اوقات سے زیادہ بوجھ کسی پر مت ڈالیں 

سوچیں، کتنے پیسے گرے ہوں تو آپ جھک کر زمین سے اٹھائیں گے؟ ہزار؟ پندرہ ہزار؟ پانچ ہزار والے نوٹوں کی دو گڈیاں؟ یا تین یا چار؟ کوئی تو حد ہو گی نا؟ تو وہ جو حد ہے وہ ایک عام آدمی کی اوقات ہوتی ہے۔

سونا اس وقت چار ہزار روپے تولہ تھا اور زمین پر سولہ سو روپے پڑے تھے۔  

ہم لوگ مہینے کے تین چار سو کماتے تھے۔ میٹرک کے بعد تازہ تازہ ٹیوشن پڑھانا شروع کی تھی تو بس جو ملتا تھا وہی کافی تھا بلکہ ٹھیک ٹھاک عیاشی تھی۔  

یہ اوقات سے بڑا معاملہ تھا۔ خان پلازہ سے میں اور نجف خان گزر رہے تھے۔ اس نے دیکھا کسی کونے میں ہزار سمیت کچھ نوٹ پڑے ہوئے ہیں، کہنے لگا ’یار پیسے گرے پڑے ہیں، ویسپا روک۔‘  

روک تو میں نے دیا لیکن وہیں کھڑے کھڑے بحث شروع ہو گئی۔ دونوں کہیں کہ یار پتہ نہیں کس بے چارے کے ہیں، لیکن دونوں کے دل میں چور تھا کہ اٹھا تو لیں کم از کم، چور جیت گیا۔ 

رکے، نجف گیا، جھک کے پیسے اٹھائے، ایسے ظاہر کیا جیسے کچھ بھی تو نہیں ہوا اور واپس آ کے بیٹھ گیا۔ اب پیسے اٹھا لیے تو اخلاقی بحث اور زیادہ شدید ہو گئی۔ دونوں کا مشترکہ خیال تھا کہ رات کا وقت ہے، پلازہ تقریباً بند ہے، مالک تو ڈھونڈنے آئے گا نہیں، مسجد جا کر مولوی صاحب کو دے دیتے ہیں، انہیں کہانی بتا دیں گے۔ 

بس پھر جا کے آٹھ سو روپے مولوی صاحب کو دے دیے، باقی پیسے شیطان کھا گیا۔  

سوچیں، کتنے پیسے گرے ہوں تو آپ جھک کر زمین سے اٹھائیں گے؟ ہزار؟ پندرہ ہزار؟ پانچ ہزار والے نوٹوں کی دو گڈیاں؟ یا تین یا چار؟ کوئی تو حد ہو گی نا؟ تو وہ جو حد ہے وہ ایک عام آدمی کی بظاہر اوقات ہوتی ہے۔ اگر آپ کبھی نہیں اٹھائیں گے تو یقیناً آپ خاص ہیں لیکن دوسرے خاص نہیں ہوتے، وہ ہم جیسے گناہ گار ہی ہوتے ہیں۔  

آپ کے گھر کوئی خاتون کام کرنے آتی ہیں، یا کوئی مرد ہیں، دس بارہ سال ہو گئے ہیں، آپ کو ان پر بہت اعتبار ہے، گھر میں پیسے، زیور، سب کچھ کھلا پڑا رہتا ہے تو کیا آپ کے خیال میں یہ ٹھیک بات ہے؟ نہیں! 

آپ ان غریبوں کا امتحان لے رہے ہیں جن کے پاس پورے مہینے میں اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے جتنا آپ کے یہاں بجلی کا بل آتا ہے۔ یہ اعتبار نہیں ہے، یہ آزمائش ہے۔ کیوں ان کے سامنے وہ سب کچھ رکھا جاتا ہے جو ان کا نہیں ہے لیکن ہو بھی نہیں سکتا؟ روزانہ، بھلے ایک لمحے کے لیے سہی، کیا وہ لوگ سوچتے نہیں ہوں گے کہ بیٹی کی شادی، بیٹے کی تعلیم، بیوی کی دوائی ۔۔۔ سبھی کچھ کا ریڈی میڈ حل سامنے پڑا ہے اور ہم ہاتھ نہیں لگا سکتے؟ یہ ان کے ظرف سے بڑی آزمائش ہے۔  

کل کو چوری ہو گئی تو تھانے میں بھی انہی کا نام لکھایا جائے گا اور سب سے پہلے لتریشن انہی کی ہو گی۔ مال نہ نکلا تو الگ بات لیکن اگر نکل آیا تو یہ کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ مالک سے بھی ذرا پوچھ گچھ کی جائے۔ بندہ خدا، اتنا سب کچھ کُھلے میں رکھ کر تم نے ان کی آزمائش لی کیوں؟ اعتبار کی بات الگ ہے لیکن آدمی ضرورتوں کا مجموعہ ہے۔ کون کب پھسل پڑے کسے معلوم؟ تو بس پرہیز کریں۔  

کوئی دوست ہے اور اسے آپ کا سگریٹ پینا برا لگتا ہے۔ وہ اس لیے برداشت کرتا ہے کہ یاری میں عادتیں چھانٹی نہیں جاتیں، پورا پیکج گلے لگانا پڑتا ہے۔ آپ نے ایک پی، دوسری پی، تیسری پی، دھواں بھر گیا، آخر وہ غریب اٹھ جائے گا یا لڑ پڑے گا۔ آپ کے خیال میں غلطی اس کی تھی؟ ہرگز نہیں، آپ نے اس کی اوقات سے زیادہ دھونی اسے چڑھا دی تھی۔

ایک تھریش ہولڈ لیول ہوتا ہے ہر بندے کا، برداشت ہوتی ہے، تو آپ نے گیم اس سے آگے والی کر دی، اگلا پھر پُھٹ جائے گا یا پھٹ جائے گا! 

استاد ہے، اسے معلوم ہے کہ آپ کلاس میں پچھلے دروازے سے روزانہ لیٹ آتے ہیں، وہ درگزر کرتا ہے کہ لیٹ ہونا بچوں کا ہی کام ہے۔ بعد میں نوکری لگ گئی تو مریں گے لیکن پابند ہی رہیں گے ساری عمر، یہ سوچ کر چپ رہتا ہے اور لیکچر دیتا رہتا ہے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عین اسی طرح زندگی کے سب رشتوں میں ہوتا ہے۔ باپ ہے، اسے کوئی بات نہیں پسند، ایک حد تک برداشت کرے گا، کوشش کریں اس حد سے نیچے رہیں، جوتوں سمیت آنکھوں میں نہ گھسیں۔  

زندگی کا ساتھی ہے، مختلف مزاج کا ہے، بہت سی چیزیں جانتا ہے لیکن چپ رہتا ہے ۔۔۔ تو آپ بھی چوڑے نہ ہوں، پڑا ہوا پردہ اچھا ہے، دونوں کا آسرا بنا رہتا ہے۔ آپ لمٹ سے نکل گئے تو پردہ اٹھ جائے گا، پردہ اٹھ گیا تو جھاکا دونوں طرف کھل جاتا ہے، کیا فائدہ؟ کھے ہی کھانی ہے تو ڈھنگ سے کھائیں۔ ظرف مت آزمائیں۔ دیکھیں شیشے کی ایک پلیٹ میں سالن روٹی تو کھایا جا سکتا ہے لیکن اس اس پہ اگر آپ ترازو کے باٹ رکھ دیں گے تو پہلے تریڑ آئے گی اور بعد میں ٹوٹا کہ ٹوٹا، تو شیشہ بچا لیں بابا، کوشش کر لیں باقی پھر اللہ وارث ہے۔ 

ایک دن میں نے ہیوی بائیکس کی ویڈیو بنائی، کوئی چالیس پچاس لاکھ روپے قیمت تھی، جب ویڈیو انڈپینڈنٹ اردو پر چلی تو ابا کا فون آیا، کہنے لگے ’یار، تمہارا حال کیشئیروں والا ہو گیا ہے۔ سامنے ہزاروں کی گڈیاں پڑی ہیں لیکن گھر وہی پچاس ساٹھ ہزار روپے لے کے جانے ہیں۔‘ فقیر پہلے ہنس دیا، پھر رویا، اور پھر آپ لوگوں سے یہی دکھڑا رونے کا سوچنے لگا۔ غریب لوگوں کے سارے دکھ، ساری آزمائشیں، سارے رشتے بلکہ پوری اوقات کم بخت ظرف ہی طے کرتا ہے۔ السلام علیکم!   

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ