وزارت اطلاعات ونشریات کا کہنا ہے کہ ایسی پوسٹس ’الجھن، غلط فہمیاں اور افراتفری پھیلانے کے وسیع تر ایجنڈے‘ کا حصہ ہیں۔
چمن۔سپن بولدک بارڈر پر ہزاروں افغان خاندان دنوں نہیں بلکہ ہفتوں تک زیرو پوائنٹ پر ٹھہرنے پر مجبور ہیں، جہاں انہیں کھلے آسمان تلے نہ مناسب خوراک، نہ پانی اور نہ ہی سایہ میسر ہے۔