بلوچستان: کم عمری کی شادی روکنے کے لیے آج بھی 1929 والا قانون  

بلوچستان میں کم عمری کی شادی کے حوالے سے آج بھی 90 سال پرانا سال 1929 کا قانون لاگو ہے۔ جس میں اس قانون کی خلاف ورزی پر ایک ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔ 

(سوشل میڈیا)

بلوچستان میں کم عمری کی شادی کے حوالے سے آج بھی 90 سال پرانا سال 1929 کا قانون لاگو ہے۔ جس میں اس قانون کی خلاف ورزی پر ایک ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔ 

 قانون کی رو سے شادی کے لیے کسی بھی لڑکی کی عمر16 سال مقرر ہے۔اس قانون کو موجودہ وقت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جدوجہد کرنے والے سوشل ورکرز سمجھتے ہیں کہ اس قانون میں سقم موجود ہیں۔ جو کم عمری کی شادی روکنے میں رکاوٹ ہیں۔ 

 کم عمری کی شادی کے مضمرات اور بچیوں کو اس سے بچانے کے لیے جدوجہد کرنے والی سوشل ورکر ثمرین مینگل سمجھتی ہیں کم عمری کی شادیاں روکنے کے لیے اس قانون میں ترمیم ناگزیر ہے۔ 

 ثمرین کے بقول، ہمارے بہت سے مسائل جن میں گھریلو تشدد اور ناچاکی شامل ہیں، ان کی ایک بڑی وجہ کم عمری کی شادی ہے۔ 

 ثمرین سمجھتی ہیں کہ،چونکہ ہمارے ہاں تعلیم کی شرح بھی کم ہے اور اکثر خواتین پڑھی لکھی نہیں ہوتی ہیں اس لیے انہیں  کم عمری کی شادی کے مضمرات سے آگاہی نہیں ہوتی ہے۔ 

 ثمرین مینگل کے مطابق،ہم چاہتے ہیں کہ اس قانون میں ترمیم ہو اورشادی کے لیے لڑکی کی عمر کی حد اٹھارہ سال کی جائے۔ 

ثمرین نے ایک مشاہدہ انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ شبانہ (فرضی نام ) ایک چھوٹی بچی تھی جب وہ ہمارے سنیٹر میں فنی تربیت حاصل کرنے آتی تھی۔ وہ بڑی دلچسپی سے کشیدہ کاری کی تربیت حاصل کررہی تھی کہ مجھے خبر ملی اس کی شادی ہونے والی ہے۔ 

 ثمرین کے بقول،یہ خبر میرےلیے کسی صدمے سے کم نہیں تھی کیونکہ میں جانتی تھی کہ لڑکی کی عمر صرف 14 سال ہے۔ 

 ثمرین نے اس شادی کو روکنے کے لیے لڑکی کے والدین سے بات کی اور انہیں یہ قدم نہ اٹھانے کے لیے کہا تاہم لڑکی کے والدین کا موقف تھا  چونکہ وہ غریب لوگ ہیں اس لیے اگر دوبارہ کوئی رشتہ نہیں آیا تو اس کی شادی نہیں کرسکیں گے۔ 

 ثمرین کے مطابق،سب کچھ دیکھتے اور جانتے ہوئے بھی میں اور دوسرے لوگ اس شادی کو نہیں روک سکے۔ 

ثمرین نے بتایا کہ،شبانہ کی شادی تو ہوگئی لیکن جب زچگی کا وقت آیا تو اس کی حالت انتہائی خراب تھی اور اس کے بچے کی جب ولادت ہوئی تو اس کے بعض اعضا مکمل نہیں تھے۔ 

ثمرین سمجھتی ہیں کہ یہ ایک شبانہ کی کہانی نہیں بلکہ بلوچستان کے دیہات میں آج بھی ایسے واقعات ہورہے ہیں کیونکہ وہاں تو ان کو آگاہی دینے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ 

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقو ق میں شیری رحمان نے رپورٹ پیش کی تھی کہ بچیوں کی کم عمری میں شادیوں کے حوالےسے پاکستان دنیا بھر میں دوسرے نمبر پرہے۔ 

شیری رحمان کی رپورٹ کے مطابق ،پاکستان میں 21 فیصد لڑکیاں 18 سال کی عمر کو پہنچنے سے قبل شادی کے بندھن میں بندھ جاتی ہیں۔ 

ادھر سندھ کی حکومت نے اٹھارویں ترمیم کے تحت خود قانون سازی کرکے شادی کی عمر 18 برس تک کردی ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب شادی کی عمرمیں تبدیلی کے لیے جدوجہد کرنے والے ادارے بلوچستان ہیلتھ اینڈ رورل ڈویلمپنٹ کے ضیا بلوچ سمجھتےہیں کہ قانون سازی میں مسائل کا سامنا ہے۔ 'ممبران پارلیمنٹ اس بات سے متفق ہیں کہ یہ ایک مسئلہ ہے تاہم انہیں اس حوالے سے بہت سے چیزیں سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اس میں سکول ڈراپ آؤٹ ،شرح اموات،ایکسچینج میرج اور بی فور برتھ میرج کے مسائل بھی شامل ہیں۔' 

 ضیا نے بتایا کہ بلوچستان میں ہر ایک لاکھ بچیوں میں سے چودہ سو دوران زچگی فوت ہوجاتی ہیں جس کی ایک بڑی وجہ کم عمری کی شادی بھی ہے۔ 

دوسری جانب بلوچستان حکومت کی مشیر برائے کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی بشریٰ رند نے کہا کہ ان کی حکومت اس بل کو پاس کرنا چاہتی ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ،کم عمری کی شادی کے بل کے حوالے سے ہم نے کام شروع کردیا ہے اور اس حوالےسے ہماری ایک دو میٹنگز بھی ہوچکی ہیں۔ 

بشریٰ رند نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں موجود اپوزیشن کو قائل کریں تاکہ یہ بل متفقہ طور پر پاس ہوجائے کیونکہ اس سے قبل یہ دو مرتبہ مسترد ہوچکا ہے۔ 

 ثمرین اوراس جیسی دوسری خواتین سمجھتی ہیں کہ کم عمری کی شادی کی روک تھام نہ ہونے سے ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بچیوں میں نفیساتی مسائل آئے روز بڑھ رہے ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان