پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اتوار کو کہا کہ 27 جولائی کے انتخابات ناصرف کشمیر بلکہ پاکستان کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق انہوں نے ڈڈیال میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار کے لیے نہیں بلکہ عوامی خدمت، جمہوریت اور عوام کے آئینی، سیاسی و معاشی حقوق کے لیے سیاست کرتی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا موجودہ حالات میں سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری عوام کی آواز بن کر اسے مظفرآباد، اسلام آباد اور عالمی سطح تک پہنچائیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر کے عوام پاکستان پیپلز پارٹی پر اعتماد کرتے ہیں تو وہ ہر فورم پر کشمیریوں کے حقوق کی بھرپور نمائندگی کریں گے۔
کشمیر میں حکام گذشتہ کئی ہفتوں سے ان احتجاجی مظاہروں سے نمٹ رہے ہیں جو انڈین زیر انتظام کشمیر سے آنے والے پناہ گزینوں کے لیے اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے معاملے پر کیے جا رہے ہیں۔
احتجاج کرنے والی کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) ابتدا میں بجلی کی قیمتوں، طرز حکمرانی اور معاشی حقوق جیسے معاملات پر آواز اٹھانے کے لیے سامنے آئی تھی۔
تاہم حالیہ عرصے میں اس کی توجہ مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر مرکوز ہے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان نشستوں کے ذریعے پاکستان میں موجود سیاسی جماعتیں کشمیر میں حکومت سازی کے عمل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
کشمیر حکومت نے گذشتہ ماہ جے اے اے سی پر یہ کہہ کر پابندی عائد کر دی تھی کہ یہ تنظیم پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ تاہم جے اے اے سی ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
بلاول بھٹو نے کشمیر کی حالیہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین اور ریاست کے درمیان جاری کشیدگی کے حل کے لیے ’ٹروتھ اینڈ ریکنسلی ایشن‘ کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی۔
انہوں نے کہا حق حاکمیت، حق ملکیت اور حقِ روزگار پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کا بنیادی حصہ ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں آئینی کنونشنز قائم کیے جائیں گے، جہاں تمام سیاسی جماعتوں، ماہرین اور عوام کی مشاورت سے آئینی اصلاحات پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔
بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ آئینی اصلاحات سڑکوں پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ، مکالمے اور اتفاق رائے سے کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مستقبل صرف کشمیری عوام طے کر سکتے ہیں۔
’مہاجرین کی نشستوں کے تحفظ کے ساتھ انتخابی نظام میں اصلاحات پر بھی سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ کشمیری عوام کی حقیقی نمائندگی یقینی بنائی جا سکے۔‘
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کسی کو حق حاصل نہیں کہ وہ ہجرت کرنے والے کشمیریوں کی نشستیں ختم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران متعلقہ فریق (جے اے اے سی) کے تمام جائز مطالبات پر آمادگی ظاہر کی گئی، ان سے بیٹھ کر بات چیت کی گئی اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ ان کے مطالبات پر عمل کیا جائے گا۔
’تاہم اس کے باوجود جلاؤ گھیراؤ، تشدد کی سیاست اور مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔‘
انہوں نے کہا ایسا ہر گزنہیں ہو سکتا کہ برطانیہ، امریکہ یا دنیا کے کسی اور حصے میں آباد کشمیری یا لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں مقیم کشمیری کی کشمیریت پر سوال اٹھایا جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا چند ہزار افراد کو جمع کر کے لشکر کشی کرنا، کیلوں اور ڈنڈوں سے لیس ہو کر آنا اور یہ سمجھنا کہ طاقت کے زور پر وہ اپنی بات منوالے گا تو ریاستوں کے آگے یہ چیز کوئی معنی نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا اگر انہیں عوامی حمایت حاصل ہوتی تو وہ انتخابات میں حصہ لیتے، عوام کے پاس اپنا ایجنڈا اور منشور لے کر جاتے اور اسمبلی میں ان کے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھاتے۔