پاکستان کی وفاقی کابینہ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات دوبارہ ملتوی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس حوالے سے قانون میں ترمیم کا صدارتی آرڈیننس آج (جمعے کو) جاری کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم آفس کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق کابینہ کا اجلاس جمعے کو اسلام آباد میں ہوا جس کی صدارت وزیر اعظم شہباز شریف نے کی۔
اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹیو کیسز کے 30 دسمبر، 2025 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی جن میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) آرڈینینس ، 2025 کے حوالے سے کارروائی کی توثیق بھی شامل ہے۔
الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ابتدائی طور پر 15 فروری کی تاریخ مقرر کی تھی، جن کے نتائج 16 سے 19 فروری کے درمیان مرتب کیے جانا تھے۔
قبل ازیں 2022 میں الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں 31 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے اور یونین کونسلز بڑھانے کی حکومتی استدعا منظور کر لی تھی۔
حکومتی موقف تھا کہ اسلام آباد کی آبادی بڑھ چکی ہے لہذا کم یونین کونسلز کے ساتھ عوام ووٹ کے حق سے محروم ہو جائیں گے اس لیے یونین کونسلز کو بڑھا کر دوبارہ حلقہ بندیاں کی جائیں۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق بلدیاتی انتخابات اب 101 یونین کونسلز کی بجائے 125 یونین کونسلز میں ہوں گے۔ جبکہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی الیکشن کرانے کی استدعا مسترد کر دی گئی تھی۔
جمعے کو وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹیو کیسز کے تین دسمبر، 2025 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔ کابینہ کے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 26 اگست، 2025 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی جن میں آف گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹ) لیوی کے حوالے سے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے اور اس حوالے سے حکمت عملی ترتیب دینے کے حوالے سے فیصلے کی توثیق شامل ہے.
وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم ڈویژن کی سفارش پر تھرڈ پارٹی کی جانب سے آف دی گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس کی فروخت کے حوالے سے آف گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹس) لیوی ایکٹ 2025 میں ترمیم کے صدارتی حکم نامے کے اجرا کے لیے کارروائی کی منظوری دی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی نجکاری کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ بولی کا عمل شفاف رہا۔
انہوں نے کہا: ’ہم نے حکومت میں آتے ہی یہ عزم کیا تھا کہ خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری کی جائے گی ۔ پی آئی اے کی نجکاری اس حوالے سے ایک انتہائی اہم سنگ میل ہے۔ خسارے میں جانے والے ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے.‘
وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے اپنی حالیہ ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں دو طرفہ تعلقات اور باہمی مشاورت کے تناظر میں انتہائی مفید قرار دیا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ایک روز قبل ان کی سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر خوشگوار بات چیت ہوئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور سٹریٹجک تعلقات کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔