’ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی‘، محمود اچکزئی پر چمن میں مقدمہ

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اچکزئی نے عید الاضحیٰ کے تیسرے روز چمن میں جلسے سے خطاب میں سیاسی صورتحال، سرحدی معاملات اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔

محمود خان اچکزئی 29 مئی، 2026 کو چمن میں جلسے سے خطاب کر رہے ہیں (پشتونخوا ملی عوامی پارٹی میڈیا ونگ)

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کے خلاف ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام پر چمن میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔

اچکزئی نے عید الاضحیٰ کے تیسرے روز افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں ایک جلسے سے خطاب کیا تھا، جس میں انہوں نے ملکی سیاسی صورتحال، سرحدی معاملات اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔

مقدمہ چمن کے سٹی تھانے میں عبدالولی خان غیبزئی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ اچکزئی نے خطاب کے دوران عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے اور اشتعال انگیزی پھیلانے کی کوشش کی۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق اچکزئی نے بلوچستان میں گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بلوچستان حکومت کو عوام کے تحفظ میں ناکام قرار دیا اور موجودہ حکومت کو ’فارم 47 کی جعلی حکومت‘ کہا۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ جلسے کے شرکا نے مرکزی شاہراہ بند کر کے آمدورفت معطل کی۔

پولیس نے محمود خان اچکزئی کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 153 اے، 505، 131، 341، 147 اور 149 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

سٹی تھانہ چمن کے ایس ایچ او نے اے ایس آئی غلام محمد کو تفتیشی افسر مقرر کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹری اور ترجمان کبیر افغان نے مقدمے کو ’جعلی، بوگس اور بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام سیاسی انتقام، جمہوری اقدار کی نفی اور عوامی آواز کو دبانے کی ناکام کوشش ہے۔

کبیر افغان کے مطابق اچکزئی نے ہمیشہ آئین کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام، پشتون قوم کے حقوق، وسائل پر اختیار، امن، روزگار، کاروبار اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی بات کی۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی اچکزئی مظلوم اقوام کے آئینی اور جمہوری حقوق کی آواز بلند کرتے ہیں تو بعض عناصر جھوٹے مقدمات، بے بنیاد الزامات اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے ان کی سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

پارٹی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ یہ مقدمہ فوری طور پر ختم کیا جائے اور سیاسی انتقام کا سلسلہ بند کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام حقائق سے آگاہ ہیں اور جھوٹے مقدمات یا من گھڑت الزامات کے ذریعے سیاسی قیادت کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست