آرٹ کے نام پر بے وقوف مت بنیں 

خالص کلاسیکل راگ کتنا پلے پڑتا ہے؟ پرانا زمانہ تھا، بادشاہوں کے پاس وقت تھا انہوں نے سمجھا، سنا، مزے کیے، آپ غور کریں، گانے والا کہہ کیا رہا ہے کتنوں کو سمجھ آتا ہو گا؟ خود میں آج تک استادوں کے پاس سنتا ہوں تو بس چپ کرکے سبحان اللہ کرے جاتا ہوں۔

مادھوری کے ساتھ ’گج گامنی‘ فلم بنائی ایم ایف حسین نے، آرٹ مووی تھی، شاید مادھوری جی اور حسین صاحب نے اسے خود ہی پورا دیکھا ہو (فائل تصویر: اے ایف پی)

پڑھے لکھے لوگ آرٹ کے نام پر بے وقوف کیسے بنتے ہیں، سنیے۔

شاہ جی نے ایک بار ڈھابے پہ بیٹھے بیٹھے آٹھ دس دوستوں سے کہا کہ یہ رہا میرا آئی پیڈ، اس پہ رنگوں والی ایپلیکیشن کُھلی ہے، تم سارے اپنی انگلیوں سے ایک ایک دو دو لکیریں لگا دو مختلف رنگوں کی۔

سب نے جو لائنیں ماریں تو ایک ایبسٹریکٹ سی تصویر بن گئی۔ دس منٹ بعد شاہ جی نے وہ تصویر فیس بُک پر لگائی اور لکھا: ’یہ جواں مرگ روسی مصور یاربوٹنسکی کا ایک فن پارہ ہے جو ماڈرن آرٹ سے لگاؤ نہ ہونے کے باوجود میرے دل سے بہت قریب ہے۔‘

اب جو وہ قدردان اس تصویر کے واری صدقے ہوئے ہیں، اللہ اکبر!  

ایک کمنٹ آیا:  ’کیا خوبصورت فن پارہ ہے۔ فیمیل جینڈر کے مختلف رویوں کا اظہار اور میل جینڈر کو سوچنے کی تحریک۔‘ 

دوسرا آیا: ’مابعد جدید آرٹ کا عمدہ نمونہ۔ معنی کو صورت سے ایک موہوم ربط کی شکل میں دیکھنا ہو تو یہ بہترین نمونہ ہے۔ بہت خوب۔‘ 

پھر تیسرا آیا، چوتھا آیا اور ایک ڈھیر لگ گیا قدردانوں کا۔ اس کے بعد جب شاہ جی نے اصلیت سے پردہ اٹھایا تو سوچ ہے آپ کی جس قدر بھڑکی آگ۔ شریف آدمی ہیں، بڑی مشکل سے کراؤڈ کو ٹھنڈا کیا لیکن آج تک واقعہ سناتے ہیں تو اندر کی ہنسی چہرے پہ چھلکنے لگتی ہے۔  

ایجوکیٹڈ ذہن آسان چیز کو مشکل بنا کے پیش کرنے کا ماسٹر ہوتا ہے اور اس چیز کا سب سے زیادہ فائدہ پوری دنیا میں فن کار لوگ اٹھاتے ہیں۔ ہر مشکل بلکہ اکثر بے کار سی چیز ’کلاسیک‘ بنا کے عوام کے آگے رکھ دی جاتی ہے۔  

عام آدمی بے چارہ معصوم ہوتا ہے۔ وہ آرٹ کے نام پر سب کچھ زبردستی ہضم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جیسے پورا ڈرامہ اگر آپ ایک ہی سین میں گزار دیں تو وہ ڈرامہ کہلا بھی سکتا ہے؟ اسے آرٹ کے نام پر آپ کو بیچ دیا جائے گا، وہ ’سنگل ایکٹ کا ڈرامہ‘ کہلائے گا۔  

ایک تصویر ہے، الٹی سیدھی لائنیں لگی ہیں، دو تین ایسی شکلیں بنی ہیں جیسے بچے بناتے ہیں اور وہ کئی لاکھ ڈالروں میں بکے گی، کیوں؟ ’بھئی مصور نے اس میں کائنات کی پوشیدہ قوتوں کے بارے میں بات کی ہے، بس!‘  

ایک اور تصویر جس میں چھ سات فٹ کینوس پر صرف تین رنگوں کے ٹکڑے تھے، جیسے جھنڈے کے تین رنگ ہوتے ہیں، گلابی، پیلا اور سفید، وہ 72.84ملین ڈالر کی فروخت ہوئی۔ مارک روتھکو نامی اس پینٹر کی تصویر ’وائٹ سینٹر‘ میں ایسا کیا تھا؟ 2007 سے آج تک مجھے نہیں سمجھ آیا۔

ظلم یہ ہے کہ ایسی تصویریں حد سے زیادہ ہیں اور ان کی تشریح اگر کوئی کرتا ہے تو وہ نرا ڈرامے باز ہے، ورنہ خریدار صرف وہ ہوتے ہیں جنہیں ’آرٹ کو سمجھنے والے‘ کا لیبل لگوانا پسند ہوتا ہے یا شاید کالا دھن سفید کرنا ہو۔   

مادھوری کے ساتھ ’گج گامنی‘ فلم بنائی ایم ایف حسین نے، آرٹ مووی تھی، شاید مادھوری جی اور حسین صاحب نے اسے خود ہی پورا دیکھا ہو آج تک، کیوں بھئی؟ عام آدمی کے لیے وہ سینما تک آخر لائی ہی کیوں گئی؟ اور جنہوں نے ٹکٹ خرید کے دیکھی ان سے غلطی یہ ہوئی کہ مادھوری کے نام پر آ گئے؟ 

اردو میں تو خیر آسان چیز کو مشکل بنا کے لانے کا فن عروج پہ ہے۔ غالب تھے، کیسی پیاری زبان میں خط لکھتے تھے اور جو شاعری کی، وہ کیا زبان تھی؟ ’کاو کاوِ سخت جانی، ہائے تنہائی نہ پوچھ؟‘ سمجھ آیا؟ غالب رہنے دیجیے، استاد ہیں، کسی نامعلوم شاعر کا ایک عام سا شعر دیکھیں:  

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو 

کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا 

سلیس اردو میں یہ کہ شہد کی مکھی کو باغ میں جانے مت دینا کہ پروانہ بے چارہ مفت میں مارا جائے گا۔ سمجھ آتا ہے؟  

مطلب ہوا کہ شہد کی مکھی باغ میں جائے گی، پھولوں کا رس چوسے گی، واپس آ کر شہد بنائے گی اور چھتے کا موم بھی پیدا کرے گی۔ وہ چھتہ جب اتارا جائے گا تو اس کی موم بتیاں بنیں گی اور جب وہ جلیں تو پھر روشنی دیکھ کے پروانے آئیں گے اور ناحق اس کے شعلے میں جل جائیں گے۔ کیسا دیا؟ تو یہ بھی آرٹ ہے!

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عام کہانی کو مشکل لفظوں اور ادبی طریقے سے لکھ دیں تو وہ افسانہ بن جائے گا اور اس کے خریدار خواہ مخواہ پیدا ہو جائیں گے۔ ایک آدمی اپنی آپ بیتی لکھے گا، اس میں کرداروں کے نام بدلے گا اور اسے چھاپ کے ناول نگار بن جائے گا۔ ناول کیا واقعی یہی ہوتا ہے؟ بھئی چونکہ وہ مشہور ہے تو اس نے ٹھیک کہا ہو گا۔ صدیوں پرانے لفظ اور خیال چبا چبا کے غزل اب بھی کہی جا رہی ہے، کیوں؟ آرٹ ہے!

گانے دیکھ لیں۔ خالص کلاسیکل راگ آپ کو پلے کتنا پڑتا ہے؟ پرانا زمانہ تھا، بادشاہوں کے پاس وقت تھا انہوں نے سمجھا، سنا، مزے کیے، آپ غور کریں، گانے والا کہہ کیا رہا ہے کتنوں کو سمجھ آتا ہو گا؟ خود میں غریب آج تک استادوں کے پاس بیٹھ کر سنتا ہوں تو کوشش کرتا ہوں کہ ٹھیک جگہ پر داد دوں لیکن پتہ خاک نہیں ہے، سمجھ ککھ نہیں آتا، چونکہ دکھانا ہے کہ میں ’کلچرڈ‘ ہوں تو بس چپ کر کے سبحان اللہ کرے جاتا ہوں، دل میں سوچتا ہوں چمٹا ہوتا، ڈھولک ہوتی، ڈفلی ہوتی کیا انگ انگ سے گانا سنا جاتا! 

فلم، ڈرامہ، تصویر، ادب کچھ بھی ہو، آرٹ اپنے آپ کو خود منواتا ہے۔ آرٹ کو تشریح کرنے والے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کائنات میں کون سی چیز آپ کو ایبسٹریکٹ نظر آتی ہے؟ ٹیڑھی میڑھی، بے ڈھنگی اوپر کو بڑھتی لا تعداد شاخیں کسی درخت کی؟ لیکن اینڈ پہ آ کے وہ درخت ہی ہو گا نہ؟ قدرت نے کبھی کہا کہ اسے آپ کبوتر کہیں؟  

ہر میدان میں باریک کام کرنے والے موجود ہوتے ہیں، فن کی نزاکتیں ہوتی ہیں لیکن وہ سب اس طرح کیا جاتا ہے کہ جب چیز مکمل ہو تو کم از کم اسے دور سے دیکھ کر یا سن کر ایک مجموعی تاثر بنایا جا سکے، یعنی بھلے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوں لیکن ملیں تو کم از کم ایک شکل بن جائیں، کچھ تو آئیڈیا ہو۔  

معاملہ بہرحال پوری دنیا میں اس کے برعکس ہے۔ جو چیز جتنی سمجھ میں نہ آنے والی ہوگی، آرٹ اور آرٹسٹ کے نام پر وہ اتنی ہی عظیم سمجھی جائے گی اور اسی لحاظ سے لاکھوں کروڑوں کا مول لگے گا۔  

یہ سائنس کہ آرٹ بکتا کیسے ہے، وعدہ رہا پھر کبھی سمجھاؤں گا۔ ابھی لکھنے کا مقصد تھا کہ جو بندہ پڑھ لے وہ آج کے بعد فرصت کا وقت، حلال کے پیسے اور دماغ کی لسی خواہ مخواہ کے آرٹ پر خالی نہ کرے، بس اتنا فن اچھا جتنا اپنی سمجھ میں آ جائے، جو پلے نہ پڑے وہ فن نہیں چن ہے، جو باقاعدہ چڑھایا جاتا ہے۔     

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ