امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کینیڈا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا تو وہ سرحد پار سے آنے والے تمام سامان پر 100 فیصد ٹیرف لگا دیں گے۔
امریکہ اور اس کے شمالی ہمسائے کے درمیان تعلقات ایک سال قبل ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے کشیدہ ہیں، جس کی وجوہات میں تجارت پر تنازع اور کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کی طرف سے امریکی قیادت میں چلنے والے عالمی نظام میں ’دراڑ‘ کی مذمت شامل ہے۔
گذشتہ ہفتے بیجنگ کے دورے کے دوران کارنی نے چین کے ساتھ ’نئی سٹریٹیجک شراکت داری‘ کو سراہا، جس کے نتیجے میں ٹیرف کم کرنے کے لیے ’ابتدائی لیکن تاریخی تجارتی معاہدہ‘ طے پایا، لیکن ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اس معاہدے پر عمل ہوا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر کارنی ’یہ سوچتے ہیں کہ وہ کینیڈا کو چین کے لیے امریکہ میں سامان اور مصنوعات بھیجنے کا ’ڈراپ آف پورٹ‘ بنا دیں گے، تو وہ شدید غلط فہمی میں ہیں۔‘
انہوں نے کہا: ’چین کینیڈا کو کچا چبا جائے گا۔ اسے مکمل طور پر ہڑپ کر لے گا، جس میں اس کے کاروبار، سماجی ڈھانچے اور عام طرز زندگی کی تباہی شامل ہے۔
’اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ کوئی ڈیل کی تو امریکہ آنے والے تمام کینیڈین سامان اور مصنوعات پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف لگا دیا جائے گا۔‘
ٹرمپ نے کارنی کو ’گورنر‘ کہہ کر ان کی توہین کی۔ یہ اس طنز کی طرف اشارہ تھا جو امریکی صدر بار بار دہراتے ہیں کہ کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست ہونا چاہیے۔
ٹرمپ نے اس ہفتے سوشل میڈیا پر ایک نقشے کی تصویر پوسٹ کی، جس میں کینیڈا کے ساتھ ساتھ گرین لینڈ اور وینزویلا کو امریکی پرچم میں لپٹا ہوا دکھایا گیا۔
امریکہ کے ساتھ تجارت کے نگران کینیڈین وزیر ڈومینک لی بلینک نے ٹرمپ کی تازہ ترین دھمکی کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔ جو کچھ حاصل ہوا وہ ٹیرف کے کئی اہم مسائل کا حل تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا: ’کینیڈا اس لیے ترقی کر رہا ہے کیوں کہ ہم کینیڈین ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دونوں رہنماؤں نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے پر لفظی حملے تیز کر دیے ہیں، جن کا آغاز منگل کو ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں کارنی کی تقریر سے ہوا، جہاں انہوں نے امریکی قیادت میں عالمی نظام میں ’دراڑ‘ کے بارے میں اپنے صاف گو تجزیے پر کھڑے ہو کر داد وصول کی۔
ان کے تبصرے کو بڑے پیمانے پر بین الاقوامی امور پر ٹرمپ کے انتشار پسندانہ اثر و رسوخ کے حوالے کے طور پر دیکھا گیا، حالاں کہ کارنی نے امریکی رہنما کا نام نہیں لیا۔
ٹرمپ نے ایک دن بعد اپنی تقریر میں کارنی پر جوابی وار کیا اور پھر کینیڈین وزیراعظم کو اپنے ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت واپس لے لی جو عالمی تنازعات کو حل کرنے کے لیے ان کا خود ساختہ ادارہ ہے۔
ابتدائی طور پر جنگ کے بعد غزہ کی صورت حال کی نگرانی کے لیے بنائے گئے اس ادارے کا دائرہ کار اب بہت وسیع نظر آتا ہے، جس سے یہ خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ ٹرمپ اسے اقوام متحدہ کا حریف بنانا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا: ’کینیڈا امریکہ کی وجہ سے زندہ ہے۔ مارک، اگلی بار جب آپ بیان دیں تو یہ یاد رکھیں۔‘
کارنی نے جمعرات کو ترکی بہ ترکی جواب دیا: ’کینیڈا امریکہ کی وجہ سے زندہ نہیں ہے۔ کینیڈا اس لیے ترقی کر رہا ہے کیوں کہ ہم کینیڈین ہیں۔‘ اس کے باوجود انہوں نے دونوں قوموں کے درمیان ’شاندار شراکت داری‘ کا اعتراف کیا۔
تجارتی جھگڑے
کینیڈا تجارت کے لیے امریکہ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جو کینیڈین برآمدات کے تین چوتھائی سے زیادہ حصے کی منزل ہے۔
ٹرمپ کی طرف سے لگائے گئے عالمی ٹیرف سے کینیڈا کے گاڑیوں، ایلومینیم اور فولاد کے شعبوں کو نقصان پہنچا ہے، لیکن چوں کہ صدر نے شمالی امریکہ کے موجودہ آزاد تجارتی معاہدے پر عمل جاری رکھا ہے، اس لیے ان ٹیکسوں کا اثر کم رہا۔
اس معاہدے پر نظرثانی کے لیے مذاکرات اس سال کے شروع میں ہونے ہیں، اور ٹرمپ نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کو کسی بھی کینیڈین مصنوعات تک رسائی کی ضرورت نہیں ہے، جس کے اپنے شمالی ہمسائے کے لیے سنگین نتائج ہوں گے۔
کینیڈین ایوان تجارت کے ایگزیکٹیو نائب صدر میتھیو ہومز نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ دونوں حکومتیں ’جلد ہی بہتر مفاہمت کر لیں گی جس سے کاروباروں کے لیے مزید خدشات کم ہو سکیں گے۔‘
دونوں ممالک، میکسیکو کے ساتھ مل کر اس سال کے آخر میں ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والے ہیں۔