امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے ایران کے ساتھ جاری تنازع ’بہت جلد‘ ختم ہو جائے گا۔
یہ بات انہوں نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں کانگریس کی دونوں جماعتوں کے ارکان اور ان کے اہل خانہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد براہ راست گفتگو کا سلسلہ تو تعطل کا شکار ہے تاہم اس دوران پاکستان اور دیگر ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ہم اس جنگ کو بہت جلد ختم کر دیں گے۔ وہ خود معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، وہ اس سے تنگ آ چکے ہیں، یہ معاملہ تو 47 سال پہلے ہی حل ہو جانا چاہیے تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’کسی نہ کسی کو اس پر پہلے ہی کچھ کرنا چاہیے تھا۔ اب یہ ہوگا، اور جلد ہوگا۔ آپ دیکھیں گے کہ تیل کی قیمتیں نیچے آ جائیں گی۔‘
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے ہم اس مسئلے سے بہت جلد نمٹ لیں گے، اور انہیں جوہری ہتھیار حاصل نہیں ہوگا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’اور امید ہے کہ ہم یہ سب کچھ ایک اچھے اور پُرامن طریقے سے کر لیں گے۔‘
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب چند گھنٹے قبل امریکی سینیٹ نے ایک وار پاورز قرارداد کو آگے بڑھایا، جس کے تحت صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف تعینات امریکی افواج کو واپس بلانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ امریکہ کو دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور وہ حملے کا فیصلہ کرنے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے جب انہوں نے اسے مؤخر کر دیا۔
دوسری جانب ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ دوبارہ حملہ کرتے ہیں تو وہ ’ٹرگر دبانے کے لیے تیار‘ ہیں۔
48 گھنٹوں میں چھ ڈرونز مار گرائے: متحدہ عرب امارات
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے منگل کو بتایا کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران فضائی دفاعی نظام نے کامیابی سے چھ ڈرونز (UAVs) تباہ کیے، جو ملک میں شہری اور اہم مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
وزارت دفاع نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی اہم تنصیبات کی سلامتی متاثر ہوئی۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے واضح کیا کہ ’یو اے ای خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔‘