اسلام آباد نے جمعرات کو پاکستان کی میزائل صلاحیتوں پر امریکی نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر کے ایک بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی سٹریٹجک صلاحیتیں صرف دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد قومی خودمختاری کا تحفظ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام برقرار رکھنا ہے۔
امریکہ کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبرڈ نے ’سالانہ خطروں کی جائزہ رپورٹ 2026‘ میں پاکستان کے میزائل پروگرام اور علاقائی پالیسیوں کو امریکی سلامتی کے لیے ’خطرہ‘ قرار دیا ہے۔
بدھ کو جاری کردہ رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں امریکی سرزمین کو درپیش براہِ راست خطرات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کو امریکہ کے کٹر حریفوں یعنی روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ ایک ہی صف میں شامل کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں، بین البراعظمی میزائلوں، خودکش ڈرونز اور پراکسی جنگ سے امریکہ کو ممکنہ خطرہ ہے۔
اس پر پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان جناب طاہر اندرابی نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ پاکستان قطعی طور پر اس حالیہ دعوے کو مسترد کرتا ہے جو ایک امریکی اہلکار نے پاکستان کی میزائل صلاحیتوں کو ممکنہ خطرے کے طور پر پیش کیا۔
بیان کے مطابق ’واضح کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی سٹریٹجک صلاحیتیں صرف دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد قومی خودمختاری کا تحفظ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام برقرار رکھنا ہے۔
’پاکستان کا میزائل پروگرام جو انٹرکانٹینینٹل رینج سے کہیں کم ہے، انڈیا کے مقابلے میں معتبر کم از کم رَد عمل کی حکمت عملی (Credible Minimum Deterrence) پر مبنی ہے۔ ‘
PR No.7️⃣3️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣Statement by the Spokesperson regarding statement made by the United States Director of National Intelligence on Pakistan’s missile capabilities pic.twitter.com/2DILEJKn9D— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) March 19, 2026
بیان میں مزید کہا گیا ’اس کے برعکس انڈیا کی 12 ہزار کلومیٹر سے زائد رینج کی میزائل صلاحیتوں کی ترقی ایک ایسی سمت میں ہے جو صرف علاقائی سلامتی کے دائرہ کار سے آگے بڑھتی ہے اور یقینی طور پر پڑوسی ممالک اور خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔‘
بیان کے مطابق ’پاکستان امریکہ کے ساتھ تعمیراتی تعامل جاری رکھنے کا خواہاں ہے، جو باہمی احترام، غیر امتیازی رویہ، اور حقائق کی درستگی پر مبنی ہو۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’ہم پر زور دیتے ہیں کہ امریکہ ایک متوازن اور غور و فکر پر مبنی رویہ اختیار کرے جو جنوبی ایشیا کی سٹریٹجک ضروریات کے مطابق ہو اور خطے میں امن، سلامتی، اور استحکام کو فروغ دے۔‘
34 صفحات کی اس رپورٹ کے ایک اور حصے میں امریکہ کو درپیش ایٹمی حملے کے خطرات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے ’چین، روس، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان جوہری اور روایتی پے لوڈز کے ساتھ ایسے نت نئے، جدید یا روایتی میزائل ڈیلیوری سسٹمز کی ایک وسیع رینج پر تحقیق اور انہیں تیار کر رہے ہیں، جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق امریکہ کو اس وقت تین ہزار بین الابراعظمی میزائلوں کا خطرہ ہے، جب کہ یہ تعداد 2035 میں بڑھ کر 16 ہزار ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں خودکش ڈرونز کا بھی ذکر ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ ایک طرف جہاں خودکش ڈرونز کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، وہیں چین، ایران، شمالی کوریا، پاکستان اور روس ان جدید میزائلوں کی تیاری کو ترجیح دینا جاری رکھیں گے جو امریکہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔