پاکستانی اور چینی کمپنیوں میں 44 کروڑ ڈالر کے نو معاہدوں پر دستخط

 پاکستان اور چین نے جمعے کو فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران 44 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے 9 اہم معاہدوں پر دستخط کر دیے۔

17 جولائی، 2026 کی اس تصویر میں وزیراعظم شہباز شریف اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے ہیں(سکرین گریب: پی ٹی وی نیوز)

 پاکستانی اور چینی کمپنیوں نے جمعے کو فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران 44 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے 9 اہم معاہدوں پر دستخط کر دیے۔

خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقعے پر اپنی تقریر میں ان معاہدوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان سے پاکستان میں فارماسیوٹیکل، بائیو ٹیکنالوجی، ویکسین سازی اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبوں کو فروغ ملے گا۔

وزیراعظم نے چین کو پاکستان کا سب سے قابل اعتماد اور آزمودہ دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور سی پیک سمیت مختلف منصوبوں کے ذریعے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے چینی قیادت بالخصوص صدر شی جن پنگ کی خدمات اور چین کی معاشی و تزویراتی ترقی کو بھی سراہا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔

انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی کوششوں میں پاکستان کے کردار کا بھی ذکر کیا اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کاوشوں کو سراہا۔

کانفرنس میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ اور معاون خصوصی ہارون اختر خان نے بھی خطاب کیا۔

مقررین نے پاکستان اور چین کے درمیان صحت، ادویات، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ معاہدوں میں مقامی ویکسین سازی، ادویات کی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام سے متعلق تعاون شامل ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے مقامی و بیرونی سرمایہ کاری کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کاروبار میں آسانی کے لیے حکومت کے پالیسی اقدامات اور آسان کاروبار ایکٹ 2025 کے نفاذ کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کاروبار میں آسانی کے لیے اقدامات پر جائزہ اجلاس جمعہ کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں وفاقی وزرا، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد، گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور بین الاقوامی شہرت یافتہ شعبے کے ماہرین ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں کاروبار میں آسانی کے لیے مختلف ضوابط اور کاغذی کارروائیوں و منظوریوں کو کم کرنے کے حوالے سے 558 اصلاحات پر کام مکمل ہو چکا ہے، جس میں سے 71 پالیسی اقدامات نافذ ہو گئے ہیں جبکہ 272 کے نفاذ پر کام تیزی سے جاری ہے، سات مرحلوں میں مختلف شعبوں میں ان کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ان اقدامات کی بدولت کاروباری برادری کو مختلف ضابطوں و شرائط پر خرچ ہونے والی بچت کی رقم کا تخمینہ 468.7 ارب روپے ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ غیر ضروری و پیچیدہ کاغذی کارروائی اور ضوابط کے خاتمے سے برآمدات اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس میں ہدایت کی کہ کاروبار میں آسانی کے لیے حکومت کے پالیسی اقدامات اور آسان کاروبار ایکٹ 2025 کے نفاذ میں تیزی لائی جائے۔

انہوں نے کاروبار میں آسانی کے اقدامات کی افادیت اور نفاذ کی جانچ کیلئے بین الاقوامی اداروں سے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں مقامی و بیرونی سرمایہ کاری کی وسیع استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے کاروبار میں آسانی کے لیے پالیسی اقدامات کے نفاذ پر جامع رپورٹ مرتب کرکے جلد پیش کرنے کا حکم دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان