چمن: 2022 میں پاک افغان سرحد کتنی بار بند ہوئی؟

چمن کی یہ سرحدی گزر گاہ عوام کے لیے بہت اہم ہے۔ تاہم پچھلے ایک سال میں دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی کے باعث یہ متعدد مرتبہ بند رہی۔

پاکستانی سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار 27 اگست، 2021 کو چمن میں سرحدی دروازے پر کھڑا ہے جبکہ افغان اور پاکستانی شہری افغانستان میں داخل ہونے کے منتظر ہیں (اے ایف پی)

پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن سپن بولدک کے مقام پر باڑ لگی سرحد کو روزانہ بڑی تعداد میں لوگ عبور کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اس کی بندش سے دونوں ہی جانب افراد کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے نہ صرف بڑے پیمانے پر اشیا کی ترسیل ہوتی ہے بلکہ بیمار افغان شہری بھی علاج کے غرض سے پاکستان آتے ہیں۔

چمن کے رہائشی محب اللہ پیشے کے اعتبار سے ایک تاجر ہیں اور ان کا اکثر کاروبار کے سلسلے میں افغانستان آنا جانا لگا رہتا ہے۔

ان کے بقول اس علاقے میں چونکہ کوئی فیکٹری وغیرہ نہیں ہے لہٰذا لوگوں کا گزر بسر سرحد سے وابستہ ہے۔

تاہم پچھلے ایک سال کے دوران یہ سرحد پانچ بار سرحدی تنازعوں کی وجہ سے بند رہی، جس کی بڑی وجہ ’باڑ‘ ہے جو پاکستان اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے غرض سے لگا رہا ہے۔

چمن کی سرحد اس سال پہلی مرتبہ افغان اور پاکستانی فورسز کے درمیان فائرنگ کی وجہ سے فروری میں بند ہوئی۔

24 فروری کو سرحد کے قریب افغان طالبان اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے تھے۔

واقعے کے بعد بند سرحد کو 28 فروری کو کھول دیا گیا۔ 

نو جولائی کو کوژک ٹاپ پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک معطل ہونے سے چمن سرحد پر متعدد ٹرک پھنس گئے جو اس کی بندش کا سبب بنے۔ 

پھر نومبر میں فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا جس میں ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکار جان سے گیا اور دو زخمی ہوئے۔

پاکستانی حکام نے ایک ہفتے تک سرحد کو بند رکھنے کے بعد 21 نومبر کو دوبارہ تجارت اور آمدورفت کے لیے کھول دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دسمبر 2022 میں پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان باڑ لگانے کے تنازع پر ایک مرتبہ پھر جھڑپ ہوئی جس میں پاکستان کے چھ شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ چونکہ شام کو پیش آیا تو اس سے گزر گاہ پر کوئی اثر نہیں پڑا اور دوسرے دن معمول کے مطابق تجارت اور آمد ورفت جاری رہی۔

سرحد کی بندش سے یہاں پر گاڑیوں اور کنٹینرز میں رکھا کھانے پینے کا سامان خراب ہو جاتا ہے اور اگر بندش طویل ہو جائے تو ٹرک ڈرائیور بھی متاثر ہوتے ہیں کیونکہ زیادہ دیر ایک ہی مقام پر کھڑے رہنے سے ان کی گاڑیوں کے ٹائر بھاری بوجھ برداشت نہیں کر سکتے اور پھٹنے لگتے ہیں۔

چمن میں 15 جنوری، 2020 سے جنوری 2021 تک بحیثیت اسسٹنٹ کمشنر فرائض انجام دینے والے ذکا اللہ درانی نے بتایا کہ ان کے وقت میں افغانستان پر اشرف غنی کی حکومت تھی اور سرحد مکمل طور پر کھلی تھی۔

’اس وقت روزانہ 10 ہزار افراد کی آمدورفت رہتی تھی۔ پھر جب سرحد پر باڑ لگ گئی تو سامان لانے کا غیر قانونی راستہ بند ہو گیا، جس پر علاقے کے لوگوں نے احتجاج کیا۔

’اس پر حکام نے فیصلہ کیا کہ سرحد پر پیدل کاروبار کرنے والوں کو صرف 20 کلو گرام سامان لانے کی اجازت ہوگی۔ ’تاہم اگر کوئی زیادہ سامان یا ممنوعہ اشیا لانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے روک دیا جاتا ہے۔‘

(ایڈیٹنگ: بلال مظہر)

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان