’پاکستانی ثالثی میں امریکہ سے 14 نکاتی متن پر مذاکرات جاری‘

ایرانی ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستانی وزیر داخلہ کی موجودگی پیغامات کے تبادلے میں سہولت فراہم کر رہی ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ مذاکرات جاری ہیں (فائل فوٹو: ارنا)

امریکہ اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی قائم ہے اور کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے ثالثی کی کوششوں سمیت دونوں جانب سے بیانات اور دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اس حوالے سے لائیو اپ ڈیٹس یہاں دیکھیے:


 

’پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ سے مذاکرات جاری ہیں: ایران

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ مذاکرات جاری ہیں۔

ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق ترجمان اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ ’بنیادی طور پر ہم جو چاہتے ہیں وہ مطالبات نہیں بلکہ ہمارے حقوق ہیں۔‘

ترجمان نے کہا ہے کہ ’ایرانی اور امریکی فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ایران کے 14 نکاتی متن کی بنیاد پر جاری ہے۔ پاکستانی وزیر داخلہ کی ایران میں موجودگی کا مقصد پیغامات کے تبادلے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔‘


امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو جنگ مشرق وسطیٰ سے باہر پھیل سکتی ہے: ایران

ایران نے بدھ کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو جنگ مشرق وسطیٰ سے باہر تک پھیل سکتی ہے۔

ایران بارہا خبردار کر چکا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کے جواب میں وہ مشرق وسطیٰ میں موجود ان ممالک کو نشانہ بنائے گا جہاں امریکی اڈے قائم ہیں۔

بدھ کے روز اس نے عندیہ دیا کہ وہ اس سے بھی دور اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

پاسداران انقلاب نے سرکاری میڈیا پر جاری بیان میں کہا: ’اگر ایران کے خلاف جارحیت دہرائی گئی تو علاقائی جنگ، جس کا عہد کیا گیا ہے، اس بار خطے سے باہر تک پھیل جائے گی۔‘

ایران کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل کہا تھا کہ وہ فوجی مہم دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے سے محض ایک گھنٹے کی دور تھے۔

پاکستان کی ثالثی میں صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے لیے آپریشن ایپک فیوری روکنے کے چھ ہفتے بعد بھی جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات بڑی حد تک تعطل کا شکار ہیں۔

ایران نے رواں ہفتے امریکہ کو ایک نئی تجویز دی ہے تاہم اس کے عوامی مؤقف میں وہی شرائط دہرائی گئی ہیں جنہیں ٹرمپ پہلے مسترد کر چکے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ ایک بار پھر تہران پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان دونوں فریقین کے درمیان پیغامات پہنچانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ (روئٹرز)


عراق اپنی سرزمین حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے: یو اے ای

متحدہ عرب امارات نے بدھ کو عراقی سرزمین سے ڈرونز کے ذریعے براکہ سٹیشن کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

یو اے ای کی وزارت خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات نے عراق پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے ہونے والی ’دشمنانہ کارروائیوں‘ کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔


60  لاکھ بیرل سے لدے دو ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گئے، معاہدے کے مثبت اشارے

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران سے ممکنہ معاہدے کے اشارے کے بعد بدھ کو آبنائے ہرمز سے مثبت خبر سامنے آئی ہےکہ دو سپر ٹینکر آبنائے ہرمز کے راستے نکل کر آگے بڑھنے لگے جبکہ ایک اور ٹینکر وہاں سے نکلنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔

یہ جہاز خلیج میں دو ماہ سے زیادہ عرصے سے رکے ہوئے تھے اور ان پر مشرقِ وسطیٰ کا 60 لاکھ بیرل خام تیل لدا ہوا تھا۔

اس کی تصدیق شپنگ ڈیٹا کمپنیوں ایل ایس ای جی اور کپلر کے اعداد و شمار سے ہوئی ہے۔ یہ جہاز اُن چند سپر ٹینکروں میں شامل ہیں جو اس ماہ خلیج سے باہر نکل رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے اُس مخصوص راستے کو استعمال کر رہے ہیں جس کی ہدایت ایران نے دی ہے۔

28  فروری کو شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والی شپنگ شدید متاثر ہوئی ہے۔ عام طور پر دنیا کے تیل اور توانائی کی تقریباً پانچواں حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔

جنوبی کوریا کے پرچم بردار ویری لارج کروڈ کیریئر ’یونیورسل ونر‘ جس پر 20 لاکھ بیرل کویتی خام تیل لدا ہے جو 4 مارچ کو لوڈ کیا گیا تھا، آبنائے سے نکل رہا ہے۔ اس سے پہلے بدھ کے روز دو چینی ٹینکر بھی وہاں سے روانہ ہو چکے ہیں۔

کپلر کے مطابق یہ ٹینکر جنوبی کوریا کے شہر اُلسان جا رہا ہے، جہاں ملک کی سب سے بڑی ریفائنری کمپنی ایس کے انرجی موجود ہے۔ توقع ہے کہ یہ وہاں نو جون کو اپنا کارگو اتارے گا۔

ایس کے انرجی نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ جہاز کے مالک اور منتظم ادارے ایچ ایم ایم کے ترجمان سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔


ایٹمی تنصیبات کو کسی صورت نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب

پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے برکۃ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ علاقائی تنازعات کے دوران ایٹمی تنصیبات پر بڑھتے ہوئے حملے سنگین قانونی، ماحولیاتی اور سکیورٹی خطرات پیدا کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ’مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال‘ پر منگل کو ہوئی بریفنگ کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب، عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اسلام آباد اس حملے کے بعد متحدہ عرب امارات کے ساتھ ’مکمل یکجہتی‘ کا اظہار کرتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حالیہ ڈرون حملوں کی بھی مذمت کی۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ایٹمی تنصیبات کو کسی صورت نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے، اور شہری جوہری انفراسٹرکچر کا تحفظ ایک طے شدہ عالمی اصول ہے جس پر بلا استثنا عمل ہونا چاہیے۔

پاکستانی مندوب نے سعودی عرب پر بھی حالیہ ڈرون حملوں کی بھی ’شدید ترین الفاظ میں‘ مذمت کرتے ہوئے انہیں اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔


ایران کے ساتھ تنازع ’بہت جلد‘ ختم ہو جائے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

یہ بات انہوں نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں کانگریس کی دونوں جماعتوں کے ارکان اور ان کے اہل خانہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد براہ راست گفتگو کا سلسلہ تو تعطل کا شکار ہے تاہم اس دوران پاکستان اور دیگر ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ہم اس جنگ کو بہت جلد ختم کر دیں گے۔ وہ خود معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، وہ اس سے تنگ آ چکے ہیں، یہ معاملہ تو 47 سال پہلے ہی حل ہو جانا چاہیے تھا۔‘

 انہوں نے مزید کہا کہ ’کسی نہ کسی کو اس پر پہلے ہی کچھ کرنا چاہیے تھا۔ اب یہ ہوگا، اور جلد ہوگا۔ آپ دیکھیں گے کہ تیل کی قیمتیں نیچے آ جائیں گی۔‘

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے ہم اس مسئلے سے بہت جلد نمٹ لیں گے، اور انہیں جوہری ہتھیار حاصل نہیں ہوگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اور امید ہے کہ ہم یہ سب کچھ ایک اچھے اور پُرامن طریقے سے کر لیں گے۔‘

 یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب چند گھنٹے قبل امریکی سینیٹ نے ایک وار پاورز قرارداد کو آگے بڑھایا، جس کے تحت صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف تعینات امریکی افواج کو واپس بلانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ امریکہ کو دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور وہ حملے کا فیصلہ کرنے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے جب انہوں نے اسے مؤخر کر دیا۔

دوسری جانب ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ دوبارہ حملہ کرتے ہیں تو وہ ’ٹرگر دبانے کے لیے تیار‘ ہیں۔


48 گھنٹوں میں چھ ڈرونز مار گرائے: متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے منگل کو بتایا کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران فضائی دفاعی نظام نے کامیابی سے چھ ڈرونز (UAVs) تباہ کیے، جو ملک میں شہری اور اہم مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

وزارت دفاع نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی اہم تنصیبات کی سلامتی متاثر ہوئی۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے واضح کیا کہ ’یو اے ای خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا