سپریم کورٹ نے جمعرات کو نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف نظرثانی درخواست خارج کر دی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آج سپریم کورٹ کے سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
سماعت کے دوران ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ’ٹرائل کورٹ میں رپورٹ ہوا مجرم خود کو روحانی پیشوا اور مقتولہ کو قربانی کا جانور سمجھ رہا تھا۔ میرا موکل ذہنی مریض ہے وہ دستخط تک ٹھیک نہیں کر سکتا۔‘
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ’ہمیں بھی صبح اخبار پڑھ کر پریشانی ہوتی ہے، کچھ لوگوں کی اونچی آواز میں وی لاگ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔‘
جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیے کہ طبی تاریخ (میڈیکل ہسٹری) بہت طویل ہوتی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا ’آج عدالت دیگر تمام مقدمات ملتوی کر رہی ہے، ویسے بھی آج ہمارے بچے یہاں موجود نہیں۔’
سماعت کے دوران خواجہ حارث نے ٹرائل کے دوران ہونے والی میڈیا رپورٹنگ کا حوالہ دیا، جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا ’ہم یہاں خبریں سننے کے لیے نہیں بیٹھے ہوئے۔‘
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ بعض اوقات عدالت کچھ کہتی ہے لیکن رپورٹ کچھ اور ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اخبار میں رپورٹنگ ایک طرح کی ہوتی ہے جبکہ وی لاگ میں کچھ اور کہا جاتا ہے، تو جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ ہر شخص اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔
خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہونے کے بعد نور مقدم کے والدین کے وکیل شاہ خاور نے دلائل دیتے ہوئے کہا ’ظاہر جعفر کو 20 جولائی کو جائے وقوعہ سے گرفتار کیا گیا۔ جسمانی ریمانڈ سے جوڈیشل ریمانڈ میں منتقلی کے دوران بھی ملزم کو سینیئر وکیل کی خدمات حاصل تھیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ چالان، فرد جرم اور جرح کے مراحل میں بھی لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر فوجداری وکیل ملزم کی نمائندگی کرتے رہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج سکندر ذالقرنین بھی ملزم کے وکیل رہے جبکہ بعد ازاں عدالت نے ان کے لیے سٹیٹ کونسل مقرر کیا۔
شاہ خاور کے مطابق ’ظاہر جعفر نے ضابطہ فوجداری کی دفعات 342 اور 265 کے تحت اپنے بیانات خود ریکارڈ کروائے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر مکمل طور پر صحت مند تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ملزم کے والدین بھی اس مقدمے میں شریک ملزمان تھے اور انہیں بھی وکلا کی خدمات حاصل تھیں، تاہم انہوں نے ’کبھی یہ موقف اختیار نہیں کیا کہ ان کا بیٹا ذہنی طور پر بیمار یا نااہل ہے۔‘
ان کے مطابق ٹرائل کورٹ کے جج نے خود بھی اور جیل کے ڈاکٹر کے ذریعے بھی ملزم کی ذہنی حالت کا جائزہ لیا تھا اور دونوں اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ملزم ذہنی طور پر صحت مند ہے۔
شاہ خاور نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ملزم کی درخواست مسترد کر دی تھی اور اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج بھی نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی ٹرائل کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک مختلف عدالتی مراحل میں چلائی گئیں۔
بعد ازاں شاہ خاور نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست مسترد کر دی جائے۔
20 جولائی، 2021 کی شام اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کا بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا اور ملزم ظاہر کو موقعے سے حراست میں لے لیا گیا۔
ظاہر مشہور بزنس مین ذاکر جعفر کے بیٹے ہیں۔ پولیس نے 24 جولائی کو جرم کی اعانت اور شواہد چھپانے کے جرم میں ملزم کے والدین ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ عصمت آدم جی سمیت دو گھریلو ملازمین کو بھی تفتیش کے لیے حراست میں لیا تھا۔
24 فروری، 2022 کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے قتل کے جرم میں ظاہر کو تعزیرات پاکستان دفعہ 302 کے تحت سزائے موت، جبکہ ریپ کے جرم میں 25 سال قید بامشقت کی سزا اور دو لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
اغوا کے جرم میں 10 سال قید بامشقت کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانہ علیحدہ سے عائد کیا گیا۔
ظاہر والدین کو بری کر دیا گیا جبکہ مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار کو 10، 10 سال کی قید سنائی گئی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سزاؤں کے خلاف اپیلوں کو خارج کرتے ہوئے ظاہر جعفر کو ریپ کے جرم میں 25 سال قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ظاہر جعفر کو دو مرتبہ سزائے موت کا فیصلہ سنایا تھا۔