چٹھی آئی ہے: یہ گانا سن کر لوگ روتے کیوں تھے؟

سوچیں کہ آپ سات سمندر پار بیٹھے ہیں، نہ موبائل بنا ہے، نہ جہاز کا ٹکٹ خرید سکتے ہیں، فون ہے تو وہ ہفتوں کے بعد ملنا ہے، رابطے کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے، اور ایسے میں کہیں آتے جاتے یہ گانا آپ سن لیں۔

(سکرین  گریب)

بڑے دنوں کے بعد ہم بے وطنوں کو یاد، وطن کی مٹی آئی ہے۔

ابھی تو میں اسلام آباد رہتا ہوں، ملک سے باہر نہیں گیا۔ یہ چار گھنٹے پہ لاہور ہے، چھ گھنٹے پہ ملتان۔

ملتان جہاں میری ماں رہتی ہے، باپ ہے، بھائی بہن ہیں۔ لاہور جہاں میری بیوی ہے، بیٹی ہے، اور میں ان سے چند گھنٹوں کے فاصلے پہ ہوں۔ ہاتھ میں سواری ہے، پٹرول کی استطاعت ہے، نوکری میں چھٹی کا مسئلہ خاص نہیں ہے۔ واٹس ایپ میرے پاس ہے، میرے سب گھر والوں کے پاس ہے لیکن میں مرتا ہوں۔ 

سوچیں کہ آپ سات سمندر پار بیٹھے ہیں، نہ موبائل بنا ہے، نہ جہاز کا ٹکٹ خرید سکتے ہیں، فون ہے تو وہ ہفتوں کے بعد ملنا ہے، رابطے کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے، اور ایسے میں کہیں آتے جاتے یہ گانا آپ سن لیں۔ کوئی بہت ہی پتھر دل ہوئے گا جو نہ رویا، جسے گھر یاد نہ آیا، ایک ایک کر کے سارے رشتے نہ دماغ میں گھومے، گلیاں نہ یاد آئیں، دوست نہ یاد آئے، موسم نہ یاد آیا، بازاروں کی مخصوص خوشبو نے ذہن میں چٹکیاں نہ کاٹیں، تو وہ کوئی بہت ہی نان دیسی بندہ ہو گا جس پہ اس گانے کا اثر نہ ہوا۔ میرے لیے تو اس گانے کا ایک ایک لفظ سراسر دکھ ہے۔ میری ذات کا نوحہ، میری زندگی کا دائرہ، سارے پچھتاوے اور بس سب ہی کچھ۔ 

کوثر باجی کے پاس میں پڑھنے جاتا تھا۔ ان کے گھر سن چھیاسی میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی تھا۔ اس کے اوپر نیلی سکرین لگی ہوتی تھی۔ پانچ سال کے بچے کو یاد رہے بھی تو کتنا رہ سکتا ہے؟ لیکن اس وقت وہ بچہ اسی فلم کے دوسرے گانے سے روون ہاکا ہو گیا تھا۔ کل تو چلا جائے گا تو میں کیا کروں گا۔۔۔ تو بس وہ گانا اور وہ معصوم سا سنجے دت، کمار گورو، وہ سب یقین کریں دماغ میں چپک گئے۔ زندگی میں کوئی فلمی سین بچپن کی سب سے پرانی یادوں میں اگر باقی ہے تو وہ یہی ہے۔ 

تو شادی ہو گئی میری پھر، اب یہ 2004 کی بات ہے۔ اوما کے والد ایک طویل عرصہ باہر رہے، شاید چھیانوے ستانوے کے آس پاس واپس آئے ہوں گے۔ ایک دن اسی فلم (نام) کا یہ والا گانا چلا لیا میں نے، اوما کہتی ہے یقین کریں حسنین ۔۔۔ پاپا، چچا اور ان کے دوست، جب بھی یہ گانا سنتے تھے رو پڑتے تھے، کتنے لوگ تو دھاڑیں مار مار کے روتے تھے۔ میں ایسا تھا کہ پہلے ہی اس گانے کو سنتے ہوئے بہانے مانگتا تھا رونے کے، فیر رو پڑا۔ یہ والا جو وچھوڑے کا دکھ ہے نا استاد یہ بڑا ظالم ہے، سخت ہے، بہت جان توڑ ہے اور ایسے گلا دیتا ہے انسان کو جیسے ۔۔۔ بس سمجھیں کہ جیسے برف گھلتی ہے۔ یہ کہا نہیں جا سکتا۔ زیادہ کہا جائے تو لوگ سمجھتے ہیں آپ خوش نہیں ہیں۔ خوش ہیں بابا، شکر ہے، لیکن جیسے خوشبودار اور کھوئے والے گاجر کا حلوہ ہوتا ہے۔ گرم رکھنے کو نیچے آگ جلاتے ہیں، سردیوں میں ٹھنڈا حلوہ کون کھائے؟ تو بس وہ آگ نہ ہو تو پردیسی شاید کام ہی کرنا چھوڑ دیں، وہ ایندھن دہکتا رہتا ہے اور انجن ساری گاڑی کو کھینچتا رہتا ہے۔ 

پنکج ادہاس نے ایک جگہ بتایا کہ ان سے لکشمی کانت نے پوچھا، صاحب جب آپ کو لائیو گانا ہوتا ہے تو ساتھ میں آرکسٹرا کی سیٹنگ کیسے رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بھئی طبلے والا فلاں جگہ، ہارمونیم یہاں، ڈھولک ہے تو ادھر۔ تھوڑی دیر بعد ان کو سٹوڈیو میں عین اسی طرح کی سیٹنگ بنا کر دے دی انہوں نے، ایک سٹیج سا درمیان میں بنا دیا اور کہا کہ بس اسی طرح گائیں۔ پنکج نے بغیر کسی ری ٹیک پورا گانا گا دیا۔ وہ ایسا کوئی جاندار نکلا کہ جب یہ گا کر سننے کے لیے ادھر شیشے کی دوسری طرف گئے تو جو بھی ادھر بندہ موجود تھا وہ گیلی آنکھیں پونچھ رہا تھا۔ اس زمانے میں کمپوزر ایک ہی بار میں کہاں گانا فائنل کرتے تھے، پنکج کہتے ہیں میں سمجھا ابھی دو تین بار گوائیں گے لیکن پہلی ہی بار میں انہوں نے اوکے کر دیا۔ تو بس گانا فلم میں بھی اسی طرح لائیو گاتے ہوئے پکچرائز ہوا۔ 

آپ گانا دیکھتے ہیں تو دل کرتا ہے کسی طرح ابھی کے ابھی ٹکٹ کٹائیں اور بھاگ جائیں۔ ادھر ماں کے گوڈے چھوئیں، اس کی گود میں سر رکھیں، باپ سے گلے لگیں، بھائی سے گپ کریں، بہن کو پیار کریں، چٹھی آئی ہے، آئی ہے، چٹھی آئی ہے۔ چٹھی آئی ہے وطن سے چٹھی آئی ہے۔ 

اوپر میرا نام لکھا ہے، اندر یہ پیغام لکھا ہے، او پردیس کو جانے والے، لوٹ کے پھر نہ آنے والے۔ میری ماں نے کبھی ایسا کوئی ڈائیلاگ مجھ سے نہیں بولا، باپ نے کبھی مذاق میں بھی نہیں کہا کہ یار تو جو نکلا ہے گھر سے تو اب کبھی آئے گا ہی نہیں واپس؟ بیوی کہتی ہے کہ ایسے کب تک رہیں گے؟ خدا جانے کب تک رہیں گے۔ میں جب ملتان جاتا ہوں تو اکثر دادا کی قبر پہ پھیرا مار آتا ہوں، وہ دیکھ کے آسرا ہوتا ہے کہ یار بہرحال قسمت میں ہوا تو کبھی تو آ ہی جاؤں گا اور جو نہ ہوا تو مرنے کے بعد ویسے بھی کیا کسی کو پتہ لگتا ہے کہ ملتان دفن ہوا ہے، لاہور یا اسلام آباد، نے چراغے نے گلے۔ 

جب ملتان سے لاہور گیا تھا تو کچھ عرصے بعد بھائی بھی ساتھ آ گیا۔ دونوں کی نوکری لاہور میں تھی تو مل کر رہے۔ پھر میں ادھر آیا تو بھی وہ لاہور تھا۔ بڑا آسرا تھا۔ واپس جانے پہ اکثر دس پندرہ منٹ کی ملاقات ہوتی لیکن برابر ملتے تھے۔ پھر اس کا بھی ٹرانسفر واپس ملتان ہو گیا۔ اب بڑا عجیب سین ہے۔ لاہور، ملتان، اسلام آباد ۔۔۔ کچھ بھی نہیں کھینچتا۔ سوتا کہیں ہوں، خواب کہیں ہوتے ہیں اٹھتا کہیں اور ہوں۔ سفر کرنے والا ایک مخصوص گھڑی پہ تھک جاتا ہے، تھم جاتا ہے۔ پھر وقت ہوتا ہے جو خود گزرتا ہے۔ وہی انجن ہے، وہی ایندھن ہے لیکن اب پٹری چل رہی ہے، انجن سمجھتا ہے میں بھاگ رہا ہوں۔ 

کم کھاتے ہیں، کم سوتے ہیں، بہت زیادہ ہم روتے ہیں۔ ابے سب روتے ہیں یار، یہ کوئی عجیب ہی معاملہ ہوتا ہے۔ بیمار ہو گا کوئی تو دوسرے سے چھپائیں گے جو باہر ہے، ادھر کی مجھے خبر نہیں، ان کو میرا پتہ نہیں، فون پہ روزانہ سب اچھے کی رپورٹ ہے، ایسا ہوتا ہے خاندان میں کیا! ہاں ایسا ہی ہوتا ہے جب آپ کا وجود بکھرا ہوا ہو۔ ایک ٹکڑا کہیں ہو، دوسرا کہاں اور تیسرا یہاں۔ یہ نارمل ہے۔ یہی ہونا ہے۔ کون کس کو بتائے کہ میری طبیعت اب ویسی نہیں ہے جیسے دس سال پہلے ہوتی تھی۔ سبھی کو فکر ہے کہ دوسرا پریشان ہو گا اور دوسرے کو پتہ ہے کہ سب اپنی اپنی جگہ زندگی بھگت رہے ہیں۔ تو ایسے بس چلنا پڑتا ہے، پنبہ پنبہ کجا نہم! 

سونی ہو گئیں شہر کی گلیاں، کانٹے بن گئیں باغ کی کلیاں، کہتے ہیں ساون کے جھولے، بھول گیا تو ہم نہیں بھولے۔ یہاں وہ یاد آتا ہے مجھے، نواں شہر چوک پہ ہوتا تھا اقبال پارک، ادھر پریس کلب کی دیوار کے ساتھ آخری کونے میں ایک سلائیڈ ہوتی تھی اور اس سے پہلے دو پینگیں۔ صبح تڑکے اذانوں کے وقت ہم چھ سات بچے ادھر پہنچ جاتے تھے۔ کیا موتیا کیا چنبیلی کیا گلاب کیا پینگ اور کیا سلائیڈ، پورا باغ باپ کی جاگیر ہوتا تھا کہ اتنی صبح دوسرا کون آئے گا، اور بس ہم ہوتے تھے۔ شہر کی گلیاں سونی نہیں ہوئیں چھوٹی لگنے لگی ہیں۔ رش بڑھ گیا ہے۔ سونی تب ہوتی تھیں جب اکیلی میری لال سائیکل پہ گرمی کی دوپہروں میں سولنگ ٹاپتا پھرتا تھا میں، اور ساون میں گوڈے گوڈے پانی جمع ہوتا تھا وہیں لیکن کسی اخبار میں طوفان نہیں آتا تھا، یہ نارمل بات تھی۔ ایک دو دن میں پانی اتر جاتا تھا۔

عید پڑھنے ہم لوگ شاہ گردیز جاتے تھے۔ ابا کے ساتھ میں اور چھوٹا ویسپے پر چپک جاتے۔ ڈھونڈ کے ایسی جگہ اسے کھڑا کیا جاتا کہ واپسی میں آسانی ہو۔ پھر پارکنگ سے نماز کی جگہ تک ایک لمبا سفر ہوتا تھا، باہر تک صفیں بچھی ہوتیں، کپڑوں کی استری بچا کے نماز پڑھتا، پھر شدید کوشش ہوتی کہ یار بس یہ گلے ملنے والا سین بند ہو تو گھر بھاگیں۔ ابا لیکن سکون سے ایک ایک جاننے والا تاڑ کے وہیں ملتے، بعض اوقات تو مولانا سے بھی بغل گیری کے بعد نکلنے کا نمبر آتا تھا۔ ادھر نماز میں بڑے عجیب کیریکٹر بھی نظر آتے تھے۔ وہ انکل ہم سب کو آج بھی یاد ہیں جو پتہ نہیں کس زمانے کی شیروانی پہن کر آ گئے تھے۔ پیٹ پر سے فل پھنسی ہوئی، سینے اور دامن سے شدید ڈھیلی، مگر خوبی یہ تھی کہ جیسے دس سال گھڑے میں رکھی ہو اور خاص طور پہ عید کو پہننے کے لیے نکالی انہوں نے۔ شدید مسلی ہوئی، انتہائی زیادہ مچڑی ہوئی، اچھے خاصے امیر تھے وہ صاحب، تب بھی گاڑی تھی نئے ماڈل کی لیکن شیروانی، واللہ کہ اتنا بے تکلف لباس پھر جو کسی کا دیکھا ہو۔ تو بس واپسی پہ اسی طرح پیدل چل کے پارکنگ تک آتے تھے۔ گرمیاں ہوتیں تو ابا ویسپے کی سیٹ پر چلو بھر پانی چھڑکتے، ریکزین کی سیٹ ایک دم ویلکمنگ بن جاتی۔ پانی چھڑکے بغیر بیٹھنا ممکن ہی نہیں تھا۔ سوا نیزے کا سورج ہوتا ہے بابا ادھر۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پہلے جب تو خط لکھتا تھا، کاغذ میں چہرہ دکھتا تھا، بند ہوا یہ میل بھی اب تو، ختم ہوا یہ کھیل بھی اب تو۔ ایک ایک لائن جیسے کاٹ کے جاتی ہے اس گانے کی۔ خط، فون، ویڈیو کال سب میں جب کوئی نیا نیا شہر چھوڑ کے گیا ہوتا ہے تو اس کا تڑپنا نظر آتا ہے۔ پھر جیسے جیسے دن گزرتے ہیں، کئی سردیاں اور بہت سی گرمیاں گزرتی ہیں تو جانے والا سیزنڈ لکڑی کی طرح سخت ہو جاتا ہے۔ جلاؤ گے تو کڑ کڑ کی آواز کے ساتھ سلگتی جائے گی ورنہ جدھر پڑی ہے ادھر دس بارہ سال اور بھی پڑی رہے گی تو کچھ نہیں ہوتا۔ وہ جو چہرہ دکھتا ہے، وہ جو گھڑی گھڑی بعد گھنٹے بھر کے فون جاتے ہیں، وہ کب تک ممکن ہیں؟ تھک جاتا ہے آدمی، ادھر پیچھے والے بھی سوچتے ہیں کہ بہت بھاں بھاں کرتا ہے یہ چھوٹے دل والا، کسی دن سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے واپس نہ آ جائے، کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا! تو بس اسی مصرعے والا معاملہ ہے۔ حساب سود کا ہوتا ہے زیاں کا مول تول ممکن نہیں۔ وہ تو بس اندر رہتا ہے۔ تیلی دکھانے کا منتظر، کڑ کڑ سلگنے والا، خام بودم، پختہ شدم، سوختم! 

تو نے پیسہ بہت کمایا، اس پیسے نے دیس چھڑایا، دیس پرایا چھوڑ کے آ جا، پنچھی پنجرہ توڑ کے آ جا، آ جا عمر بہت ہے چھوٹی، اپنے گھر میں بھی ہے روٹی۔ روٹی ہے بھائی، بہت ہے، کھانا اس ملک میں بہت مل جائے گا، گاڑی کدھر سے لاؤں، اس میں ڈالنے کا پٹرول کم از کم پانچ کھانوں کے برابر پڑتا ہے، وہ کون پورا کرے گا؟ پنجرہ بائے چوائس ہے۔ دوبارہ پیدا ہوں گا، وہی زمانہ ہو گا تو پھر اسی طرح بھاگوں گا۔ ادھر موٹرسائیکل تھی، ادھر گاڑی ہے، کیا پتہ آخری عمر میں کوئی چھوٹا موٹا ذاتی گھر بھی بن جائے؟ تو سائیں سب کے گھر اے سی چلتے ہیں، فونوں کے بل آتے ہیں، خرچے ہوتے ہیں بچوں کی انگریزی پڑھائی کے، وہ ادھر بیٹھ کے نہیں ہوتے پورے۔ دیس پیسے نے کہاں چھڑایا، دیس تو اس زندگی کے معیار نے چھڑایا جو ہم نے خود اپنی جانوں پہ مسلط کیا۔ دو سو روپے کی ڈبل روٹی آتی ہے اور ڈھائی سو کے انڈے، چائے کے ساتھ پراٹھا کھا کے ناشتہ کیوں نہیں کرتے؟ تو بس آنکھ کھلنے سے رات تک زبردستی کے خرچے ہیں اور ہم ہیں اور یہی رونے ہیں۔ 

ہاں پتہ ہے نہیں جا سکتے لیکن گانے سننا تو بس میں ہے نا؟ سستے جذباتی آدمی کو بھی زندگی گزارنا ہوتی ہے، ہر کوئی دل میں رکھ کے قبر میں نہیں لے جا سکتا۔ 

تو بس، بڑے دنوں کے بعد ہم بے وطنوں کو یاد، وطن کی مٹی آئی ہے۔

ابھی تو میں اسلام آباد رہتا ہوں، ملک سے باہر نہیں گیا۔ یہ چار گھنٹے پہ لاہور ہے، چھ گھنٹے پہ ملتان۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ