چمن: افغان سرحد پر پاسپورٹ لازمی قرار دینے کے خلاف دھرنا جاری

چمن کے لوگ شناختی کارڈ اور افغان شناخت نامہ تذکرہ کا پرانا نظام جاری رکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاہم نگران حکومت کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ کی شرط واپس نہیں لی جائے گی۔

چمن میں افغان سرحد عبور کرنے کے لیے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف مقامی افراد 22 اکتوبر، 2023 کو دھرنے میں شریک ہیں (تصویر احمد ظاہر)

افغانستان سے متصل صوبہ بلوچستان کے ضلع چمن میں سرحد عبور کرنے کے لیے پاکستانی شناختی کارڈ اور افغان شناخت نامہ ’تذکرہ‘ کی بجائے پاسپورٹ کو لازمی قرار دیے جانے پر چمن میں سیاسی جماعتوں اور تاجروں کا دھرنا آج (اتوار کو) دوسرے روز بھی جاری رہا۔

کوئٹہ میں 10 اکتوبر کو صوبائی ایپکس کمیٹی کے ایک اجلاس، جس میں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے شرکت کی، میں غیر قانونی تارکین وطن کو نکالنے اور افغان سرحد پر تذکرہ اور شناختی کارڈ کی بجائے پاسپورٹ کا نظام لاگو کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ 
ان فیصلوں کے حوالے سے نگران وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے 11 اکتوبر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سرحد پر سپیشل برانچ اور نادرا کے ڈیجیٹل سسٹم کے تحت آنے والے افراد کے فنگر پرنٹ لیے جائیں گے تاکہ غیرقانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی روک تھام کر کے ڈیٹا مرتب کیا جا سکے۔
چمن میں جاری دھرنے میں شامل آل پارٹیز تاجر لغڑی اتحاد کے ترجمان اولس یار نے بتایا کہ ’ہمارا باب دوستی اور ایف سی قلعے کے درمیان دھرنا جاری ہے، جس کا آج دوسرا دن ہے۔
’ہمارے تین مطالبات ہیں۔ پہلا، (ہم) چمن سرحد پر پاسپورٹ کو نہیں مانتے۔ دوسرا چمن سرحد پر تجارت کا جو سابقہ طریقہ تھا، ہاتھ کا سامان لے جانے کا، وہ بحال کیا جائے۔
’تیسرا سرحد پر جو قانونی تجارت ہوتی ہے، جس سے ملک کو ریونیو ملتا ہے، اس پر عائد پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے۔‘ 
انہوں نے کہا کہ دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔ 
اولس یار کا کہنا تھا کہ جتنے بھی کاروباری مراکز اور دکانیں سرحد کی ویش منڈی میں ہیں، وہ سب چمن کے تاجروں کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق سرحد سے 25 ہزار سے زائد لوگ روزانہ افغانستان آتے جاتے ہیں۔
’اس کے علاوہ یہاں پر اچکزئی، نورزئی اور دوسرے (قبائل اور برادریاں) آباد ہیں، جن کی آدھے لوگ یہاں اور آدھے دوسری طرف افغانستان میں ہیں، یہ لوگ بھی متاثر ہو رہےہیں۔‘ 
انہوں نے بتایا کہ ان کے ضلعی انتظامیہ اور دیگر سرکاری حکام سے دو مذاکرات ہو چکےہیں، جن میں انہوں نے اپنے مطالبات رکھے۔

اولس کے مطابق مذاکرات کے دوران حکام کا کہنا تھا کہ فیصلہ ایپکس کمیٹی میں ہوا ہے، جس کو واپس نہیں لیا جا سکتا۔

’اس طرح ہمارے مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوئے، اس لیے ہمارا دھرنا جاری ہے، جب (تک) مطالبات منظور نہیں ہو جاتے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نگران وزیراطلاعات جان اچکزئی نے اتوار کو انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ایک دستاویز پر سرحد سے آمدورفت حکومت پاکستان کا فیصلہ ہے، جس کو واپس نہیں لیا جا سکتا۔

’پہلے مرحلےمیں تذکرہ ای (الیکٹرانک) ہو جائے گا، اس کے بعد پاسپورٹ لازمی ہو جائے گا اور سکیننگ ہو گی۔
’جہاں تک روزگار کا تعلق ہے تو ہماری کوشش ہے کہ ان کو متبادل روزگار دیا جائے۔ ہمارے دو، تین منصوبے زیرغور ہیں تاکہ یہ لوگ بے روزگار نہ ہوں۔ ان سمگلرز کی تعداد بہت قلیل ہے، جو ہم سب کو پتہ ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس فیصلے کے تحت ہم جو سہولت دے سکتے ہیں ان کو فراہم کریں گے، سرحد سے تجارت کو کبھی ہم نے بند نہیں کیا، جو چیز افغانستان کو چاہیے جو ہاں نہیں ہے، اس کو ہم خوش آمدید کہیں گے۔‘
جان اچکزئی کا مزید کہنا تھا کہ اس تجارت میں جو سامان وہاں جا کر واپس سمگل ہو کر آجاتا ہے، اس کی اجازت کبھی نہیں دی جائے گی۔
’ہم ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کھول رہے ہیں، لیکن ہم تیل کی سمگلنگ کو ختم کریں گے۔ ایران کے ساتھ ہماری تجارت 2.5 ملین ڈالرتک پہنچ گئی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ وہ قانونی کاروبار چاہتے ہیں کیونکہ  سمگلنگ دہشت گردی کو مالی مدد دیتی ہے، یہ 90 فیصد سمگلرز اور دوسرے نیٹ ورکس کو مالی فائدہ دیتی ہے، جس کی کوئی گنجائش نہیں۔
’اس کے علاوہ روزگار کے معاملے پر حکومت بات کرے گی، ہمارے پاس آپشن موجود ہیں۔‘
دھرنے کے حوالے سے جان اچکزئی نے کہا کہ احتجاج ہر پاکستانی کا حق ہے، چاہے وہ دھرنا ہو جلسہ یا جلوس۔
’ہم ان کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کریں گے، باقی ان کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ ریاستی پالیسی کے نیچے (جو) حقوق ہیں وہی ہیں اس کے علاوہ کوئی دوسرا مسئلہ ہے تو اس پر ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان