اسلام آباد: اس کیفے کا آنکھوں دیکھا حال جس کا ذکر سوشل میڈیا پر تھا

جمعرات کو اسلام آباد کے ایک کیفے کی مالکن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل رہی، انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار اس ریستوراں گئیں اور وہاں کا حال کچھ یوں بیان کیا۔

(کیفے کا فیس بک پیج)

صبح آٹھ بجے وٹس ایپ پر دفتر کی جانب سے پیغام ملا کہ اسلام آباد کے ایک ریستوراں کے مینیجر کی دو بظاہر مالکن خواتین کی اپنے ایک ملازم کی انگریزی کا مذاق اڑاتے ہوئے ویڈیو وائرل ہوئی ہے فورا وہاں پہنچو۔  اسلام آباد کے ریستوراں ویسے گیارہ بارہ بجے سے پہلے کھلتے نہیں۔ خیر اس انتظار کے دوران ریستوراں اور ملازموں یا مالکوں کے ٹیلیفون نمبر تلاش کرنے شروع کیے۔

ساتھ میں ویڈیو بھی دیکھی کہ آخر ماجرہ کیا ہے۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں دو خواتین جو خود کو عظمیٰ اور دیا کے نام سے متعارف کرواتی ہیں کہتی ہیں کہ وہ ریستوراں کی مالکن ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ بور ہو رہی تھیں تو اس لیے انہوں نے سوچا کہ ان کے فالوورز کا ان کے ریستوران کے عملے سے تعارف کروایا جائے۔

وہ اپنے مینیجر اویس سے، جو ان کے ساتھ نو سال سے کام کر رہے ہیں،  کہتی ہیں کہ وہ اپنا تعارف انگریزی زبان میں کروائیں اور وہ جب انگریزی میں بولنے کی کوشش کرتے ہیں تو خواتین ان پر ہنستی رہتی ہیں۔ اس کے بعد عظمیٰ نامی خاتون ہنستے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ ان کے مینیجر ہیں جنہیں یہ ’اچھی تنخواہ‘ دیتی ہیں اور یہ ایسے بات کرتے ہیں۔

 کنولی کیفے سول نامی یہ ریستوراں اسلام آباد کے مہنگے ترین ایف سیون مرکز میں واقع ہے جہاں ارد گرد اشرافیہ رہائش پذیر ہے۔ کیفےایف سیون کی ایک گول مارکیٹ میں ہے جہاں اس کے علاوہ بھی چار پانچ دیگر ریستوراں/ کیفے موجود ہیں۔

صبح کے وقت اس فوڈ مارکیٹ میں رش نہیں ہوتا لیکن سہ پہر کے بعد رش لگنا شروع ہو جاتا ہے۔پڑھے لکھے نوجوانوں  کی بڑی تعداد اس جگہ کو بہت پسند کرتی ہے۔

 وہاں پہنچی تو دیکھا کہ ویڈیو میں دیے گئے تاثر کے برعکس وہاں ویٹرز اور دیگر عملہ اپنے کام سے مطمئن اور خوش دکھائی دے رہا تھا۔

چونکہ صبح کا وقت تھا اس لیے کیفے میں رش نہیں تھا بلکہ مینجر سمیت تمام عملہ دن بارہ کے بعد ہی کیفے پہنچا۔ تاہم وہاں موجود ایک سٹاف ممبر خود حیران تھا کہ معمول کی گپ شپ میں بنائی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر کیسے اتنی وائرل ہو گئی۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پہ انہوں نے بتایا کہ صبح سے کوئی 30 کے قریب فون کالز کیفے کے نمبر پہ آ چکے ہیں اور ہر کوئی میڈم عظمی کے رویے کے بارے میں پوچھ رہا ہے اور اویس بھائی(مینجر) کی بابت استفسار کر رہے ہیں۔

سٹاف رکن چونکہ ہمیں میڈیا نہیں بلکہ ایک کسٹمر سمجھ رہا تھا اس نے حیرانی سے پوچھا میڈم یہ ویڈیو کہاں پہ چلی ہے؟ میں نے بتایا کہ یہ ویڈیو ٹوئٹر اور فیس بک پہ پھیل چکی ہے اور ہر کوئی اس کیفے کے بارے میں بات کر رہا ہے کہ سٹاف کے ساتھ آپ کی مالکن کا رویہ کیسا ہے۔ اس سوال پر  انہوں نے بتایا کہ میڈم سٹاف کے ساتھ تو بہت اچھی ہیں وہ روز تو کیفے نہیں آتیں کبھی کبھی آتی ہیں۔ تاہم یہ بھی واضح کر دیا کہ کام کے معاملے میں میڈم کوتاہی برداشت نہیں کرتیں لیکن اس کے علاوہ ان کا بہت خیال رکھتی ہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہم ایک ٹیبل پر بیٹھ گئے اس انتظار میں کہ مینجر یا مالکن میں سے کوئی آئے تو ان سے تھوڑی بات چیت کر لیں۔

کرونا کی وبا کے باعث چونکہ ہوٹل کے اندر کھا پی نہیں سکتے لیکن کیفے کنولی اس طرز پہ بنا ہے کہ اندر کےہال کی دیوار سائز کی کھڑکی مکمل کھلی ہے۔ تازہ ہوا کی وجہ سے شاید وائرس کے پھیلنے کا خطرہ کم ہے۔ اس کے علاوہ کیفے کےبالکل سامنے کھلے مقام پر کرسیاں میز لگے ہیں اور سرد موسم کے باعث ہیٹر کے بھی انتظامات ہیں۔

مینیو دیکھا تو کھانے کی قیمت معمول سے زیادہ ہی لگی۔ یہ کیفے اپنے برگرز کی وجہ سے مشہور ہے جو یہ اپنی بنائی ہوئی وائٹ کریم کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیکری آئٹم کے لیے بھی یہ کیفے جانا جاتا ہے۔

اس اثنا میں کیفے کے مینجر اویس تشریف لے آئے۔ انہوں نے بھی ویڈیو کے وائرل ہونے اور اس پہ منفی ردعمل آنے پر حیرانی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً دس سال سے یہاں کام کر رہے ہیں۔ ’خوش ہی تو ہوں ورنہ اگر کوئی مسئلہ ہوتا تو کہیں اور نوکری کر رہا ہوتا۔‘

ویڈیو سے متعلق میڈیا سے آن ریکارڈ بات کرنے سے انہوں منع کیا۔ ہمارےسامنے ان کو مختلف فون آئے جو اسی ویڈیو سے متعلق ان سے سوالات کر رہے تھے اور ان کا اب یہی جواب تھا کہ وہ ویڈیو ایک معمول کی گپ شپ کے دوران بنائی گئی جس کا مقصد ان کی دل آزاری کرنانہیں بلکہ صرف ایک مزاح تھا جیسے فیملی میں آپس میں بیٹھ کر ہنسی مزاح کیا جاتا ہے۔

شام تک کیفے کے مالکان نے بھی ایک مختصر بیان انگریزی ہی میں جاری کیا جس میں انہوں نے ویڈیو کے وائرل ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے سٹاف کے ساتھ اس طرح کے مزاح پر انہیں ’کسی کے سامنے اپنے آپ کو سٹاف کے ساتھ رحم دل ہونے کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ویڈیو ہمارے درمیان معمول کی گپ شپ پر مبنی تھی اور اس سے کسی کی دل آزاری کرنا مقصد نہیں تھا۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو اس سے دکھ ہوا ہے یا دل آزاری ہوئی ہے تو ان سے وہ معافی مانگتی ہیں۔

اب معلوم نہیں کہ سوشل میڈیا پر لوگ اس بیان سے مطمئن ہوں گے یا اس پر ایک نئی بحث چل نکلے گی۔

مینجر اویس  خوش اخلاقی سے ہم سے گفتگو کرتے رہے۔ وہ کافی مطمئن انداز سے اپنی معمول کی ڈیوٹی ادا کر رہے تھے۔ انہوں بتایا کہ دس سال پہلے وہ اس کیفے میں بطور ویٹر آئے تھے لیکن وقت گزرنےکے ساتھ ساتھ ترقی کر کے منیجر کے عہدے پر تعینات ہوئے ہیں۔

اسلام آباد میں کیفے کنولی کی برانچ چار سال قبل 2016 میں کھولی گئی تھی جو عظمی چوہدری اوردِیا کی مشترکہ سرمایہ کاری ہے۔ اپنے منیجر کا مزاح اُڑانے پر سوشل میڈیا پر کیفے کنولی بائیکاٹ کا ٹرینڈ چل رہاہے لیکن حیرت انگیز طور پر فیس بک پر کیفے کنولی کے فالوررز چوبیس گھنٹوں میں تیرہ ہزار سے بتیس ہزار تک پہنچ گئے ہیں  ایک صارف کے مطابق یہ وڈیو ایک مارکیٹنگ حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے جس کی وجہ سےعوام میں کیفے کو مقبولیت ملی۔

ویڈیو میں منیجر کی تذلیل دیکھنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے منیجر کے لیے ہمدردی دکھائی۔ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر نے بھی کیفے کے منیجر اویس کو اپنی کمپنی میں منیجر کے عہدے کی پیشکش کر دی ہے۔

جب کہ دوسری جانب سوشل میڈیا پر طوفان مچنے کے بعد کنولی کیفے نے باضابطہ طور پر بھی بیان جاری کر دیا کہ ویڈیو صرف معمول کی گپ شپ تھی اگر اس سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو معذرت چاہتے ہیں۔ تاہم انہیں کسی کو اپنے سٹاف کے ساتھ تعلقات کی نوعیت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ