چین کے سینیئر ترین جنرل ژانگ یوکسیا پر الزام ہے کہ انہوں نے ملک کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی حساس معلومات امریکہ کو فراہم کیں اور سرکاری عہدوں کے تقرر کے بدلے بھاری رشوتیں وصول کیں۔
امریکی جریدے وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق یہ الزمات چین کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی بریفنگ میں لگائے گئے۔
امریکی اخبار کے مطابق یہ بریفنگ ہفتے کی صبح ملک کی فوج کے اعلیٰ افسروں کی موجودگی میں ہوئی جب کہ اس سے کچھ دیر پہلے چین کے وزارت دفاع نے ژانگ یوکسیا کے خلاف ایک تحقیقات کا اعلان بھی کیا تھا۔
جنرل ژانگ کبھی صدر شی جن پنگ کے سب سے قابل اعتماد عسکری اتحادی سمجھے جاتے تھے۔ وزارت دفاع کی ابتدائی بیان میں صرف اتنا کہا گیا کہ پارٹی کی سخت ضابطہ بندی اور ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کے شبہات پر تحقیقات جاری ہیں، تاہم تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ذرائع نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ جنرل ژانگ پر الزام ہے کہ انہوں نے سیاسی گروہ تشکیل دے کر پارٹی کی یکجہتی کو کمزور کرنے کی کوشش کی اور کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی عسکری فیصلوں کی سربراہی کرنے والے ادارے، سینٹرل ملٹری کمیشن میں اپنی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔
تحقیقات میں ان کی زیر نگرانی ایک طاقتور ایجنسی بھی شامل ہے جو فوجی ساز و سامان کی تحقیق، ترقی اور خریداری کی ذمہ دار ہے۔
بریفنگ سے واقف افراد کے مطابق، جنرل ژانگ پر الزام ہے کہ انہوں نے اس بڑے بجٹ والے خریداری نظام میں عہدوں کی فروخت کے بدلے بھاری رقم وصول کی۔
تاہم بریفنگ میں سب سے حیران کن الزام یہ سامنے آیا کہ جنرل ژانگ نے چین کے جوہری ہتھیاروں کی بنیادی تکنیکی معلومات امریکہ کے حوالے کیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین میں بدعنوانی کے خلاف مہم کے تحت دیگر اعلیٰ فوجی افسران بھی زیر تفتیش ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
صدر شی جن پنگ کی ہدایت پر 2012 میں شروع ہونے والی کرپشن کے خلاف وسیع کارروائی میں فوج ایک بنیادی ہدف رہی ہے۔ یہ مہم 2023 میں عوامی لبریشن آرمی کی اعلیٰ سطح تک پہنچی، جب ایلیٹ راکٹ فورس کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کی گئیں۔
جنرل ژانگ 20 نومبر کے بعد عوام میں نہیں دکھائی دیے، انہیں آخری بار ماسکو میں روس کے وزیر دفاع سے ملاقات کی تھی۔
غیر ملکی سفارتکار اور سکیورٹی ماہرین اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ جنرل ژانگ کی صدر شی کے ساتھ نزدیکی اور کمیشن کے کام کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
اگرچہ چین دہائیوں سے کسی جنگ میں شریک نہیں ہوا، لیکن وہ متنازع ایسٹ چائنا سی اور ساؤتھ چائنا سی اور تائیوان کے حوالے سے اپنی عسکری پوزیشن مضبوط کر رہا ہے، جس پر چین دعویٰ کرتا ہے۔ بیجنگ نے پچھلے سال تائیوان کے اردگرد اب تک کی سب سے بڑی فوجی مشقیں بھی کیں۔
سنگاپور کے سکیورٹی سکالر جیمز چار کا کہنا ہے کہ فوج کے روزمرہ آپریشن معمول کے مطابق جاری رہ سکتے ہیں، لیکن جنرل ژانگ کو نشانہ بنانے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شی جن پنگ اس تنقید کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ کارروائی کسی امتیاز کے بغیر کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ قدم نہ صرف کرپشن کے خلاف کارروائی ہے بلکہ صدر شی کی فوج میں مکمل سیاسی وفاداری اور کنٹرول یقینی بنانے کی حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب چین اور امریکہ کے درمیان تزویراتی اور عسکری کشیدگی بڑھ رہی ہے۔