ہم اپنے مسائل کا رونا تو سارا سال ہی روتے ہیں اور فیشن کے درجے میں جا کر یہ فریضہ انجام دیتے ہیں۔ جشن آزادی کے ان لمحات میں ہمیں اپنی ان کامیابیوں کو بھی یاد کر لینا چاہیے، جن پر ہم بطور پاکستانی فخر کر سکتے ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ ان آٹھ عشروں میں ہم نے مقامات آہ و فغان ہی آباد کیے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ ہماری کامرانیوں اور کامیابیوں کی فہرست بھی بڑی جاذب نظر ہے۔
پاکستان کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ وہ مسلم دنیا کی اکلوتی جوہری قوت ہے۔ اس قوت کا حصول آسان کام نہیں۔ یہ وہ کوہ کنی ہے، جس کے تصور سے ہی بہت سوں کے زہرے آب ہوتے ہم نے خود دیکھے۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان نے یہ کر دکھایا۔
اس قوت کا حصول بھی کسی حادثے کا نتیجہ نہیں کہ اچانک ہم سو کر اٹھے ہوں اور ایٹمی قوت بن گئے ہوں۔ یہ عزیمت کا سفر تھا جو ہم نے پوری یکسوئی سے طے کیا۔
بھٹو ہوں یا ضیا الحق، غلام اسحاق خان ہوں یا نواز شریف، سیاسی اختلاف بھی پہاڑوں جیسے تھے اور ان میں کڑواہٹ بھری شدت بھی کم نہ تھی لیکن ایک بات پر سب کا اتفاق تھا کہ ہم نے اپنے وطن عزیز کو ایٹمی قوت بنانا ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ ہم آپس کے شدید ترین اختلافات کے باوجود قومی اہداف پر یکسو ہونے اور انہیں حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نیوکلیر ڈیٹرنٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھی ایک ڈیٹرنس کھڑا کر دیا ہے اور اس کا مظاہرہ دنیا نے معرکہ حق میں دیکھا یعنی اب ایسا نہیں کہ پاکستان کے پاس سد جارحیت کی ایک ہی طاقت ہے اور وہ اس کے ایٹمی ہتھیار ہیں بلکہ اب پاکستان روایتی جنگ میں بھی دشمن کے سامنے ایک ڈیٹرنس کھڑا کر چکا ہے۔
روایتی جنگ کے پرانے پیمانے بدل چکے ہیں۔ عددی برتری کی اب وہ اہمیت نہیں رہی۔ پاکستان نے تزویراتی ٹیکنالوجی میں اپنا آپ منوا لیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اپنی دفاعی پروڈکشن بھی غیر معمولی ہے اور جدت سے مزین ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس نے پاکستان کو دنیا میں ایک اہم مقام دلا رکھا ہے۔
پاکستان کی سفارتی کامیابیاں بھی شان دار ہیں۔ حالیہ پاک سعودی عرب اور ترکی کا دفاعی معاہدہ تزویراتی اور سفارتی کامیابیوں کا حسین امتزاج ہے۔
اس سے قبل پاکستان کا ایران امریکہ جنگ میں ثالثی کا کردار بھی اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا آئینہ دار ہے جو بتا رہا ہے کہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرق وسطی میں بھی پاکستان کی حیثیت محور کی سی ہے۔
پاکستانی قوم اور ریاست کی قوت مزاحمت بھی غیر معمولی ہے۔ دہشت گردی کے جس عفریت کا پاکستان کو 25 یا 26 سال سے سامنا رہا ہے کوئی اور ریاست ہوتی تو اس کی چولیں ہل چکی ہوتیں، لیکن پاکستان نے اس کا مقابلہ ہمت اور جرات سے کیا۔
اس دوران جس جس ملک میں دہشت گردی کا یہ ناسور گیا وہاں اس نے ریاستوں کو ادھیڑ دیا۔ یہ صرف پاکستانی ریاست ہے جس کی افواج نے دہشت گردی کے اس چیلنج کو کامیابی سے کچل دیا۔ بہت قربانیاں دینا پڑیں، نقصان بھی بہت ہوا لیکن پاکستانی ریاست اب اس بحران سے نکل رہی ہے۔ کچھ آفٹر شاکس ضرور ہیں لیکن دشمن پراکسیز اب شکست خوردہ ہو چکی ہیں۔
اسی طرح پاکستان کی فیڈریشن میں ایک غیر معمولی تنوع بھی ہے۔ یہاں مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف سماجی، علاقائی اور ثقافتی پس منظر رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ تنوع اتنا زیادہ ہو تو یہ بسا اوقات ریاست کی فالٹ لائن بن جاتا ہے، لیکن پاکستان نے اس تنوع کو اپنی طاقت بنایا ہے۔ راستہ بلاشبہ مکمل ہموار نہیں تھا۔
لیکن دشوار گزار راستے پر بھی حیات اجتماعی کا سفر جاری رہا۔ اس قدر گہرے تنوع کو کسی بڑی فالٹ لائن میں نہ بدلنے دینا اور ایک متفقہ آئین تیار کر کے اپنے لیے ایک نظام حیات کا انتخاب کرنا پاکستان کی غیرمعمولی کامیابی ہے۔ یہ درست بات ہے کہ اس کامیابی کو بالعموم نظر انداز کیا جاتا ہے لیکن سماجیات کے ماہرین جانتے ہیں کہ یہ ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔
پاکستان کی نظری شناخت بھی دنیا میں منفرد ہے۔ یہ اسلامی ریاست ہے مگر یہاں تھوکریسی نہیں ہے بلکہ پارلیمان فیصلہ ساز ہے۔ پھر یہ جمہوریہ بھی ہے مگر پارلیمان کی فیصلہ سازی کا اختیار قرآن و سنت کے تابع ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد پہلو ہے جو اور کسی ریاست میں نہیں۔
مختلف شعبہ ہائے زندگی میں پاکستان نے اپنے نقوش ثبت کیے ہیں۔ کھیلوں کا میدان ہو یا کلچر اور ثقافت کا، تحقیق کی دنیا ہو یا طب کی، پاکستان کے نقوش دنیا بھر میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہاں نام گنوانے شروع کر دیے تو دفتر کھل جائیں گے۔ ایک لمبی اور روشن فہرست ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ ایک بانجھ معاشرہ نہیں ہے بلکہ اس نے ہر شعبے میں کمال کے لوگ پیدا کیے ہیں، جو بتا رہے ہیں کہ اس معاشرے میں کیسے کیسے جوہر پوشیدہ ہیں۔
مسائل بھی بہت ہیں، کوئی شک نہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہماری اجتماعی قومی زندگی میں بہت کچھ ایسا بھی ہے جس پر ہم فخر کر سکتے ہیں۔
مٹی بہت زرخیز ہے، بس تھوڑا سا نم چاہیے، فصل گل آنگن میں آ کر ٹھہر جائے گی۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
