پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیے۔
اس مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے موقعے پر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جبکہ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ تصویر میں صدر مسعود پزشکیان کو مفاہمت کی یادداشت کی دستخط شدہ دستاویز تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
Islamabad :18 June 2026.
— Prime Minister's Office (@PakPMO) June 18, 2026
Prime Minister of Pakistan Muhammad Shehbaz Sharif signed the Islamabad Memorandum of Understanding (Islamabad MoU)، as mediator.
The Islamabad MOU has been signed by President of USA Donald J. Trump and Iranian President Masoud Pezeshkian. pic.twitter.com/M0LKK9XoK8
اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے جی سیون سربراہی اجلاس کے بعد پیلس آف ورسائی میں کینڈل لائٹ ڈنر کے دوران مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے، جب کہ میزبان فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور دیگر مہمانوں نے تالیاں بجائیں۔
محل سے باہر آتے ہوئے ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا: ’ابھی اس پر دستخط کیے ہیں۔‘
دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ دستاویز ’صدور کے دستخطوں سے حتمی شکل پا گئی ہے۔‘
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اس حوالے سے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا تھا: ’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ آج امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت‘ پر الیکٹرانک طور پر دستخط ہو گئے ہیں۔
’اس یادداشت پر دونوں ممالک کے معزز صدور نے دستخط کیے ہیں اور ایک ثالث کے طور پر میں نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔ متعلقہ حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر اس معاہدے پر دستخط تنازعے کے سفارتی حل کے لیے دونوں فریقین کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔‘
I am honoured to announce that the historic ‘Islamabad Memorandum of Understanding’ has been electronically signed today between the United States of America and the Islamic Republic of Iran. The Memorandum has been signed by honourable Presidents of both the countries and also…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 18, 2026
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو گی اور پہلے قدم کے طور پر ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا اورامریکہ فوری طور پر بحری محاصرہ ختم کر دے گا۔‘
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس معاہدے میں مستقل طور پر دشمنی کے خاتمے کی شق شامل ہے اور ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دن کی مذاکراتی مدت کا آغاز کیا گیا ہے، تاہم ٹرمپ نے حملے دوبارہ شروع کرنے کے امکان کو بھی کھلا رکھا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دونوں ملکوں کے درمیان ابتدائی مذاکرات جمعے (19 جون) کو سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی سیاحتی مقام بورگن سٹاک میں ہونے جا رہے ہیں۔
سوئس وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا: ’فی الحال منصوبہ یہی ہے کہ امریکہ اور ایران، ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان اور قطر سمیت دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ، معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق ابتدائی مذاکرات کے لیے کل بورگن سٹاک میں ملاقات کریں گے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس ملاقات کے شیڈول اور دیگر تفصیلات کے بارے میں فی الحال مزید کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ وہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دلی مبارک باد اور مخلصانہ تحسین پیش کرتے ہیں جن کی سفارت کاری سے غیر متزلزل وابستگی اور پرامن حل کی ترجیح نے ایک بار پھر ایک ایسے تنازع کو ختم کرنے میں مدد کی ہے جس کے خطے اور اس سے باہر تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ امن کے مقصد کو اپنانے پر ایران کے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی دانشمندی، دور اندیشی اور تدبر کے لیے انہیں اپنا گہرا احترام اور تحسین پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ’میں ایرانی مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کا بھی اعتراف کرنا چاہتا ہوں جن میں محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی شامل ہیں، جن کے صبر، استقامت اور تعمیری بات چیت سے وابستگی نے اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔‘
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ خاص طور پر اس مقام تک پہنچنے میں مدد کرنے پر ریاست قطر کی قیادت کی مخلصانہ کوششوں اور تعمیری کردار کا اعتراف کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس سلسلے میں سعودی عرب، ترکی اور مصر کی قیادت کو بھی ان کے ناگزیر کردار اور گراں قدر خدمات کو سراہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بھی خصوصی ذکر کرنا چاہیں گے جن کی انتھک کوششیں، بے لوث لگن اور کلیدی کردار اس اہم پیش رفت کو ممکن بنانے اور امن اور علاقائی استحکام کے مقصد کو آگے بڑھانے میں انتہائی اہم رہے۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستان، قطر کے تعاون سے، جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں ایک تقریب کی میزبانی کرے گا تاکہ ’اس تاریخی واقعے کی یاد منائی جا سکے اور تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔‘