پاکستان کو ایران کی جانب سے جواب موصول ہو گیا ہے: شہباز شریف

اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے کہا تھا کہ ایران نے باضابطہ طور پر پاکستانی ثالثوں کو تازہ ترین امریکی تجویز پر اپنا ردعمل پیش کر دیا ہے۔

پاکستان کو ایران کی جانب سے جواب موصول ہو گیا ہے: شہباز شریف

وزیر اعظم شہباز شریف نے اتوار کو کہا کہ پاکستان کو ایران کی جانب سے (مستقل جنگ بندی کے لیے امریکی تجویز) پر جواب موصول ہو گیا۔

اسلام آباد میں ’معرکہ حق‘ کی پہلی سالگرہ کے موقعے پر ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر شہباز شریف نے کہا: ’خطے میں اور دنیا میں پائیدار امن کی خاطر ہماری مخلصانہ کاوشیں اب بھی جاری ہیں، مجھے فیلڈ مارشل نے ابھی مجھے بتایا کہ ایران کی جانب سے جواب موصول ہو گیا ہے، لیکن میں ابھی اس کی تفصیل نہیں بنا سکتا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایران میں بھی امن قائم کرنے کے حوالے سے بھی پاکستان اپنی سفارتی کاوشیں انتہائی خلوص کے ساتھ بروئے کار لا رہا ہے۔‘

شہباز شریف کے بقول: ’اس حوالے سے ہم نے نہ صرف فریقین کو عارضی جنگ بندی پر قائل کیا بلکہ 1979 کے بعد انہیں مذاکرات کی میز پر بیٹھانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔‘


 

ایران امریکہ اور باقی دنیا کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا ہے کہ ایران گذشتہ 47 سال سے امریکہ اور باقی دنیا کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے اور مسلسل تاخیر سے کام لیتا آ رہا ہے۔

سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران کو اصل فائدہ اُس وقت ہوا جب باراک اوباما صدر بنے۔

ان کے بقول، اوباما نہ صرف ایران کے لیے نرم تھے بلکہ عملاً اس کے مؤقف کے قریب چلے گئے، اسرائیل اور دیگر اتحادیوں کو نظر انداز کیا، اور ایران کو ایک نئی مضبوط پوزیشن دے دی۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سابق صدر نے اربوں ڈالر تہران پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم اتنی زیادہ تھی کہ ایران کے حکام بھی حیران رہ گئے اور انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس کا کیا کریں۔

ٹرمپ نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ برسوں سے امریکہ کو الجھائے رکھے ہوئے ہے، سڑک کنارے بم دھماکوں کے ذریعے امریکیوں کو نشانہ بناتا رہا ہے، احتجاج کو کچلتا ہے اور حالیہ عرصے میں ہزاروں نہتے مظاہرین کو جان سے مارا۔

انہوں نے کہا کہ ایران ہمارے اب دوبارہ عظیم ملک پر ہنستا ہے لیکن اب وہ اب وہ ایسا نہیں کر پائے گا۔


ایرانی سپریم لیڈر کی فوجی قیادت کو ممکنہ خطرات کے خلاف سخت ردعمل کی تیاری کی ہدایات

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اتوار کو فوجی قیادت کو نئی گائڈلائن فراہم کرتے ہوئے ممکنہ خطرات کے خلاف سخت ردعمل کی تیاری پر زور دیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے فارس نے رپورٹ کیا کہ ایران کی مسلح افواج کے مشترکہ کمانڈ کے سربراہ نے سپریم لیڈر سے ملاقات کی، جس میں انہیں فوجی آپریشنز جاری رکھنے اور دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے نئی ہدایات دی گئیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ملاقات کب ہوئی۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی نے سپریم لیڈر کو ملک کی مسلح افواج کی تیاریوں سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کسی بھی ممکنہ اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ان کے بقول اگر دشمن کی جانب سے کوئی غلطی کی گئی تو ایران کا ردعمل ’تیز، سخت اور فیصلہ کن‘ ہوگا۔


دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے آنے والے دو ڈرونز کو ناکام بنایا: یو اے ای

متحدہ عرب امارات نے اتوار کو کہا کہ اس کے دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے آنے والے دو ڈرونز کو ناکام بنا دیا۔

یو اے ای کی وزارت دفاع نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ دونوں ڈرونز کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے تباہ کیا گیا۔

امریکہ کی جانب سے ایران جنگ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد چار ہفتوں تک حالات نسبتاً پرسکون رہے، تاہم حالیہ دنوں میں دوبارہ حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب ایران نے یو اے ای پر حالیہ حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف یو اے ای کی سرزمین سے کوئی کارروائی کی گئی تو اس کا ’سخت جواب‘ دیا جائے گا۔

ان حملوں کے باعث یو اے ای میں گذشتہ ہفتے تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر آن لائن کر دیا گیا تھا، تاہم حکام نے اتوار کو اعلان کیا کہ پیر سے سکولوں میں دوبارہ معمول کے مطابق کلاسز شروع ہوں گی۔ (روئٹرز)


ایران نے پاکستان کو امریکی تجویز پر ردعمل بھجوا دیا

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے کہا ہے کہ ایران نے باضابطہ طور پر پاکستانی ثالثوں کو تازہ ترین امریکی تجویز پر اپنا ردعمل پیش کر دیا ہے۔


ارنا نے رپورٹ کیا ہے کہ مجوزہ منصوبے کا موجودہ مرحلہ بالخصوص خطے میں موجودہ کشیدگی کے خاتمے پر مرکوز ہے۔


پاکستان کے لیے قطر کا ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز پار کر گیا

ایران جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار ایک قطری مائع قدرتی گیس (ایل این جی) ٹینکر نے آبنائے ہرمز بحفاظت عبور کر کے پاکستان پہنچ رہا ہے، جسے توانائی بحران کے شکار پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

قطر انرجی کے زیر انتظام ٹینکر  ’الخریطیات‘ اتوار کو آبنائے ہرمز سے گزرا اور کراچی کے قریب واقع پورٹ قاسم کے لیے طرف روانہ ہوا۔

شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ پہلا قطری ایل این جی جہاز ہے جو 28 فروری کو شروع ہونے والی ایران جنگ کے بعد اس اہم بحری راستے سے گزرا ہے، جسے عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اس کارگو کی ترسیل کو ایران کی جانب سے بھی منظوری دی گئی، جس کا مقصد قطر اور پاکستان کے ساتھ اعتماد سازی کو فروغ دینا تھا۔

پاکستان میں حالیہ دنوں میں گیس کی کمی کے باعث بجلی کی بندشوں میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے اس کارگو کو عارضی ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ ممالک جو امریکہ کی عائد کردہ پابندیوں کی حمایت کرتے ہیں، ان کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور شپنگ کے لیے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

امریکہ نے پاکستانی ثالثی میں ایران کو تجویز بھیجی ہے جس کے تحت پہلے جنگ کا باضابطہ خاتمہ کیا جائے اور پھر دیگر حساس معاملات، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام، پر مذاکرات شروع کیے جائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کا جواب جلد متوقع ہے، تاہم اب تک کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

گذشتہ ہفتے آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں جھڑپوں کے بعد صورت حال کچھ بہتر ہوئی ہے لیکن مکمل امن بحال نہیں ہوا۔

کویت نے اتوار کو اپنی فضائی حدود میں مشتبہ ڈرونز کی موجودگی کی اطلاع دی، جس سے سکیورٹی خدشات برقرار ہیں۔

یہ تنازع اس وقت عالمی سطح پر بھی دباؤ کا باعث بنا ہوا ہے۔ امریکی صدر کے متوقع دورہ چین سے قبل جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز ہو گئی ہیں، کیونکہ اس کشیدگی نے عالمی توانائی بحران کو جنم دیا ہے اور بڑی معیشتوں پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے جنگ سے قبل عالمی تیل اور ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی تھی۔ ایران کی جانب سے اس راستے پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی