ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ قدم نہ صرف کرپشن کے خلاف کارروائی ہے بلکہ صدر شی کی فوج میں مکمل سیاسی وفاداری اور کنٹرول یقینی بنانے کی حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہے۔
جوہری پروگرام
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ’ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم آئی اے ای اے کے ساتھ اپنا تعاون اس وقت تک معطل رکھے گی جب تک جوہری تنصیبات کی حفاظت کی ضمانت نہیں دی جاتی۔‘