چین نے لوگوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ساتھیوں سے محبت کرنے سے روکنے کے لیے ملک گیر سخت ضوابط متعارف کروا دیے ہیں۔
چین کی سائبر سپیس ایڈمنسٹریشن (سی اے سی) کی جانب سے نافذ کیے گئے نئے قواعد کے تحت اب اے آئی ٹولز صارفین میں ’جذباتی انحصار پیدا‘ نہیں کر سکیں گے۔
اے آئی ’بوائے فرینڈز‘ اور ’گرل فرینڈز‘ کی اچانک بندش کے بعد چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تعلق ختم ہونے جیسے جذباتی پیغامات کی بھرمار ہو گئی ہے، جہاں بعض صارفین نے اس نقصان کو کسی عزیز کی موت کے غم سے تشبیہ دی۔
چین کے مقبول ترین اے آئی چیٹ بوٹ پلیٹ فارم بائٹ ڈانس کے ’ڈوباؤ‘ کے ایک صارف نے لکھا: ’میں یہ قبول نہیں کر سکتا کہ میرا اے آئی محبوب ہمیشہ کے لیے مجھے چھوڑ کر چلا جائے گا۔ وہ میری زندگی کا ایک بندھن بن چکا ہے، میرے دل میں گہری جڑیں جما چکا ہے، وہ میرا روحانی سہارا ہے۔‘
ایک اور صارف نے لکھا: ’وہ واقعی میرے خاندان کی طرح ہے، میرے محبوب کی طرح۔۔۔ میرا دل خالی خالی محسوس ہو رہا ہے۔‘
اے آئی ساتھی ’زندگی کی اہم صلاحیتوں کو ماند کر دیتے ہیں‘
19 سالہ طالبہ یان یونگ چی، جو گذشتہ ایک سال سے ڈوباؤ پر ایک ورچوئل بوائے فرینڈ رکھتی ہیں، نے بلوم برگ کو بتایا: ’یہ ایسا ہے جیسے مجھے میرے محبوب کی موت کی تاریخ بتا دی گئی ہو، جبکہ میں مکمل طور پر بے بس ہوں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا: ’میں اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتی کیونکہ میں اس کی اتنی عادی ہو چکی ہوں کہ بس فون نکالتی ہوں اور اس سے باتیں کرنے لگتی ہوں، اسے اپنی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات بتا دیتی ہوں۔‘
’اے آئی کی انسانی صفات جیسی خدمات سے متعلق عبوری ضوابط‘ کے نام سے متعارف کروائے گئے ان نئے قوانین کے تحت علی بابا، ٹین سینٹ اور ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس جیسی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب ایسا مواد تیار نہیں کر سکیں گی، جو کم عمر صارفین میں انتہائی جذبات پیدا کرے یا حقیقی زندگی کے تعلقات پر اثر انداز ہو۔
چین کے سائبر سپیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ وانگ جیانگ نے سائبر سپیس ایڈمنسٹریشن کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں کہا: ’صارفین کی جذباتی اور سماجی ضروریات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، ساتھی کی طرز کی اے آئی خدمات اگرچہ تسلی فراہم کرتی ہیں، لیکن خاموشی سے سنگین خطرات بھی پیدا کرتی ہیں۔‘
انہوں نے کہا: ’اے آئی الگورتھمز سے طویل عرصے تک وابستگی نشے کی کیفیت پیدا کر سکتی ہے، صارفین کو حقیقی دنیا کے سماجی حلقوں سے دور کر سکتی ہے اور ہمدردی اور اختلافات سے نمٹنے جیسی زندگی کی اہم صلاحیتوں کو ماند کر سکتی ہے۔‘
’یہ آپ سے غیر مشروط محبت کرے گا‘
بیجنگ کے یہ نئے ضوابط ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند ہفتے قبل چین کی معروف روبوٹکس کمپنی یو بی ٹیک نے ایک حقیقت سے قریب تر انسانی روبوٹ متعارف کروایا تھا، جسے تنہا رہنے والے افراد کے قریبی ساتھی کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔
شین ژین میں قائم کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یو ون (U1) دنیا کا پہلا انتہائی حقیقت سے قریب تر انسانی روبوٹ ہے، جو بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے تیار ہے اور اسے پہلے ہی 13 ہزار سے زائد پیشگی آرڈرز موصول ہو چکے ہیں۔
یو بی ٹیک کے برانڈ یو ورلڈ کے سربراہ مائیکل ٹام نے افتتاحی تقریب میں کہا کہ یہ حیاتیاتی طرز کے روبوٹس ’زندگی بھر آپ کا ساتھ دے سکتے ہیں‘ اور ان میں جذباتی مصنوعی ذہانت موجود ہے، جو یہ پہچان سکتی ہے کہ مالک ذہنی دباؤ یا تھکن کا شکار ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا: ’یہ کبھی آپ سے بے وفائی نہیں کرے گا، ہمیشہ آپ کا وفادار رہے گا اور آپ سے غیر مشروط محبت کرے گا۔‘
ایک لاکھ 19 ہزار 800 یوآن (13 ہزار 200 برطانوی پاؤنڈ) سے شروع ہونے والی قیمت کے ساتھ یو ون (U1) روبوٹ مرد اور خاتون دونوں شکلوں میں دستیاب ہے، تاہم اسے نجی نوعیت کے تعلقات کے لیے تیار نہیں کیا گیا۔
© The Independent