امریکہ: خفیہ درجہ بندی کے الزام پر بھرتی کمپنی پر مقدمہ

کیلیفورنیا کی عدالت میں ایٹ فولڈ نامی کمپنی پر الزام عائد کیا گیا کہ اس کا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا پلیٹ فارم ملازمت کی درخواست دینے والوں کی رضامندی یا ان کے علم میں لائے بغیر خفیہ طور پر سکور دے کر صارفین کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

یہ السٹریشن 19 فروری 2024 کو بنائی گئی، جس میں کچھ لوگوں کو کمپیوٹر پر کام کرتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ پس منظر میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے الفاظ دیکھے جا سکتے ہیں (فائل / روئٹرز)

ملازمت کے متلاشی دو افراد نے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ایک بھرتی کے پلیٹ فارم کے خلاف اجتماعی نوعیت کا مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی درخواست دہندگان کی رضامندی یا ان کے علم میں لائے بغیر خفیہ طور پر سکور دے کر صارفین کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

ریاست کیلیفورنیا کی کونٹرا کوسٹا کاؤنٹی کی اعلیٰ عدالت میں دائر کی گئی شکایت میں ایٹ فولڈ نامی کمپنی پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ منصفانہ کریڈٹ رپورٹنگ ایکٹ اور ریاست کے انویسٹیگیٹو کنزیومر رپورٹنگ ایجنسیز ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملازمت کی درخواست دینے والوں کی درجہ بندی ان کے علم میں لائے بغیر اور اعتراض کرنے کے اختیار کے بغیر کرتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹیکنالوجی سے متعلق خبریں دینے والی ویب سائٹ ’ڈی کرپٹ‘ نے رپورٹ کیا کہ درخواست گزار ایرن کِسلر اور سروتی بھومک کا مؤقف ہے کہ ایٹ فولڈ اپنے پلیٹ فارم پر امیدواروں کا جائزہ لینے کے لیے صارفین کا ذاتی ڈیٹا جمع کرتی ہے، جس میں ان کی سوشل میڈیا پوسٹس، لوکیشن کا ڈیٹا، انٹرنیٹ سرگرمیاں اور ویب سائٹ کوکیز سے حاصل کردہ معلومات شامل ہیں۔

مقدمے میں الزام عائد کیا گیا کہ ایٹ فولڈ اس ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے ’میچ سکورز‘ تیار کرتا ہے، جن کے ذریعے کسی درخواست دہندہ کو اس کی ’کامیابی کے امکان‘ کی بنیاد پر صفر سے پانچ تک درجہ دیا جاتا ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ اس سکورنگ نظام کے باعث کم درجہ حاصل کرنے والے افراد کو اس سے پہلے ہی مسترد کر دیا جاتا ہے کہ کوئی انسان ان کی درخواست دیکھے۔

کسلر اور بھومک کے مطابق صارفین کو اس درجہ بندی کے نظام کے بارے میں آگاہ نہیں کیا جاتا اور نہ ہی انہیں اپنے درجے کو چیلنج کرنے کا کوئی طریقہ فراہم کیا جاتا ہے۔

درخواست دہندگان کی نمائندگی کرنے والے وکلا میں سے ایک اور ’ٹوارڈز جسٹس‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ سیلگمین نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا: ’یہ مقدمہ ایک ایسے خوفناک مصنوعی ذہانت سے چلنے والی مارکیٹ کے بارے میں ہے جہاں پسِ پردہ کام کرنے والے روبوٹ ہماری زندگی کے سب سے اہم فیصلے کر رہے ہیں کہ آیا ہمیں نوکری یا رہائش یا صحت کی سہولت ملے گی۔‘

درخواست دہندگان وفاقی قانون کے تحت ہر خلاف ورزی پر حقیقی اور قانونی ہرجانے کی مد میں 100 سے 1,000 ڈالر جبکہ کیلیفورنیا کے قانون کے تحت ہر خلاف ورزی پر 10,000 ڈالر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ایرن کسلر کمپیوٹر سائنس کی گریجویٹ ہیں اور پروڈکٹ مینجمنٹ میں تقریباً 20 سال کا تجربہ رکھتی ہیں، مگر ایٹ فولڈ پلیٹ فارم کے ذریعے پے پال میں سینیئر عہدوں کے لیے درخواست دینے کے باوجود انہیں ایک بار بھی انٹرویو کے لیے نہیں بلایا گیا۔

سروتی بھومک بھی ایک پروجیکٹ مینیجر ہیں اور ایٹ فولڈ پلیٹ فارم کے ذریعے درخواست دینے کے صرف دو دن بعد ہی انہیں مائیکروسافٹ کی ملازمت سے خودکار طور پر مسترد کر دیا گیا۔

مقدمے کے مطابق بڑی کمپنیوں میں سے تقریباً دو تہائی امیدواروں کی چھان بین کے لیے ایٹ فولڈ جیسی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہیں، جبکہ 38 فیصد تک کمپنیاں درخواست دہندگان کی درجہ بندی اور میچ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر کا استعمال کرتی ہیں۔

درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایٹ فولڈ کا لارج لینگویج ماڈل ’دس لاکھ سے زائد ملازمتوں، دس لاکھ مہارتوں اور ہر قسم کی نوکری، پیشے اور صنعت میں کام کرنے والے ایک ارب سے زائد افراد کے پروفائلز‘ سے ڈیٹا حاصل کرتا ہے، جس کے بعد وہ ’استدلال‘ قائم کر کے ایسے پروفائلز تیار کرتا ہے، جو اس کے خیال میں درخواست دہندگان کی ’ترجیحات، خصوصیات، رجحانات، رویے، خیالات، ذہانت، صلاحیتوں اور اہلیتوں‘ کی عکاسی کرتے ہیں اور یہ سب کچھ درخواست دہندگان کے علم یا رضامندی کے بغیر کیا جاتا ہے۔

دی انڈپینڈنٹ نے اس معاملے پر ایٹ فولڈ سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کر رکھا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی