پاکستانی، افغان فورسز میں جھڑپ کے بعد امن: ڈپٹی کمشنر چمن

سول ہسپتال چمن کے مطابق اس جھڑپ میں تین پاکستانی شہری زخمی ہوئے جبکہ کابل کا کہنا ہے کہ پانچ افغان شہری جان سے گئے۔

پاکستان میں حکام نے بتایا کہ صوبہ بلوچستان میں چمن کی سرحد پر پاکستانی اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات فائرنگ کے تبادلے کے بعد آج علاقے میں صورت حال پرامن رہی۔

چمن کے ڈپٹی کمشنر حبیب بنگلزئی کے مطابق جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب چمن سرحد پر افغانستان کی طرف سے بلاجواز فائرنگ کی گئی جس کا پاکستانی سیکورٹی فورسز نے جواب دیا۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں اطراف سے جھڑپ کا سلسلہ پانچ گھنٹے جاری رہنے کے بعد رک گیا اور ہفتے کی صبح  سے صورتحال پرامن ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ سرحد پر صورت حال بدستور کشیدہ ہے۔ میڈیکل سپرٹنڈنٹ سول ہسپتال چمن نے گولہ باری کے باعث تین افراد کی زخمی ہونے کی تصدیق کی۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے دونوں ممالک کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اس جھڑپ میں کم از کم پانچ افراد مارے گئے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق پاکستانی فورسز نے صوبہ قندہار کے ضلع سپین بولدک میں حملے کیے۔

ان کے نائب حمداللہ فطرا نے روئٹرز کو بتایا کہ پاکستان کی گولہ باری میں پانچ افراد مارے گئے، جن میں ایک طالبان رکن بھی شامل ہے۔

افغان بارڈر پولیس کے ترجمان عبد اللہ فاروقی نے کہا کہ پاکستانی فورسز نے پہلے سپن بولدک کے سرحدی علاقے میں افغانستان کی جانب دستی بم پھینکا، جس کے بعد جواب دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان جنگ بندی پر قائم ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی وزیراعظم کے ایک ترجمان مشرف زیدی نے کہا کہ افغان فورسز نے سرحد پر ’بلا اشتعال فائرنگ‘ کی۔

انہوں نے ایکس پر ایک بیان میں کہا ’پاکستان مکمل طور پر چوکس ہے اور اپنی علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔‘

یہ فائرنگ کا تبادلہ اس وقت ہوا جب دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات کا ایک نیا دور تقریباً ایک ہفتہ قبل بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گیا۔

گذشتہ ہفتے سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات قطر، ترکی اور سعودی عرب کی میزبانی میں جاری اُن ملاقاتوں کا تازہ سلسلہ تھے جن کا مقصد اکتوبر میں ہونے والی مہلک سرحدی جھڑپوں کے بعد کشیدگی کو کم کرنا تھا۔

تنازعے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند سرحد عبور کر کے پاکستان میں حملے کرتے ہیں اور حملہ آوروں میں افغان شہریوں کے خودکش دھماکے بھی شامل ہیں۔

کابل اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اسے پاکستان کے اندرونی سیکیورٹی حالات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرحد کی افغان جانب رہنے والوں نے بتایا فائرنگ کا تبادلہ رات کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے 10 بجے شروع ہوا اور لگ بھگ دو گھنٹے جاری رہا۔

قندھار کے محکمہ اطلاعات کے سربراہ علی محمد حقمل بتایا کہ پاکستان فورسز نے ’ہلکے اور بھاری توپ خانے‘ سے حملہ کیا اور مارٹر گولے شہریوں گھروں پر گرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’جھڑپیں ختم ہو گئی ہیں، دونوں فریقوں نے رک جانے پر اتفاق کیا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان