افغانستان میں غذائی قلت سے بچنے کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے بھیجے گئے آٹھ کنٹینرز پاکستان اور پڑوسی ملک کے درمیان طورخم سرحد پر پہنچ گئے۔
پاکستان کسٹمز کے اہلکار نے بتایا کہ ان کنٹینروں کو کلیئر کیا جا چکا ہے لیکن تاحال افغان بارڈر حکام نے انہیں افغانستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔
افغان حکام کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے ان کنٹینروں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جس سے اس امداد کی تصدیق کی جا سکے۔
کسٹمز اہلکار نے مزید بتایا کہ ان کنٹینرز میں بسکٹ اور کھانے پینے کا دوسرا سامان موجود ہے۔
جب افغان حکام ان کے افغانستان میں داخل ہونے کی اجازت دے گا تو پاکستان کی جانب سےان کنٹینر کو گیٹ پاس جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اقوام متحدہ کے اہلکار افغانستان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور امید ہے دو دن میں کنٹینرز کو افغانستان داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی۔
اقوام متحدہ نے دسمبر میں پاکستان کو بتایا تھا کہ افغانستان کے لیے افغانستان کے لیے امدادی سامان کے کنٹینر بھیجے جا رہے ہیں تاکہ وہاں کھانے پینے کی اشیا کی قلت پر قابو پایا جا سکے۔
عالمی ادارے پاکستان سے درخواست کی تھی ان کنٹینرز کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغانستان میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔ پاکستان نے یہ درخواست قبول کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ امدادی کنٹینرز پاکستان کی سرحد سے افغانستان داخل ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اقوام متحدہ کی جانب سے پہلے مرحلے میں 67 کنٹینر افغانستان بھیجے جائیں گے جب کہ دوسرے مرحلے میں 74 کنٹینر ہوں جن میں ادویات اور جراحی کے آلات شامل ہیں انہیں طالبان حکام کے حوالے کیا جائے گا۔ تیسرے مرحلے میں طلبہ اور اساتذہ کے لیے سٹیشنری اور کٹس بھجوائی جائیں گی۔
پاکستان افغان کشیدگی کے باعث دوسری سرحدوں کی طورخم بارڈر کو بھی بند ہوئے ڈھائی ماہ سے زائد عرصہ ہو چکا ہے۔ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب پاکستان افغان بارڈرز پر سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے نتیجے میں طورخم بارڈر پر بھی تجارتی سرگرمیاں اور پیدل آمدورفت معطل ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد بند ہونے کی وجہ سے جس سے پاکستان کی جانب سے سیمنٹ، مکئی، ہیوی مشینری، ادویات اور دیگر سامان افغانستان برآمد نہیں ہو رہا جب کہ افغانستان سے سوپ سٹون کوئلہ، خشک میوہ جات اور پھلوں کی پاکستان برآمد معطل ہے۔
اسی طرح افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی گاڑیاں بھی پاکستان کی جانب پر پھنسی ہوئی ہیں۔اس کے علاوہ سرحد پر دونوں جانب خالی کنٹینر اور مسافر بھی پھنسے ہوئے ہیں تاہم پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا عمل جاری ہے۔
سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بارڈر پر صرف امدادی کنٹینرز اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کو جانے کی اجازت ہے اور بارڈر کھولنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔