پاکستان میں آج بھی اشرافیہ کے افراد کام کرنا توہین سمجھتے ہیں اور ملازموں کی بے قدری کرتے ہیں۔
سوئس عدالت کو بتایا گیا کہ ارب پتی ہندوجا خاندان نے اپنے پالتو کتے پر اپنے ایک نوکر کے مقابلے میں زیادہ خرچ کیا۔ اس ملازم نے ہفتے کے ساتوں دن 18 گھنٹے کام کرنے پر محض 6.20 پاؤنڈ کمائے۔