چمن سرحد پر ڈالر کی سمگلنگ روکنے کے لیے جدید سکینر نصب 

سرحد پر جدید سافٹ ویئر سے لیس سکینر نصب کیا گیا ہے جو نہ صرف نوٹ گن سکتا ہے بلکہ نوٹوں کے سیریل نمبر بھی ریکارڈ کر سکتا ہے۔ 

پاکستان میں ڈالر کی بلند اڑان کا ایک سبب اس کی افغانستان سمگلنگ بتایا جاتا ہے (اے ایف پی)

پاکستان افغانستان سرحد پر چمن کے مقام پر پہلی مرتبہ کرنسی ڈیسک متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے ہر آنے اور جانے والے فرد کر اپنی کرنسی ڈیکلیئر کرنا ہو گی۔ 

یہ فیصلہ بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن سے ڈالر کی افغانستان سمگلنگ روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے اسسٹنٹ کلیکٹر کسٹم وقاراحمد نے انڈپینڈںٹ اردو کو بتایا کرنسی کی سمگلنگ روکنے کے لیے چمن سرحد پر پہلی مرتبہ کرنسی ڈیسک متعارف کرایا گیا ہے، اس ڈیسک کے ذریعے ہر آنے اور جانے والے فرد کر اپنی کرنسی ڈیکلیئر کرنا ہو گی۔ 

وقار نے بتایا، ’ہمارا ایک جدید سافٹ ویئر بھی کام کر رہا ہے اور کرنسی گننے والی مشین بھی نصب کر دی گئی ہے، جس کے ذریعے نوٹوں کے سیریل نمبر بھی ریکارڈ ہو سکتے ہیں۔‘ 

انہوں نے بتایا کہ چھ ماہ کے دوران ہم چمن سرحد پر آٹھ کروڑ روپے کے کرنسی کے کیس بنا چکے ہیں، جن میں ریال، ڈالر، پاکستانی کرنسی شامل ہے۔ 

وقار کے بقول: ’ہم نے کرنسی کی غیرقانونی آمدورفت کو روکنے کے لیے سٹیٹ آف دی آرٹ اقدامات کیے ہیں، چیف کلیکٹر کسٹم نے ہمیں مزید کچھ بہتر اقدامات کی ہدایت کی ہے، تاکہ لوگوں کو سمگلنگ کے حوالے سے آگاہی کے ساتھ آنے جانے کے بارے میں سہولت بھی مل سکے۔‘ 

انہوں نے بتایا، ’چمن سرحد پر کرنسیوں کے ساتھ لوگوں کی چیکنگ اور دوسرے انتظامات کےلیے بڑے اقدامات کیے گئے ہیں، جس سے اس حوالے سے معاملات میں بہتری آ رہی ہے۔‘

وقار کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ اقدامات اور کرنسی کے حوالے سے قائم مقدمات کے باعث لوگوں میں کرنسی کی غیرقانونی طور پر لے جانے کے حوالے سے حوصلہ شکنی ہو گی اور اس کی بہتر طریقے سے روک تھام ہو سکے گی۔ 

انہوں نے بتایا: ’گذشتہ دنوں ہم نے 90 ہزار ریال کا ایک کیس بھی پکڑا اور اس کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے، جس کی مزید تفتیش جاری ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وقار نے بتایا: ’چمن سرحد پر گزرنے والے افراد پہلے سکینر سے گزرتے ہیں پھر ان کی جسمانی تلاشی ہوتی ہے، اس کے بعد واک تھرو گیٹ، دوبارہ جسمانی تلاشی اور اس کے بعد سامان کو سکینر سے گزارا جاتا ہے، اس سکینر سے گزرنے والے سامان کی دو طرفہ سکیننگ ہوتی ہے، جس میں ہر چیز واضح ہو جاتی ہے، جس میں کوئی بھی مشتبہ چیز، ڈیوائس، کرنسی کا بنڈل اور دوسرا سامان فوری نظر آ جاتا ہے۔‘ 

ادھر چیف کلیکٹر کسٹمز بلوچستان محمد سلیم نے بھی گذشتہ روز چمن کا دورہ کر کے کسٹمز حکام اور چمن بزنس کمیونٹی سے ملاقات کی۔ اس موقعے پر چیف کلیکٹر کسٹم بلوچستان نے تاجروں کے ساتھ ملاقات کی اور بتایا کہ پاک افغان باڈر چمن انتہائی اہمیت کا حامل سٹیشن ہے، تجارت کے فروغ کے لیے تاجروں کو آسانیاں فراہم کی جائیں گی۔ 

چیف کلیکٹر محمد سلیم نے کہا، ’بزنس کمیونٹی کی نشاندہی پر مشکلات کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ہیں، ڈالر افغانستان سمگلنگ روکنے کے لیے بارڈر پر سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں، جدید سکینرز لگائے گئے ہیں اور دوسرے اداروں کے ساتھ ساتھ کسٹم اہلکار بھی کرنسی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ چمن باڈر پر تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل آئی ٹی ٹی ایم ایس مرکز کی تعمیر سے تاجروں کو مزید سہولیات میسر آئیں گی، 31 جولائی سے یہ جدید سہولتوں کے حامل یہ نظام فنکشنل ہو جائے گا۔ 

انھوں نے تاجروں کی درخواست پر بتایا کہ سرحد کو 24 گھنٹے کھولنے کے لیے افغان طرف سے مشکلات ہیں، جب وہ راضی ہو جائیں گے تو چمن بارڈر بھی طورخم کی طرح 24 گھنٹے ٹریڈ کے لیے کھلا رہے گا۔ 

چیف کلیکٹر نے کہا، ’سرحد پر تجارت بڑھانے کے لیے نیا سکینر نصب کیا جا رہا ہے، جو کہ ایکسپورٹ مال بردار ٹرکوں کی سکیننگ کرے گا اور اموال سے لدے ٹرکوں کی کلیئرنگ بہت جلد ہو گی۔‘

بلوچستان کے ضلع چمن کے ساتھ افغانستان کا صوبہ قندھار منسلک ہے، جہاں پر دونوں ممالک کے درمیان ایک سرحدی دروازہ بنایا گیا ہے، جس کے ذریعے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق روزانہ 15 سے 20 ہزارافراد کی آمد ہوتی ہے، اس سرحد پراکثر دونوں ممالک کے فورسز کے درمیان کشیدگی اور بعض اوقات جھڑپیں بھی ہوئیں اور فائرنگ کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔ 

اس سرحد کے ذریعے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے سامان کی بھی ترسیل ہوتی ہے اور مقامی لوگ بھی کاروبار کے سلسلے میں افغانستان جاتے رہتے ہیں، جبکہ افغانستان سے اکثر لوگ علاج معالجے اور پاکستان میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے بھی سرحد کو پار کرتے ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان