بلوچستان کے ضلع زیارت اور ہنہ اوڑک میں رواں ماہ مسلح حملوں میں پولیس اہلکاروں سمیت 35 افراد کے مارے جانے کے خلاف جمعے کو کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔
5 جولائی کو مسلح افراد نے زیارت اور ہنہ اوڑک میں حملے کر کے پولیس اور مقامی افراد کو قتل اور درجنوں افراد کو اغوا کیا تھا، جس کے خلاف کوئٹہ اور زیارت میں دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کوئٹہ کے دھرنے میں 10 سے زائد نعشیں بھی موجود ہیں، جن کی تدفین ابھی تک نہیں کی گئی جبکہ صوبائی حکومت دھرنے میں شامل افراد سے مذاکرات کر رہی ہے۔
ہڑتال کی کال صوبے میں اپوزیشن جماعتوں اور انجمن تاجران نے دی ہے۔
دھرنے اور احتجاج کو ختم کرنے کے لیے لواحقین اور حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے مذاکرات کے متعدد ادوار ہوچکے ہیں، لیکن اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جمعرات کی شب شروع ہونے والے مذاکرات جمعے کی صبح تک جاری رہے لیکن کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا۔
حکومت کی جانب جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حکومتی وفد اور سانحہ زیارت دھرنا کمیٹی کے مابین ڈرافٹ پر اتفاق ہوگیا ہے اور معاہدے پر جلد دونوں فریقین دستخط کر لیں گے۔ آج نماز جمعہ کے بعد ڈرافٹ پر دستخط کے بعد اسے دھرنے میں پیش کیا جائے گا۔‘
دوسری جانب دھرنا کمیٹی کے ترجمان اصغر اچکزئی نے مذاکرات کے بعد دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی وفد اور دھرنا کمیٹی نے ایک ڈرافٹ پر اتفاق کیا تھا لیکن ان کے بقول پھر مسودے میں تبدیلی کر دی گئی۔
اصغر اچکزئی نے کہا کہ احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان آج جمعے کو مشاورت کے بعد ہو گا۔
حکومتِ بلوچستان نے مارے جانے والے افراد کے لیے فی کس ایک کروڑ گیارہ لاکھ روپے معاوضہ اور بچوں کو سرکاری خرچے پر تعلیم دلوانے کا اعلان کیا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں اور لواحقین کا مطالبہ ہے کہ ان واقعات کی جوڈیشل کمیشن سے انکوائری کروائی جائے، علاقے میں موجود مسلح جتھوں کا خاتمہ کیا جائے اور لیویز فورس کو دوبارہ فعال کر کے بی ایریا کو بحال کیا جائے۔