'عدالتی کارروائی انگریزی میں تھی، نہیں معلوم بیٹی واپس ملے گی یا نہیں' 

آرزو فاطمہ کے والد راجا مسیح کے مطابق ’چوں کہ عدالتی کارروائی انگریزی زبان میں چل رہی تھی تو ہمیں جو سمجھ آیا ہے وہ یہ ہے کہ عدالت نے میرے بیٹی سے پوچھا کہ وہ کہاں جانا چاہتی ہیں تو انھوں نے جواب دیا دارالامان۔‘

(سوشل میڈیا)

گذشتہ مہینے کراچی کے علاقے سے لاپتہ ہونے والے تیرہ سالہ مسیحی لڑکی آرزو فاطمہ کے والد راجا مسیح نے  کہا کہ پیر کے روز ان کی بیٹی کو عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے ان کی بیٹی کو دارالامان بھیج دیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے آرزو فاطمہ کے والد راجا مسیح نے کہا: 'سماعت کے دوران ہم بھی عدالت میں موجود تھے، مگر چوں کہ عدالتی کارروائی انگریزی زبان میں چل رہی تھی تو ہمیں جو سمجھ آیا ہے وہ یہ ہے کہ عدالت نے میرے بیٹی سے پوچھا کہ وہ کہاں جانا چاہتی ہیں تو انھوں نے جواب دیا دارالامان، جس کے بعد عدالت نے انھیں دارالامان بھیج دیا۔ اب مجھے نہیں پتہ کہ میری بیٹی ہمیں واپس ملے گی یا نہیں'۔ 

'میری بیٹی آرزو کمسن ہے، انھیں اغوا کیا گیا تھا۔ ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے۔ میری بیٹی کو واپس کرایا جائے'۔  

 واضح رہے کہ گزشتہ مہینے کراچی کے فریئر تھانے میں مقدمہ دائر کراتے ہوئے آرزو فاطمہ کے والد راجا مسیح نے کہا تھا 13 اکتوبر کی صبح ان کی تیرہ سالہ بیٹی آرزو کو نامعلوم ملزمان نے اغوا کرلیا، جب والدین اور بھائی کام پر گئے ہوئے تھے اور گھر میں ان کی تین بیٹیاں موجود تھیں۔ 

آرزو فاطمہ کی بازیابی کے لیے کئی سماجی تنظیموں نے احجاجی مظاہرے بھی کیے۔ 

عادلتی حکم پر اینٹی وائلنٹ کرائم سیل نے آرزو فاطمہ کو بازیاب کرایا تھا۔ 

دریں اثنا سندھ ہائی کورٹ میں پیر کے روز جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو آرزو فاطمہ کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران پولیس نے رپورٹ پیش کردی جبکہ آرزو فاطمہ اور دیگر کو عدالت میں پیش کیا گیا ۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جرنل نے کہا کہ یہ اغوا کا کیس نہیں کم عمری شادی کا کیس ہے، نکاح کرانے والے قاضی سمیت دیگر نامزد ملزمان نے ضمانت حاصل کرلی ہے۔ جب کہ دو ملزمان مفرور ہیں۔  

پولیس نے سماعت کے دوران آرزو فاطمہ کیس کا چالان پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مسمات آرزو فاطمہ کرونا کا شکار ہوگئی ہیں، ان کی کرونا رپورٹ 16  نومبر کو موصول ہوئی، جب کہ ملزم اظہر علی کا بھی کرونا ٹیسٹ کرایا گیا جو کہ منفی آیا ہے۔ 

چالان میں پولیس نے مزید کہا کہ آرزو فاطمہ نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ ان کی اظہر علی سے طویل عرصہ سے دوستی ہے اور وہ اظہر کے ساتھ موٹر سائیکل پر وکیل کے دفتر پہنچیں جہاں نکاح ہوا۔ جب کہ نکاح خوان کے بیان کے مطابق لڑکی نے اپنی عمر 18 سال ہونے کے متعلق دستاویزات پیش کیں۔  

پولیس نے چالان میں کہا کہ اب مقدمے سے اغوا کی دفعہ اے 264 خارج کردی گئی ہے اور اب ملزمان کے خلاف چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت کارروائی کی جارہی ہے۔ 

سماعت کے دوران عدالت نے آرزوفاطمہ سے پوچھ کہ وہ کس کے ساتھ جاناچاہتی ہیں؟ جس کے جواب میں آرزوفاطمہ نے جواب دیاکہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ جاناچاہتی ہے۔ 

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کم عمری کی شادی زنا میں شمار ہوتی ہے اور ماتحت عدالت کوہدایت کی کہ یہ کیس چلڈرن میرج ایکٹ کے تحت چلا کر فیصلہ کیاجاٸے۔ 

عدالت نے کیس نمٹاتے ہوٸے آرزو کودارالامان بھیج دیا۔ عدالت نے آرزو فاطمہ کی تعلیم اور دیگر سہولیات کا انتظام کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ داخلہ آرزو کی کونسلنگ کا بھی انتظام کرے، محکمہ داخلہ کی جانب سے روزانہ کوئی نمائندہ ایک گھنٹہ آرزو سے ملاقات کرے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان