بنوں اور ملحقہ علاقوں میں کارروائیاں، 24 عسکریت پسند مارے گئے: فوج

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ ’دہشت گردی کے ناسور اور اس کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔‘

22 دسمبر 2022 کو بنوں میں ایک سڑک پر ایک پولیس اہلکار (دائیں) اور پاک فوج کے جوان (بائیں) پہرہ دے رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستانی فوج نے جمعے کو کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ’انڈین حمایت یافتہ‘ 24 عسکریت پسندوں کو مار دیا گیا۔

بنوں عمومی طور پر خیبر پختونخوا کے شدت پسندی سے متاثرہ اضلاع میں شامل ہے جہاں حالیہ دنوں میں عسکریت پسندوں نے متعدد حملے کیے ہیں، جن میں خاص طور پر پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملے شامل ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حالیہ کارروائیاں ضلع بنوں میں پولیس کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں اور بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملے میں اضافے کے پس منظر میں کی گئیں، جس میں ’انڈیا کے حمایت یافتہ فتنہ الخوارج‘ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ ’دہشت گردی کے ناسور اور اس کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’انڈین سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے مذموم عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا اور ایسے بزدلانہ حملوں میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئی ایس پی آر کے مطابق: ’سکیورٹی فورسز نے ان گھناؤنے حملوں کے ذمہ دار عناصر اور ان کے معاون نیٹ ورک کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر مشترکہ انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔‘

مزید کہا گیا کہ اسی سلسلے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ضلع بنوں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد انڈین حمایت یافتہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 24 عسکریت پسندوں کو مار دیا گیا۔

بیان کے مطابق مارے جانے والے عسکریت پسندوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، جو ’متعدد دہشت گرد کارروائیوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل میں سرگرم طور پر ملوث رہے تھے۔‘

آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ’علاقے میں کارروائیاں جاری رہیں گی اور ان گھناؤنے اور بزدلانہ حملوں کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا کیونکہ سکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے وفاقی ایپکس کمیٹی برائے قومی ایکشن پلان کی منظور کردہ حکمتِ عملی ’عزمِ استحکام‘ کے تحت جاری بے رحم انسدادِ دہشت گردی مہم ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک پوری رفتار سے جاری رہے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان