چینی آٹو جائنٹ بی وائی ڈی نے جمعرات کو جاری ایک رپورٹ میں بتایا کہ اس نے گذشتہ سال 22 لاکھ 60 ہزار الیکٹرک گاڑیاں فروخت کیں، جو دنیا میں کسی بھی کمپنی کی فروخت کا نیا ریکارڈ ہے۔
یہ اعداد و شمار بی وائی ڈی کو پہلی بار اس پوزیشن پر لے آتے ہیں کہ وہ سالانہ بنیادوں پر ایلون مسک کی ٹیسلا کو پیچھے چھوڑ دے۔
ٹیکساس میں قائم ٹیسلا پہلے ہی ستمبر 2025 تک 12 لاکھ 20 ہزار برقی گاڑیوں کی فروخت کا اعلان کر چکی ہے۔
ٹیسلا سے توقع ہے کہ وہ گذشتہ سال کی اپنی کل فروخت جمعے کو جاری کرے گی۔
شینژن میں قائم بی وائی ڈی نے، جو ہائبرڈ گاڑیاں بھی تیار کرتی ہے، یہ اعداد و شمار ہانگ کانگ سٹاک ایکسچینج میں شائع ایک بیان کے ذریعے جاری کیے، جہاں یہ کمپنی لسٹڈ ہے۔
یہ کپمنی 1995 میں قائم ہوئی تھی اور ابتدا میں صرف بیٹریاں بنانے میں مہارت رکھتی تھی۔
اب یہ آٹوموٹو دیو چین کی انتہائی مسابقتی نئی توانائی کی گاڑیوں (NEV) کی مارکیٹ پر غالب آچکا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بی وائی ڈی بیرونی منڈیوں میں اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ چین میں بدلتے ہوئے صارفین کے رویے اور کم قیمت کی جانب رجحان سے منافع دباؤ کا شکار ہے۔
بی وائی ڈی اور اس کے چینی حریفوں کو امریکہ میں بھاری ٹیرف کا سامنا ہے۔
تاہم، اس کی کامیابی جنوب مشرقی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور حتیٰ کہ یورپ میں بھی بڑھ رہی ہے، جس سے براعظم کی روایتی بڑی آٹو کمپنیوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
2024 میں ٹیسلا نے مجموعی سالانہ ای وی فروخت میں بی وائی ڈی کو معمولی فرق سے پیچھے چھوڑا تھا، جب امریکی کمپنی کی فروخت 17 لاکھ 90 ہزار جبکہ BYD کی 17 لاکھ 60 ہزار رہی تھی۔
اس سال مسک کی کمپنی کو اہم منڈیوں میں فروخت میں مشکلات کا سامنا رہا، جس کی ایک وجہ ان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انتہائی دائیں بازو کے سیاست دانوں کی سیاسی حمایت ہے۔