں 40 فیصد تنخواہ کٹوتی قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔ جب ژو نے یہ شرائط ماننے سے انکار کیا تو انہیں ملازمت سے نکال دیا گیا۔
کمپنی کا مؤقف تھا کہ وہ تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے جس کے باعث عملے کی ضرورت کم ہو گئی اور اس نے 2022 میں کمپنی جوائن کرنے والے ژو کو تقریباً 33,500 پاؤنڈ بطور معاوضہ کی پیشکش کی۔
ژو نے یہ پیشکش مسترد کر دی اور معاملہ ثالثی پینل کے پاس لے گئے، جس نے ان کی برطرفی کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے زیادہ معاوضے کے دعوے کی حمایت کی۔
کمپنی، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے ضلعی عدالت سے رجوع کیا لیکن اسے شکست ہوئی، جس کے بعد اس نے ہانگژو انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ میں اپیل کی، جہاں بھی فیصلہ ژو کے حق میں آیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ کمپنیاں صرف اس بنیاد پر ملازمین کو برطرف نہیں کر سکتیں کہ ان کی جگہ اے آئی سسٹمز لگا دیے جائیں۔
عدالت کے مطابق کمپنی کی جانب سے پیش کی گئی برطرفی کی وجوہات نہ تو کاروباری کمی یا آپریشنل مشکلات جیسے منفی حالات میں آتی ہیں اور نہ ہی وہ اس قانونی شرط پر پوری اترتی ہیں جس کے تحت ملازمت کا معاہدہ جاری رکھنا ’ناممکن‘ ہو جائے۔
عدالت نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کی بنیاد پر کمپنیاں یکطرفہ طور پر ملازمین کو فارغ نہیں کر سکتیں یا ان کی تنخواہیں کم نہیں کر سکتیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں ٹیک ورکرز پر دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ کمپنیاں کم لاگت والے اے آئی سسٹمز کو تیزی سے اپنا رہی ہیں۔ رواں سال اب تک عالمی سطح پر 78 ہزار سے زائد ٹیک ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں، جن میں سے تقریباً نصف اے آئی سے منسلک ہیں۔
چین میں بھی کمپنیاں اے آئی ٹیکنالوجی اپنانے کی دوڑ میں شامل ہیں، جو اس شعبے میں عالمی برتری حاصل کرنے کی قومی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
تاہم اسی دوران حکومتی منصوبہ ساز لیبر مارکیٹ کے استحکام کو بھی ترجیح دے رہے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب معیشت سست روی کا شکار ہے اور نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بلند ہے اعداد و شمار کے مطابق 16 سے 24 سال کے 17 فیصد افراد بے روزگار ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چینی سرکاری میڈیا نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ خودکاری کے دور میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک ’حوصلہ افزا پیغام‘ ہے۔
ژجیانگ سے تعلق رکھنے والے وکیل وانگ ژویانگ، جو اس کیس میں شامل نہیں تھے، نے سرکاری خبر رساں ایجنسی سنہوا کو بتایا کہ اے آئی کو اپنانا خود بخود کمپنیوں کو ملازمت کے معاہدے ختم کرنے کا جواز فراہم نہیں کرتا۔
یہ فیصلہ ایک اور مقدمے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک میپنگ کمپنی نے ایک طویل عرصے سے کام کرنے والے ڈیٹا کلیکٹر کی جگہ اے آئی نظام متعارف کروایا تھا۔
کمپنی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ تبدیلی ’معروضی حالات میں بڑی تبدیلی‘ کے زمرے میں آتی ہے، جو چینی لیبر قوانین کے تحت ملازمت ختم کرنے کا جواز بن سکتی ہے، تاہم ثالثی کمیٹی اور عدالتوں نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ کمپنیوں کو اپنے کاروباری ماڈل میں اے آئی شامل کرنے کا حق ہے، لیکن یہ خود بخود ایسا بڑا تبدیلی نہیں بنتی جو ملازمت کے خاتمے کو قانونی جواز فراہم کرے۔
کمیٹی نے کہا: ’ٹیکنالوجی کے فوائد سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ آجروں کو اپنی سماجی ذمہ داریاں بھی پوری کرنا ہوں گی۔‘
© The Independent