بنوں میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے، سات افراد جان سے گئے: پولیس

پولیس کے مطابق دوسرا دھماکہ اس وقت کیا گیا جب مقامی افراد پہلے حملے کے متاثرین کو نکالنے اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے میں مصروف تھے۔

پاکستانی سکیورٹی اہلکار 12 ستمبر 2024 کو بنوں میں ایک احتجاج کے دوران اس ایمبولینس کے گرد جمع ہیں جس میں ایک حملے میں جان سے جانے والے پولیس اہلکار کی میت موجود ہے (کریم اللہ / اے ایف پی)

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس کے مطابق ہفتے کی صبح یکے بعد دیگرے دو آئی ای ڈی دھماکوں میں سات افراد جان سے گئے جبکہ تین زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ احمدزئی کی حدود میں علاقہ مراکہ بیرہ پنگ کے قریب پیش آیا، جہاں مسافروں کو لے جانے والی ایک پرائیویٹ ڈاکسن  کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا۔

پہلے حملے کے بعد علاقے کے لوگ زخمیوں کی مدد کے لیے جمع ہوئے اور انہیں طبی امداد کے لیے منتقل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک اور آئی ای ڈی دھماکہ ہوا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) بنوں یاسر آفریدی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پہلے دھماکے کے زخمیوں کی مدد کے لیے مقامی افراد جمع ہوئے تھے کہ اسی دوران دوسرا آئی ای ڈی دھماکہ ہوا۔‘

پولیس کے مطابق دونوں حملوں میں مجموعی طور پر سات افراد جان سے گئے جبکہ تین افراد زخمی ہوئے، جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واقعے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں اور بم ڈسپوزل سکواڈ نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ شواہد اکٹھے کرنے اور حملے کی نوعیت کا تعین کرنے کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی۔

یاسر آفریدی کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں دھماکوں میں دیسی ساختہ بارودی مواد (آئی ای ڈی) استعمال کیا گیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

وزیراعلیٰ نے شہریوں کی اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے غم میں صوبائی حکومت برابر کی شریک ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

بنوں عمومی طور پر خیبر پختونخوا کے شدت پسندی سے متاثرہ اضلاع میں شامل ہے جہاں ماضی میں عسکریت پسندوں نے متعدد حملے کیے ہیں۔ 

پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق بنوں میں وزیرستان کے بعد عسکریت پسندوں کی جانب سے سب سے زیادہ حملے ہوئے ہیں، جن میں مختلف تھانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان