چین: بدعنوانی الزامات پر دو سابق وزرائے دفاع کو سزائے موت سنا دی گئی

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا نے جمعرات کو رپورٹ کیا ہے کہ چین کے سابق وزرائے دفاع وی فینگ ہی اور لی شانگ فو کو بدعنوانی کے الزامات میں دو سال کی مہلت کے ساتھ سزائے موت سنا دی گئی ہے۔

ان تصاویر میں چین میں بدعنوانی کے الزامات میں سزائے موت کی سزا سنائے جانے والے سابق وزرائے دفاع وی فینگ ہی (دائیں) اور لی شانگ فو(بائیں) کو دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا نے جمعرات کو رپورٹ کیا ہے کہ چین کے سابق وزرائے دفاع وی فینگ ہی اور لی شانگ فو کو بدعنوانی کے الزامات میں دو سال کی مہلت کے ساتھ سزائے موت سنا دی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تازہ ترین فیصلہ چین میں فوج میں جاری بڑے پیمانے پر احتسابی مہم کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ کے 2012 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد مسلح افواج بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن کا ایک اہم ہدف رہی ہیں۔

 سال 2023 میں یہ کارروائیاں ایلیٹ راکٹ فورس تک جا پہنچیں، جو چین کے جوہری ہتھیاروں اور روایتی میزائلوں کی نگرانی کرتی ہے۔

رواں سال اس مہم میں مزید شدت آئی، جس کے نتیجے میں پیپلز لبریشن آرمی کے اعلیٰ جنرل زہانگ یوزیا کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا، جو طویل عرصے سے شی جن پنگ کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔

شنہوا کی سابقہ رپورٹس کے مطابق لی شانگ فو پر ’بڑی مقدار میں رشوت لینے‘ اور دوسروں کو رشوت دینے کے الزامات تھے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ انہوں نے ’سیاسی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں‘ اور ’اپنے اور دوسروں کے لیے ذاتی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی۔‘

دوسری جانب وی فینگ ہی کے خلاف 2023 میں شروع ہونے والی تحقیقات میں ان پر ’بڑی مقدار میں رقم اور قیمتی اشیا بطور رشوت لینے‘ اور ’عملے کی تقرریوں میں دوسروں کو ناجائز فوائد پہنچانے‘ کے الزامات عائد کیے گئے۔

 شنہوا نے 2024 میں کہا تھا کہ ان کے اقدامات ’انتہائی سنگین نوعیت‘ کے تھے جن کے ’بہت نقصان دہ اثرات‘ مرتب ہوئے۔

چین میں دو سال کی مہلت کے ساتھ دی جانے والی سزائے موت عموماً اس صورت میں عمر قید میں تبدیل کر دی جاتی ہے اگر مجرم اس مدت کے دوران کوئی نیا جرم نہ کرے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 شنہوا کے مطابق سزا میں تبدیلی کے بعد وی اور لی کو بغیر پیرول یا مزید رعایت کے عمر بھر قید میں رکھا جائے گا۔

چینی فوج کے سرکاری اخبار پی ایل اے ڈیلی نے پارٹی ارکان اور فوجی افسران پر زور دیا ہے کہ وہ ان دونوں کیسز سے سبق سیکھیں اور کمیونسٹ پارٹی سے ’تقسیم شدہ وفاداری‘ رکھنے سے گریز کریں۔

اخبار نے کہا کہ وی فینگ ہی اور لی شانگ فو جیسے عہدیداروں کو بدعنوانی کی مثال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

اس معاملے پر سنگاپور میں مقیم چین کے سکیورٹی امور کے ماہر جیمز چر کا کہنا ہے کہ ’حالیہ برسوں میں سینٹرل ملٹری کمیشن کے کسی رکن کو دی جانے والی یہ سب سے سخت سزا ہے۔‘

 ان کے مطابق، ’بغیر پیرول یا رعایت کے عمر قید‘ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ان کے جرائم کو انتہائی سنگین تصور کیا گیا۔

لندن میں قائم تھنک ٹینک انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹدیز نے رواں سال ایک بیان میں کہا تھا کہ فوج میں جاری احتسابی کارروائیوں سے کمانڈ سٹرکچر میں سنگین خامیاں پیدا ہو رہی ہیں اور اس سے چین کی تیزی سے جدید بننے والی فوجی تیاری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا